سعودی ایران تعلقات میں نرمی

187

ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ تعلقات پر جمی برف پگھلتی دکھائی دے رہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ تہران اور ریاض نئے تعلقات کی شروعات کر دیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ دونوں ممالک قریبی اتحادی بن سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں علاقائی حریف سمجھے جانے والے سعودی عرب اور ایران کے درمیان گزشتہ 5 برس کے مقابلوں میں اس سال کئی زیادہ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر دونوں ملکوں کے مندوبین 4 مرتبہ بغداد میں اور پھر ایک مرتبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران نیویارک میں ملے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تہران اور ریاض کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
2016ء میں سعودی عرب کی جانب سے شیعہ مبلغ آیت اللہ نمر النمر کو سزائے موت دی گئی تھی جس کے نتیجے میں ایران میں سعودی سفارت خانے پر مشتعل ایرانی مظاہرین نے حملہ کردیا تھا۔ اس کے بعد ریاض حکومت نے تہران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے۔ اس کے علاوہ شام، یمن اور لبنان میں جاری علاقائی تنازعات میں دونوں ممالک مسلسل ایک دوسرے کی مخالفت میں متحرک رہے ہیں۔ اس پس منظر میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے یہ کہنا کہ’’ایران کے ساتھ بات چیت باہمی اعتماد پیدا کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو بحال کرنے میں ٹھوس نتائج کی طرف لے جائے گی‘‘ ایک نئی پیش رفت ہے۔
جرمن شہر ’’بون‘‘ میں کارپور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ایرانی امور کے ماہر عدنان طباطبائی کہتے ہیں ’’فی الحال یہ ایک مثبت اشارہ ہےکہ بات چیت جاری ہے اور اسے روکا نہیں گیا، تاہم اگر ہم تہران اور ریاض کے نقطہ نظر کا موازنہ کرتے ہیں تو تہران مثبت نتائج کے لیے زیادہ پراعتماد دکھائی دے رہا ہے۔‘‘
ایران کے مفادات
امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں اور ناقص اقتصادی صورتحال کے باوجود تہران حکومت کو لگتا ہے کہ وہ ایک مضبوط پوزیشن میں ہے۔ طباطبائی کے بقول ’’یہ ایک علاحدہ بحث ہے کہ یہ بات درست ہے یا نہیں، لیکن ایران کا سب سے بڑا مفاد خطے میں تجارتی تعلقات کو بڑھانا ہے۔‘‘ دوسری طرف سعودی عرب، مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا ملک اور مصر کے بعد عرب دنیا میں آبادی کے اعتبار سے دوسری بڑی ریاست ہے۔ ایران کی تباہ کن معیشت کے لیے سعودی عرب ایک خوش آئند کاروباری شراکت دار ثابت ہوسکتا ہے۔
لندن میں چیتھم ہاؤس نامی تھنک ٹینک میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا پروگرام کی ڈپٹی ڈائریکٹر صنم وکیل کہتی ہیں ’’دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی خطے میں یہ پیغام بھی دے گی کہ ایران ایک علاقائی طاقت ہے جس کا ہمیں مقابلہ کرنا چاہیے۔‘‘
سعودی عرب کے اہداف
وکیل کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنے وژن 2030ء کے حوالے سے ملک کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے اور وہ یہ ہدف ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی ہی کے ذریعے حاصل کرسکتا ہے۔ سعودی عرب کے وژن 2030ء کے منصوبے سے مراد ملک میں معیشت، دفاع، سیاحت اور قابل تجدید توانائی کے حوالے سے حکمت عملی میں اصلاحات ہیں۔
سعودی عرب اپنے عسکری اتحادیوں کے ساتھ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں باغیوں کے خلاف یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ریاض حکومت تہران پر حوثی باغیوں کو اسلحہ اور ڈرونز فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کرتی ہے۔ اس کے جواب میں ایران کہتا ہے کہ وہ یمن میں باغیوں کی محض سیاسی حمایت کرتا ہے۔ چیتھم ہاؤس سے منسلک صنم وکیل اس بارے میں کہتی ہیں کہ ایران کو یمن میں جنگ بندی کی عوامی حمایت کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میں اس کے بغیر بات چیت کے عمل کو حتمی نتائج کی جانب بڑھتے ہوئے نہیں دیکھ رہی۔‘‘
مذکرات کی وجوہات
تہران اور ریاض کے درمیان ان مذاکرات کی بحالی کی کئی وجوہات سامنے آرہی ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے ابھی تک اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم نہیں کیے اور اس عمل کو ایران میں ایک مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔اس کے علاوہ سعودی عرب شامی صدر بشارالاسد کو عرب لیگ میں دوبارہ شامل کرنے کا بھی حامی ہے۔ ایران نے اس کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔ اُدھر سعودی عرب کے قریبی اتحادی متحدہ عرب امارات نے بھی خاموشی سے ایران کے ساتھ تناؤ میں نرمی اختیار کی ہے۔
صنم وکیل کے مطابق تناؤ کے کئی برس کے بعد دونوں ممالک کو اکٹھا کرنے کے پیچھے کافی وجوہات ہیں۔ ریاض حکومت کے پاس اپنی جیوپولیٹیکل پالیسی پر نظرثانی کی ایک اور اچھی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں اپنے آپریشن جاری رکھنے سے کنارہ کشی اختیار کر رہی ہے۔ اب افغانستان کے بعد، ان کے پاس اس بات کی تصدیق ہے کہ امریکا خطے میں اپنے شراکت داروں کی حفاظت میں دلچسپی، سرمایہ کاری اور زیادہ حد تک آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
خطے میں تبدیلی کی فضا
طباطبائی نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات کے درمیان برف پگھلنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حال ہی میں ریاض میں موجود تھے اور وہاں ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک متفقہ مثبت رائے پائی جاتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی وفد کی جانب سے تہران میں اپنے سابقہ سفارتی دفاتر کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ طباطبائی کے بقول ’’میں نہیں سمجھتا کہ فورا دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے سفیر تعینات کر دیے جائیں گے لیکن سفارتی دفتر کا قیام ممکن ہوسکتا ہے اور یہ فی الحال ایک بہت ہی مثبت قدم ہوگا۔‘‘
مذاکرات میں سعودی سنجیدگی
تازہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ با ت چیت کے لیے سنجیدہ ہے۔ ایک دیگر عہدیدار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جدہ میں ایرانی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے پر غور کر رہا ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے برطانوی روزنامے فائنانشیل ٹائمز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اب تک ہونے والی بات چیت خوشگوار رہی ہے اوراس کی نوعیت بڑی حد تک ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم بات چیت کے سلسلے میں سنجیدہ ہیں۔ ہمارے لحاظ سے یہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ اس خطے میں استحکام کے لیے راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے بہت سارے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے یہ بالکل مناسب وقت ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اپریل سے اب تک 4 دور کی بات چیت ہوچکی ہے۔ اس میں گزشتہ ماہ نئے صدر ابراہیم رئیسی کی حکومت کے ساتھ ہونے والی پہلی بات چیت شامل ہے۔ اس دوران سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن سے ملاقات کی اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کے موقف کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں باہمی دلچسپی اور مختلف محاذوں پر اسٹریٹیجک پارٹنرشپ اور تعاون کو مستحکم کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کی۔فیصل بن فرحان نے واشنگٹن میں قیام کے دوران ایران کے لیے امریکا کے خصوصی سفیر رابرٹ میلی سے بھی ملاقات کی اور بین الاقوامی جوہری معاہدے کے حوالے سے ایران کی خلاف ورزیوں کے خلاف مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔