حافظ نعیم الرحمن کا چیف الیکشن کمشنر کو خط،فوری بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ

114

کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبہ سندھ بالخصوص کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سندھ حکومت کے تاخیری حربوں اور ٹال مٹول کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کرے اور فوری بلدیاتی انتخابات کو یقینی بنائے۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ درخواست بھی کی ہے کہ جماعت اسلامی الیکشن کمیشن میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جاری کارروائی کا حصہ بن کر اپنا موقف پیش کرنا چاہتی ہے لہٰذاآئندہ کارروائی میں ہمیں بھی شرکت کی اجازت دی جائے اور مقررہ کردہ تاریخ سماعت سے آ گاہ کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیف الیکشن کمشنر و الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نام اپنے ارسال کردہ ایک خط میں کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خط میں مزید کہا ہے کہ محترم چیف الیکشن کمشنر صاحب ہم سمجھتے ہیں کہ آئین کے مقرر کردہ طریقہ کار کی روشنی میں اور الیکشن ایکٹ 2017 کی رو سے الیکشن کمیشن اس بات کا پابند ہے کہ بروقت بلدیاتی انتخابات کا اہتمام کرے جہاں تک حلقہ بندیوں کے لیے صوبائی نوٹیفیکیشن کا تعلق ہے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعات 221 تا 223 الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا مکمل اختیار دیتی ہے۔ اس کام کے لیے الیکشن ایکٹ کی دفعہ 222 الیکشن کمیشن کو ڈی لیمیٹیشن کمیٹی بنانے کا پابند کرتی ہے جو ہر ضلع میں وارڈز کی سطح تک یہ کام انجام دے گی اور ضلعی ریونیو ڈپارٹمنٹ کا تمام عملہ اس کمیٹی کی اعانت کا پابند ہے۔ اس صورت میں الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں کے معاملہ میں صوبائی حکومت کے سامنے بے بسی ظاہر کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں حکومت سندھ کو نوٹس جاری کرنے اور سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ہم بہت پر امید تھے کہ الیکشن کمیشن آئین پاکستان اور قوانین کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے شہریوں کو ان کا بنیادی حق فراہم کرے گا اور بلدیاتی انتخابات کا اہتمام کرے گا لیکن سندھ حکومت کو مزید ایک ماہ کی مہلت فراہم کرنے سے ہمیں مایوسی ہوئی ہے۔آئین کے آرٹیکل 32 اور 140-A نیز سندھ کا بلدیاتی ایکٹ 2013 اور الیکشن ایکٹ 2017 سب بلدیاتی نظام کو انتخابات کے نتیجے میں منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے چلانے کاواضح نظام فراہم کرتے ہیں۔ اس معاملہ میں الیکشن کمیشن ہی آئینی اور قانونی اختیار رکھتا ہے اور بلدیاتی انتخابات کرانے کا ذمے دار ہے۔محترم چیف الیکشن کمشنر صاحب پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں عام رائے دہی کے ذریعے حکومت کے انتخاب کو عوام کا بنیادی حق قرار دے چکی ہے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابات سے انکار اور اعتراض خواہ کسی بہانہ کی بنیاد پر ہو آئین پاکستان کی صریحاََ خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ کی جانب سے حلقہ بندیوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے انکار اس بنیاد پر ہے کہ وہ سندھ میں ہونیوالی مردم شماری کو ناقص اور غلط قرار دیتی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی مردم شماری کی بنیاد پر ہونیوالے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں نہ صرف پیپلز پارٹی نے حصہ لیا بلکہ ان انتخابات کے نتائج کی بنیاد پر سندھ میں صوبائی حکومت قائم کی اور اب یہی صوبائی حکومت ناقص مردم شماری کو بلدیاتی انتخابات سے انکار کی وجہ قرار دیتی ہے۔جماعت اسلامی بھی اس مردم شماری پر شدید تحفظات رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی دوبارہ فوری مردم شماری کے لیے بھرپور مہم چلارہی ہے اورسپریم کورٹ میں بھی دوبارہ مردم شماری کے لیے پٹیشن داخل کی ہوئی ہے۔لیکن ہم بلدیاتی انتخابات سے انکار اور فرار کے لیے صوبائی حکومت کے اس عْذر کو تسلیم کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہیں جس کی وجہ سے کراچی کے کروڑوں شہری اپنے بنیادی حقوق سے محروم کردیے گئے ہیں اور حکومت کے نامزد کردہ نااہل ایڈمنسٹریٹرز کی وجہ سے بدترین بلدیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ پوری کراچی کچرا خانہ بن چکا ہے، گٹر بہہ رہے ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کر کھنڈر بن چکی ہیں،گلیاں تاریک ہیں لیکن کراچی کے بلدیاتی نظام اور وسائل پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کے لیے سندھ حکومت مردم شماری کو آڑ بنائے ہوئے ہے اور اس مردم شماری کو درست کرنے کے لیے کوئی آئینی اور قانونی راستہ بھی اختیار نہیں کرتی۔وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین او ر قوانین کی رو سے وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کا نظام منتخب نمائندوں کے ذریعے چلانا طے کردیا گیا ہے۔آئین کے بنیادی ستون قرارداد مقاصد میں جس کو آئین کے آرٹیکل 2-A کے ذریعے آئین کا حصہ قراردیا گیا ہے واضح طور پرکہاگیا ہے مملکت اپنے اختیارات اور اختیار کو عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ اس وقت مملکت میں وفاقی اور صوبائی سطح پر جیسے تیسے انتخابات کے ذریعے لیکن عوام کی منتخب کردہ اسمبلیاں موجود ہیں اور ان کے ذریعے قومی اور صوبائی حکومتوں کا نظام چلایا جارہا ہے لیکن صوبائی حکومتیں عوام کو بلدیاتی نظام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلانے کا حق سلب کئے ہوئے ہیں اور اس پورے نظام کو نامزد کردہ سرکاری ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے چلایا جارہا ہے۔ صوبہ سندھ اور کراچی کے شہریوں کو حکومت سندھ نے مختلف حیلہ اور بہانوں سے گزشتہ 2 سال سے اس حق سے محروم کررکھا ہے۔