ڈاکٹر عبدالقدیر خان مزدور کی نظر میں

107

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتقال قومی سانحہ ہے اور ان کی قربانیوں کو پاکستان کا مزدور خراج تحسین پیش کرتا ہے اور آپ اپنے کارناموں کی بدولت تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
آپ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے محسن تھے مگر افسوس ہم اپنے محسن کی قدر نہ کر سکے۔ ڈاکٹر صاحب کا 13 اپریل 2012 کو تحریر کردہ انکا اپنا شعر انکے دردوں کی عکاسی کرتا ہے
گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے
ڈاکٹر عبدالقدیر نہ صرف جوہری ٹیکنالوجی بلکہ میزائل ٹیکنالوجی کے بھی بانی تھے مگر افسوس جو پروٹوکول پڑوسی ملک کے ایٹمی سائنسدان کو ملا اس طرح اعزاز ہم اپنے قومی ہیرو کو نہ دے سکے جس پر دل خون کے آنسو روتا ہے ہم نے بحیثیت قوم پاکستان بنانے والے قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ اور پاکستان بچانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان دونوں محسنوں کو جس طرح دنیا سے رخصت کیا اس پر ہم شرمندہ ہیں۔
جنرل اسلم بیگ نے اپنے دور میں پاکستان کے جوہری پروگرام کا آڈٹ کرایا‘ پتا چلا دس برسوں میں صرف 300 ملین ڈالر خرچ ہوئے ہیں اور اتنی رقم میں سو میگا واٹ کا پاور پلانٹ نہیں آتا‘ یہ اس لحاظ سے دنیا کا سستا ترین ایٹمی پلانٹ تھا‘ ہمیں یہ حقیقت بھی ماننا ہو گی ڈاکٹر عبدالقدیر نہ ہوتے تو پاکستان دنیا کی واحد اسلامی نیوکلیئر پاور نہ ہوتا لیکن 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے وقت انھیں جان بوجھ کر اگنور کیا گیا۔
یہ اس پراجیکٹ کے بانی تھے‘ یہ نہ ہوتے تو پاکستان کبھی جوہری منزل نہ پا سکتا لہٰذا یہ زیادہ عزت کے حق دار تھے‘ ہمیں ان پر جوہری راز بیچنے کا الزام نہیں لگانا چاہیے تھا اور یہ اگر مجبوری تھی تو پھر مجبوری ختم ہونے کے بعد ہمیں یہ داغ دھو دینا چاہیے تھا‘ ہمیں انھیں اس دھبے کے ساتھ دنیا سے رخصت نہیں کرنا چاہیے تھا‘ وہ ہمارے محسن تھے‘ قائداعظم کی طرح محسن‘ قائداعظم نے ملک بنایا تھا اور ڈاکٹر عبدالقدیر نے ملک بچایا تھا لیکن ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
ہم نے انھیں چور بنا کر دنیا سے رخصت کر دیا‘ دنیا میں آج تک جو آیا اس نے چلے جانا ہے‘ ڈاکٹر عبدالقدیر بھی 10 اکتوبر 2021کو چلے گئے لیکن آپ بے حسی دیکھیے‘ محسن پاکستان کے جنازے میں صدر تھے‘ وزیراعظم تھے‘ اپوزیشن لیڈر تھے اور نہ ہی سروسز چیفس تھے‘ کیا قومیں اپنے ہیروز کو اس طرح رخصت کیا کرتی ہیں؟ ڈاکٹر عبدالقدیر کی قبر پورے ملک سے یہ سوال کر رہی ہے ‘شاید اس اجتماعی بے حسی پر کوئی بول پڑے۔
وسیم بریلوی کے اشعار کے ساتھ اپنے تاثرات کا اختتام کرتا ہوں کہ
قطرہ اب احتجاج کرے بھی تو کیا ملے
دریا جو لگ رہے تھے سمندر سے جا ملے
ہر شخص دوڑتا ہے یہاں بھیڑ کی طرف
پھر یہ بھی چاہتا ہے اسے راستہ ملے
اس آرزو نے اور تماشا بنا دیا
جو بھی ملے، ہماری طرف دیکھتا ملے
دنیا کو دوسروں کی نظر سے نا دیکھیے
چہرہ نا پڑھ سکے تو کتابوں میں کیا ملے
دورِ منصفی میں ضروری نہیں ہے “فیض”
جس شخص کی خطا ہو، اسی کو سزا ملے۔
آخر میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا یہ تاریخی جملہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کے ہم بھوپالیوں میں 2 خاص چیزے ہیں
ہم میں کبھی کوئی غدار پیدا نہیں ہوا
ہم میں کبھی کوئی قادیانی نہیں پیدا ہوا