مفادات کی جنگ اور تارکین وطن کا بحران

167

1918ء میںاسپینش فلونے دنیا بھر میں 2تا 10 کروڑافرادکوموت کے گھاٹ اتارا۔ اس فلوکویہ نام اس لیے دیاگیاتھاکہ اسپین پہلی عالمی جنگ میں شریک نہ تھا۔ مغرب کی جو دوسری قوتیں پہلی عالمی جنگ میں شریک تھیں انہوں نے عسکری مقاصد کے لیے اسپینش فلو سے ہونے والی ہلاکتوں کے حقیقی اعدادوشمارچھپانے کوترجیح دی۔ اس خوف سے کہ دشمن حکومتیں فلوسے ہونے والی ہلاکتوں کے اعدادوشمارکواپنے حق میں استعمال کریں گی۔ مغرب کے بہت سے ممالک نے صحافت کی آزادی پربہت حدتک قدغن لگائی۔پہلی عالمی جنگ کے بیشتر مغربی شرکاکے ہاں اخبارات اس معاملے میں خاموش رہے۔ ہسپانوی اخبارات نے فلوکے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کے اعدادوشماربیان کرنے میں تساہل سے کام لیا نہ ہچکچاہٹ دکھائی۔ ہسپانوی اخبارات نے تویہ بات بھی نہ چھپائی کہ خودہسپانوی بادشاہ بھی فلوکاشکارہوئے ہیں۔اس کے نتیجے میں پوری دنیامیں اس فلوکواسپینش فلوکانام دیا گیا ۔
پریس کی آزادی کو 1776ء سے1850ء کے دوران تحریرکیے جانے والے ہردستورمیں کسی نہ کسی طورشامل کیاگیا۔اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ بہترحکمرانی کے لیے پریس اور اظہارِرائے کی آزادی کوکس قدراہم گرداناجاتاتھا۔یہ معاملہ تھاپہلی عالمی جنگ کے موقع کا۔ ایک صدی بعدبھی حالات کچھ خاص نہیں بدلے ہیں۔کیاآپ بھول گئے ہیں کہ ٹرمپ نے کوروناوائرس کوچائنا وائرس اورووہان وائرس قراردینے میں ذرابھی دیرنہیں لگائی تھی۔ بے بنیادالزام تراشی کارجحان آج بھی عام ہے۔یہ چلن ختم ہونے کانام نہیں لے رہا۔ ٹرمپ نے جو بڑھکیں ماریں، اس نے ان کے حامیوں کونمایاں حدتک متاثر کیا۔ چین کانام لینے کامطلب تھاکوروناوائرس کاالزام ایشیائی باشندوں کے سر منڈھنا۔ ٹرمپ کے ریمارکس کے بعدامریکامیں ایشیائی باشندوں پرحملوں کاسلسلہ شروع ہوگیا۔جن پرحملے کیے گئے وہ ایشیائی نسل کے باشندے امریکی شہری ہی تھے۔کسی بھی بڑی بیماری یا وباکوسیاسی بنیادپرکسی ایک گروہ،نسل،معاشرے،قوم یاملک سے منسوب کرنے کی رذیل مشق نے امریکا میں بھرپوراثرقائم کیا۔
مختلف ادوارمیں مختلف بیماریوں اوروباؤں کوعلامتی طورپرمعاشروں،اقوام یاممالک سے جوڑاجاتارہاہے۔عام طورپرایساکرنے کامقصد تشریح یقینی بناناہوتاہے۔بیشترمعاملات میں یہ محض علامتی معاملہ ہوتاہے۔سوزین سونٹیگ کہتی ہیں کہ علامت یا کنایہ دراصل اس بات کا نام ہے کہ کسی چیزکوایسانام دیاجائے جودراصل کسی اورچیزسے جڑاہواہو۔سوزین خودبھی کینسرکی مریضہ تھیں اس لیے وہ ایک اہم نتیجے تک پہنچیں۔انہوں نے یہ سمجھاکہ علامات اوراشارے وکنایے معاشرے کی کسی بھی ہلاکت خیزبیماری سے نمٹنے کے عمل میں مریضوں کومطعون کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سوزین نے کینسر،ایڈزاورتپِ دق کوبیسویں صدی کی بیماری قراردیا۔
امریکامیں کوروناکی وباکے غیرمعمولی پھیلاؤ کے لیے جنوبی سرحد (میکسیکو) کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا۔ یہی وہ سرحدہے جہاں (میکسیکوکے) لاکھوں غریب، افلاس اور تشدد سے نجات حاصل کرنے کے لیے سرحد عبور کرنا چاہتے ہیں۔ امریکامیں مین اسٹریم میڈیاکے ذریعے جان بوجھ کریہ تاثردیاجارہاہے کہ میکسیکوکے باشندے کورونا سے نجات کے لیے امریکاآناچاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ترکِ وطن کے بنیادی اسباب غربت اورتشددہیں۔
ٹرمپ نے ایسی کیفیت پیداکی جس میں میکسیکوسے آنے والوں کے لیے عام امریکیوں کے دلوں میں شدیدناپسندیدگی،بلکہ نفرت پیداہوئی۔ کوشش یہ تھی کہ عام امریکی میکسیکوکے تارکینِ وطن سے اتنی نفرت کرے کہ ان کی آمدقبول کرنے کے لیے تیارنہ ہو۔ ری پبلکن پارٹی کے بیشترکارکنوں اور رہنماؤں کاطریقِ واردات یہ ہے کہ ہم اقتدارسے باہرضرورہیں مگر لوگوں کو ڈرا تو سکتے ہیں۔ جنوبی کیرولائناکی سیاسی قیادت نے معاملات کومزید بگاڑا۔ سینیٹر لنزے گراہم اوران کے ہم خیال لوگوں نے میکسیکوکے تارکینِ وطن کے خلاف فضا تیارکرنے میں غیرمعمولی دلچسپی لی۔ لنزے گراہم آج کل بہت بدحواس سے ہیں۔ اس کاسبب یہ ہے کہ وہ پہلے کی طرح یہ بڑھک تونہیں مارسکتے کہ وہ امریکی صدرکے ساتھ گولف کھیلتے ہیں۔ اب وہ خودکوبادشاہ گرکے طورپربھی پیش نہیں کرسکتے۔
وہ ٹرمپ کے ساتھ سائنس اورصحتِ عامہ کے حوالے سے محاذکھولے بیٹھے ہیں۔ سینیٹرلنزے گراہم نے حال ہی میں متعدی امراض کے معروف ماہرڈاکٹرفوشی پربھی تنقیدسے گریز نہیں کیا، جنہوں نے سابق امریکی صدرکے تحت بھی کام کیااوراب کوروناکے معاملات میں مرکزی مشیرکی حیثیت سے صدرجوزف بائیڈن کے ماتحت بھی قوم کی خدمت کررہے ہیں۔ سینیٹرلنزے گراہم نے ڈاکٹروں سے کہاہے کہ وہ میکسیکن سرحدپرجاکردیکھیں کہ کوروناکی وبااِتنی تیزی سے کیوں پھیل رہی ہے۔ان کا کہناہے کہ وہاں غیرقانونی تارکینِ وطن کوگرفتارکرکے تنگ مقامات پرساتھ رکھاجارہاہے۔اس کے نتیجے میں کوروناکی وبامزید تیزی سے پھیل رہی ہے۔یہ سب کچھ ٹیکساس میں ہورہاہے۔وہ یہ ساری باتیں اس لیے کہہ رہے ہیں کہ امریکامیں لوگ وسطی امریکاسے آنے والوں کے حوالے سے انتہائی محتاط ہوجائیں۔
امریکی نائب صدرکملاہیرس کو ایک مشکل صورتِ حال کاسامناہے،جوان کے کام کومشکل تربنارہی ہے۔ وہ لاطینی امریکاکے رہنماؤں پر زوردے رہی ہیں کہ وہ کورونااوردیگر معاملات پرایسی پالیسی اپنائیں جوسب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ وہ اس حوالے سے بریفنگز لے رہی ہیں۔ رپورٹس کا مطالعہ کررہی ہیں۔ یہ ایک مشکل کام ہے جوایک خاتون کوسونپا گیا ہے۔کملاہیرس اچھی طرح سمجھتی ہیں کہ دنیاکاامیرترین ملک ہونے کے ناطے امریکاکے پاس ایک اچھاموقع ہے کہ دنیاکودکھائے کہ ایک بڑے بحران کاپامردی سے سامناکس طورکیاجاتاہے۔
تارکینِ وطن اورپناہ گزین کیمپوں کے حوالے سے صرف امریکاکومطعون نہیں کیاجاسکتا۔کئی دوسرے ممالک کوبھی اس حوالے سے پریشان کن حالات کاسامنارہاہے۔چین کی مثال بہت نمایاں ہے جس کی سرحد میانمرسے ملتی ہے۔ میانمرمیں سیاسی انتشاربہت زیادہ ہے۔ وہاں سیاسی خرابیوں کاگراف بلندسے بلند تر ہوتا جا رہا ہے۔ افغانستان اور شام میں جاری جنگوں کے باعث یورپی یونین کوبھی تارکینِ وطن کے حوالے سے بحران کاسامنا رہاہے۔ افریقا میں بھی خوراک اورتوانائی کے حوالے سے صورتِ حال تیزی سے بگڑتی جارہی ہے۔ایسے میں سوچاجاسکتاہے کہ یورپ کوآنے والے عشروں میں افریقا سے بھی بہت بڑی تعدادمیں تارکین وطن کاسامناہوسکتاہے۔
اس وقت دنیاکوجن مشکلات کاسامناہے ان کے حوالے سے الزام تراشی سے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حقیقت پسندی کامظاہرہ کرتے ہوئے ہروہ کام کیاجائے جودنیاکومشکلات سے نکالنے کے لیے ناگزیر ہو۔ ہر ریاست کے اپنے مفادات ہوتے ہیں مگریہ وقت اپنے اپنے مفادات کوایک طرف ہٹاکرپوری دنیاکے مفادکوذہن نشین رکھنے کا ہے۔ امیدرکھی جانی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ امریکی سیاست میں دیانت کوبرقراررکھنے کے لیے فطری علوم کی بنیادپرسامنے آنے والے حقائق کی ضرورت محسوس کریں گے۔ ایک بات کاتمام امریکیوں کویقین ہوناچاہیے کہ ٹرمپ نے جوتنگ نظری متعارف کرائی ہے اس نے امریکاکوشرمندہ اور کمزور کیا ہے۔