عوام کو جتنا ریلیف دے سکتے تھے دے دیا،حکومت

230
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہاہے کہ عوام کو جتنا ریلیف دے سکتے تھے دے دیا، اگلے چند ماہ میں مہنگائی کم ہونے کا امکان نہیں ہے۔پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ صرف پاکستان میں نہیں ہوا، پوری دنیا میں ہوا ہے، امریکا کی معیشت میں 10 فیصد کمی آئی ہے جبکہ بھارت کی معیشت بیٹھ گئی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ پنجاب اور سندھ اپنی ضرورت سے زیادہ گندم پیدا کرتے ہیں، گندم کی قیمت 1400 سے 1800 تک بڑھی جس سے آٹا مہنگا ہوا ہے۔ ان کے بقول دنیا بھر میں ہی اشیائے خور و نوش اور توانائی کے ذرائع بے پناہ مہنگے ہوچکے ہیں، پچھلے ایک سال میں کروڈ آئل کی قیمت میں 81 اعشاریہ 55 فیصد اضافہ ہوا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 17 اعشاریہ 55 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ایل این جی کی قیمت میں 135 فیصد اضافہ ہوا لیکن پاکستان میںگھریلو طبقے کے لیے گیس کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، عالمی منڈی میں خوردنی تیل میں 48 فیصد اور پاکستان میں 38 فیصد اضافہ ہوا، چینی کی قیمتوں میں دنیا میں 53 فیصد اور پاکستان میں 15 فیصد اضافہ ہوا، عالمی منڈی میں یوریا کی قیمت میں 67 فیصد جبکہ پاکستان میں 28 فیصد اضافہ ہوا۔اسد عمر نے کہا کہ ہماری حکومت نے دنیا کی نسبت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عوام کو ریلیف دیا، ایک سال میں پی ڈی ایل اور لیوی کی مد میں عوام کو اربوں کا ریلیف دیا گیا، احساس پروگرام کے ذریعے مستحقین کو 260 ارب روپے دیے جارہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ خوردنی تیل پر سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد جب کہ کسٹم ڈیوٹی 10 ہزار فی ٹن سے کم کر کے آدھا کیا جا رہا ہے، ٹیکسز میں کمی سے خوردنی تیل کی قیمتوں میں 50 روپے لیٹر تک کمی ہو گی، چینی کی فی کلو قیمت 90 روپے کرنے کا ہدف ہے، ٹارگٹڈ سبسڈی کا پروگرام لایا جا رہا ہے، جس کے تحت ایک ماہ بعد عوام کو ریلیف ملنا شروع ہو جائے گا۔ آئندہ سال مارچ سے جون تک اشیا کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔