سندھ ہائی کورٹ کا کم از کم اجرت پر تاریخی فیصلہ

193

سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو تنخواہوں کے تعین کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے تنخواہ کے آئندہ تعین تک مزدوروں کی تنخواہیں کم سے کم 25 ہزار روپے ماہانہ کا حکومتی فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا، عدالت نے تنخواہوں کے تعین کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔ جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ میں صوبے میں مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ 25 ہزار روپے مقرر کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔عدالت نے مختلف انڈسٹریز کی درخواستوں پر فیصلہ سنادیا۔عدالت نے ویج بورڈ کو کم سے کم تنخواہ کی سفارشات دوبارہ بھیجنے کا حکم دیا۔ اس سے قبل انڈسٹری مالکان کے وکیل بیرسٹر عابدزبیری نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے 25 ہزار روپے تنخواہ مقرر کرنے کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے اور دیگر صوبوں کے مزدور سندھ آئیں گے جبکہ صنعت کار دوسرے صوبوں کا رخ کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ پنجاب اور سندھ کے ایکسپورٹرز کے درمیان مسابقت ہے،صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ صنعتی یونٹس ہیں اور سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ سیکرٹری لیبر نے بتایا کہ ویج بورڈ کیلیے مستقل چیئرمین کی حیثیت سے تقرری کیلیے نام ارسال کردیا ہے لیکن اس عہدے پر تعیناتی کیلیے کوئی افسر تیار نہیں ہوتا۔کراچی چیمبر کے وکیل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ  25 ہزار روپے تنخواہ کے تعین کا حکومت کو اختیار نہیں۔ ایمپلائرز فیڈریشن کے وکیل خالد محمود صدیقی نے بتایا کہ حکومت کو ویج بورڈ کی سفارشات ماننا چاہئیں یا واپس بھیجنا چاہیے۔ انڈسٹری مالکان کے وکیل بیرسٹر عابدزبیری نے بتایا کہ حکومت نے متفقہ تنخواہ 19ہزار کا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا۔تنخواہ 1 لاکھ روپے ہوجائے تو اشیا کی لاگت بڑھ جائے گی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہمیں بھی اندازہ ہے کہ انڈسٹری مشکلات کا شکار ہوئی تو یہ تنخواہ بھی نہیں مل سکے گی۔ سرکاری وکیل علی صفدر نے عدالت نے بتایا کہ جب فریقین میں اتفاق نہیں ہوتا تو حکومت کو سامنے آنا پڑتا ہے۔حکومت کو اختیار ہے کہ وہ مزدوروں کے لیے جو مناسب سمجھے وہ تنخواہ مقرر کرے اورریاست سب شہریوں کیلیے ماں کی حیثیت رکھتی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے کہا کہ صوبے میں مزدوروں کی تنخواہ کے آئندہ تعین تک موجودہ حکومتی فیصلہ برقرار رہے گا اوربورڈ کے آئندہ فیصلے تک مزدوروں کی تنخواہیں کم سے کم 25 ہزار روپے ماہانہ رہیں گی۔