ٹنڈوالہیار ،مہنگائی نے مزدوروں کی زندگی اجیرن بنادی

121

ٹنڈوالہیار (نمائندہ جسارت) ملک میں پیڑولیم کی منصوعات میں بے تحاشہ اضافے نے سندھ سمیت ملک بھر میں ترقی کے سفر کو جام کردیا، غریب افراد 2 وقت کی روٹی کیلیے ترس گئے مکان کیسے بنائیں گے، مذکورہ مہنگائی کے سبب مزدور طبقہ شدید مشکلات میں مبتلا ہوگیا، حالیہ ہونے والی مہنگائی کے سبب سیمنٹ سمیت لوہا اور تعمیراتی کاموں میں استعمال ہونے والا خام مال مہنگا ہونے کے سبب روز کی مزدوری کمانے والے مزدور بے حال ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق سیمنٹ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا تسلسل جاری 2 ماہ کے دوران سیمنٹ ساز کمپنیوں نے فی بوری کی قیمت میں 200 سے 250 روپے اضافہ کردیا ہے،رواں ماہ 4 اکتوبر کو تمام سیمنٹ برانڈ پر 25 سے 30 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا اور صرف 13 روز بعد کل پھر تمام سیمنٹ کمپنیوں نے 25 روپے فی بوری اضافہ کردیا ہے۔ 2 ماہ قبل سیمنٹ کی بوری کی قیمت 600 روپے تھی جو کہ اب مسلسل اضافے کے بعد 800 سے 850 روپے تک فروخت کی جارہی ہے۔ سیمنٹ کی موجودہ قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو سیمنٹ کی بوری کی قیمت 1000 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اسٹیل مصنوعات بجری اور اینٹوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، تعمیراتی ساز و سامان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد اس شعبے سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب حکومتی وزرا عوام کو اپنے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھا کر بیوقوف بنا رہے ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام اسی طرح خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہے گی جبکہ اس مہنگائی کے سبب سندھ سمیت ملک بھر میں ترقیاتی کاموں سفر مانند پڑگیا ہے۔