بھارت ،ہندوانتہا پسندی میں عدلیہ اور میڈیا بھی بی جے پی کے ساتھ ہیں

155

اسلام آباد (میاں منیر احمد) بھارت کے معاشرے کا ڈی این اے تبدیل ہوچکا ہے اور وہ اب ہندو انتہا پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے‘ بھارت کا میڈیا‘ وہاں کی عدلیہ سب بی جے پی کی ہندو انتہا پسندی کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں‘ کانگریس و دیگر اپوزیشن جماعتیں ہندوازم کو روکنے میں ناکام ہیں ‘ مودی پاکستان کارڈ بہت موثر طریقے سے استعمال کر رہا ہے‘بی جے پی بابری مسجد شہید ،کشمیر کی ریاستی حیثیت تبدیل اور شہریت کا قانون نافذ کرکے انتہا پسند طبقے کے نزدیک پسندیدہ جماعت بن گئی ہے‘ کانگریس ، دیگر جماعتیں ناکام ہوگئیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی وزیر مسلم لیگ (ض) کے صدر محمد اعجاز الحق، سینئر صحافی اور قومی اخبار کے سابق ایڈیٹر محمد اجمل خان، تجزیہ کار فاروق عادل، دفاعی اور سفارتی تجزیہ کار محمد عمران، فارماسیوٹیکل بزنس مین پرویز ذوالفقار، سفارتی تجزیہ کار مظہر طفیل،کشمیر یوتھ فورم اور آر آئی ایس ایس آر کے ڈائریکٹر جاوید الرحمن ترابی، مسلم لیگ (ج) کے صدر اقبال ڈار اورفیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے مرکزی رہنما اور جے یو آئی کے رہنما اسرار الحق مشوانی نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ’’بھارت میں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کا مقابلہ کرنے سے کیوں قاصر ہیں؟‘‘ اعجاز الحق نے کہا کہ بی جے پی نے بھارت کے اتنہا پسند ہندو طبقے کو باور کرادیا ہے کہ وہ بھارت کے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں‘ بی جے پی نے پہلے بابری مسجد کو شہید کر کے انتہا پسند طبقے میں اپنی جگہ بنائی پھر اس نے اقتدار میں آکر کشمیر سے متعلق اقدام اٹھایا ہے‘ شہریت کا قانون نافذ کیا اور اس طرح کے دیگر اقدامات سے وہ انتہا پسند ہندوئوں کے نزدیک ایک پسندیدہ جماعت بن گئی ہے‘ اسے وہاں کی اشرافیہ اور میڈیا کی بھی سپورٹ حاصل ہے‘ انتہا پسند ہندو طبقہ بھی اس سے خوش ہے‘ یہی وجہ ہے کہ اب کانگریس کے پاس صرف وہاں کے اقلیتی لوگ رہ گئے ہیں کہ جن کی وہ حمایت کرے اور ان سے اپنے لیے مدد چاہے مگر یہ کام اس کے لیے بھارت کے حالیہ حالات کے باعث مشکل دکھائی دے رہا ہے کیونکہ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتیں بھی دبائو میں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے لیے فی الحال کوئی چیلنج نظر نہیں آرہا۔ اجمل خان نے کہا کہ گجرات ریاست سے بھارتی مملکت کا تاج بننے کے لیے یقیناً جو دائو پیچ کھیلے گئے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ‘بی جے پی مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو کچلنے میں کامیاب رہی ہے‘ اس کے باوجود پوری دنیا میں بھارت کا چرچا رہتا ہے‘ بھارتی لابی ہر جگہ فاتح بن رہی ہے اور ہم صرف دفتر خارجہ کے ذریعے احتجاج کو ہی کافی سمجھتے ہیں‘ بھارت افغانستان سے نامراد ہو کرنکلا مگر اس کے سہولت کار ابھی تک اپنے جوہر دکھا رہے ہیں پاکستان کے خلاف بھارت، ایران اورافغانستان گٹھ جوڑ کبھی ڈھکا چھپا نہیں رہا وقتی طور پر کمزور پڑتا ہے مگر پاکستان دشمنی ختم نہیں کرتا۔ افغانستان میں طالبان حکومت سے پاکستان مخالفت میں شاید ہی کمی آئی ہے مگر جب بھی ان تینوں کی بیٹھک ہوئی تو پھر پاکستان دشمنی پروان چڑھنے لگے گی۔ انہوں نے کہا کہبی جے پی کٹر ہندو قوم پرستی (ہندوتوا) کی علمبردار ہے‘ 2014ء میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے گاندھی کا سیکولر بھارت کا نظریہ ختم ہو چکا ہے‘ بی جے پی نے ہندو انتہا پسندی کو جس عروج پر پہنچایا ہے وہ شاید رہتی دنیا تک جاری رہے گا‘ بی جے پی نے ہندو انتہا پسندی کو بھارت میں اتنا طاقتور کر دیا ہے کہ اس سے مسلمان، عیسائی اور دیگر اقلیتیں بھی غیرمحفوظ ہوگئی ہیں‘ ایسے میں کونسی سیاسی جماعت ہوگی جو اس ہندو انتہا پسندی کے آگے ٹک سکے گی‘ گجرات سے نئی دہلی تک کا سفر ہندو ازم کی پہچان ہے‘ آئین اور قانون سب کچھ بدل دیا گیا ہے ‘بھارت میں فوج کو ماتحت ادارے کی حیثیت حاصل ہے جب بھی فوج کو بزنس پارٹنر بننے کا درجہ ملا تو کایا پلٹ جائے گی ‘ مسلمان کی لاش کی بے حرمتی کرنے کی وڈیو وائرل ہونے پر عرب ممالک نے بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلادی لیکن ہم پاکستانی امن شانتی کے چکر سے ہی نکل نہیں سکے‘ ہمارے حکمران سوائے جھوٹ، کرپشن دھوکا اور فریب کے ملک و قوم کو کچھ نہ دے سکے تو وہ ہندو انتہا پسندی کا مقابلہ کس طرح کریں گے؟۔ فاروق عادل نے کہا کہ بی جے پی انتہا پسندی کا درس دے کر سیاست میں آگے تو آگئی ہے مگر اب نارمل زندگی کی طرف لوٹنا مشکل ہو گیا ہے‘اقلیتیں خوف کا شکار ہوگئی ہیں اور انہیں کوئی سیاسی جماعت تحفظ دینے کو بھی تیار نہیں ہے۔ محمد عمران نے کہا کہ بھارت کے عوام کا ڈی این اے ہی تبدیل ہوگیا ہے اور وہاں ہندو انتہا پسندی غالب آگئی ہے‘ کانگریس کی لیڈر شپ کی کمزوری اور سستی کے باعث اس کی سیاسی حیثیت اب بہت کمزور ہوچکی ہے اور وہ بی جے پی کو چیلنج نہیں دے رہی‘ بھارتی میڈیا، عدلیہ اور فوج یہ سب سیاست زدہ ہوچکے ہیں اور بی جے پی کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں‘بھارتی میڈیا بی جے پی کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے اور بی جے پی کے بجائے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ پرویز ذوالفقار نے کہا کہ بی جے پی پاکستان کارڈ کا نہایت بھر پور انداز سے گزشتہ 20 سال سے استعمال کر رہی ہے‘ ہماری حکومتوں نے جس پرچپ سادھ رکھی ہے اور کوئی خاطر خواہ توڑ نہیں کیا گیا۔ مظہر طفیل نے کہا کہ بھارت کی موجودہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مسلسل دوسری بار الیکشن جیت کر حکومت قائم کرنا اس بات کی جانب کھلا اشارہ ہے کہ اب بھارت میں سیکولر جمہوریت آہستہ آہستہ دم توڑتی جا رہی ہے‘ گائو ماتا کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کو نہ صرف ہر سطح پر تنہا کیا گیا بلکہ بدترین تشدد کا بھی نشانہ بنایا‘ کانگریس سمیت دیگرجماعتیں بی جے پی کے مقابلے میںانتہائی کمزور ہیں اور یہ سب چپ سادھے ہوئے ہیں‘ نریندر مودی بھارتی معاشرہ کو تقسیم کرنے اور ملک کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال کے باوجود اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ جاوید الرحمن ترابی نے کہا کہ بھارت کا معاشرہ اب ہندو انتہا پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے اسی لیے وہاں کے تمام اہم طبقے سب بی جے پی کی ہندو انتہا پسندی کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔ اقبال ڈار نے کہا کہ بھارت میں اب انتہا پسندی ہے کانگریس کے پاس کچھ نہیں رہا۔ اسرار الحق مشوانی نے کہا کہ اب بھارت میں سیکولر جمہوریت آہستہ آہستہ دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے ۔