ڈاکٹر عبدالقدیر ہم شرمندہ ہیں

339

پاکستان اور عالم اسلام کو پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنانے والے عالم اسلام کے عظیم سپوت اور پاکستان کے ممتاز جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے آٹھ سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ لگا کر دنیا کو حیران اور پریشان کر دیا تھا۔ وہ محسن پاکستان ہی نہیں محسن ملت اور عالم اسلام کے عظیم ہیرو تھے۔ انہوں نے عیش شان وشوکت کی زندگی کو لات مار کر ملک وقوم کے لیے عظیم قربانی دی۔ پرویز مشرف نے امریکا کے اشارے پر ان کی توہین بے عزتی کی لیکن انہوں نے ملک وقوم کے عظیم تر مفاد میں یہ کڑوا گھونٹ پیا، انہیں ٹی وی پر مجرم کے طور پر پیش کیا گیا اور معافی نامہ پڑھوایا گیا ان پر دوسرے ممالک کو یورنیم منتقل کرنے کامن گھڑت الزام لگا کر انہیں ہی ملک وقوم کو بھی بدنام کرایا گیا۔ پرویز مشرف اقتدار کے نشے اوراپنے غرور، تکبر میں آپے سے باہر ہوگئے تھے۔ لیکن آ ج غرور اور تکبر بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑ رہا ہے اور موت بھی اس ناہنجازکے قریب نہیں آرہی۔ آج مگر مچھوں کی طرح آنسو بہانے والے وہ وقت بھول گئے جب ٹی وی ایوارڈ کی تقریب میں اگلی نشست پر بیٹھے ہوئے قوم کے عظیم ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر کو شیخ رشید نے یہ کہ کر اٹھا کر پچھلی نشست پر بٹھایا کہ یہ نشستیں وزراء کے لیے ہیں۔ بے شک ہم احسان فراموش قوم ہیں ہم نے پاکستان بنانے والے اپنے قائد کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق ذوالفقار علی بھٹوکو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ہندوستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کے خالق ابو لکلام کو مسلمان ہونے کے باوجود اپنے ملک کا صدر بنا دیا اور ہم اپنے عظیم ہیرو پر ساری زندگی سنگ زنی کرتے رہے جس شخص نے ہماری حفاظت کا سامان پیدا کیا ہم نے اسے جیل میں ڈال دیا۔ آج آزادی کے ساتھ سانس لینے والے 20کروڑ عوام ہی نہیں ان کی آنے والی نسلیں بھی ڈاکٹر قدیر خان کے مقروض ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی ساری زندگی صبروتحمل کے ساتھ زندگی گزاری اور کسی سے کوئی شکوہ تک نہیں کیا۔ پڑوس میں اپنے سے سات گنا بڑے دشمن کی ناک میں ایسی نکیل ڈالی ہے کہ وہ آج ہماری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔
28مئی 1998کو چاغی میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کی اجازت سے چھ کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے ساری دنیا سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی سربراہی میں پاکستان کے دفاع اور سلامتی کے لیے جو کام کیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پر 1976میں 15برس یورپ میں رہنے کے بعد اپنا تابناک مستقبل چھوڑ کر وہ ملک وقوم کی خدمت کے جذبے سے ہمیشہ کے لیے پاکستان آگئے اور انہوں نے 31مئی 1976 میں انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینم کی افزدوگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار کلو میٹر تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت کم اور درمیانی رینج تک مار کرنے والے متعدد میزائل سمیت کم اور درمیانی رینج تک مار کرنے والے متعدد میزائل تیار کرنے میں اس ادارے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ غلام اسحاق خان انسیٹیوٹ کی ڈوپلیمنٹ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا۔ فوجی آمر کے جبر اور ناروا سلوک کی بدولت انہوں نے آخری ایام انتہائی دکھ اور مایوسی میں گزارے اور ان کی تذلیل کی گئی لیکن پوری امت مسلمہ صدیوں اپنے اس قومی ہیرو اور ان خدمات کو یاد رکھے گی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آج ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی ٹیم کہوٹا ایٹمی پلانٹ میں اسی جوش اور جذبے کے ساتھ کام کر رہی ہے جس طرح ان کی قیادت میں کیا جاتا تھا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے وہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو محفوظ اور خود کو سرخرو کرکے اپنے خالق حقیقی کے سامنے پیش ہوگئے ہیں۔ قائد اعظم کی رحلت کے بعد پاکستان کی قوم دوسری بار ایک بڑے غم اور صدمے کی حالت میں ہے اور امت مسلمہ کے حقیقی ہیرو جس نے اپنی قوم کو سینہ تان کر چلنے کا راستہ دیکھایا، ہمارا محسن، فخر پاکستان، فخر اسلام اپنوں کے گلے شکوے اور الزام تراشیاں سن سن کر اب ابدی نیند سو گیا ہے۔ ایک کمزور قوم کو ایٹم بم کا تحفہ دینے والا صلہ کی آرزو ستائش کی تمنا لیے بغیر جہان فانی سے کوچ کرچکا ہے۔ زندگی میں تو ہم نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قدر نہیں کی، ان کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا اور انہیں اپنی دونوں بچیوں سے ملنے بھی نہیں دیا جاتا تھا۔ آ ج ہم ان کی وجہ سے پاکستان میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں لیکن ہم نے بحیثیت قوم اپنے قومی ہیرو کو وہ عزت نہیں دی جس کا وہ مستحق تھا۔ ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مقروض ہیں ہم نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا پوری اس پر نادم ہے۔ ڈاکٹر قدیر آپ ہمیں معاف کر دینا ہم نے آپ کی قدر نہیں کی۔ بش کے ایک اشارے پر ہمارا بزدل جنرل ڈھیر ہوگیا تھا۔ بجائے اس کہ وہ آپ کو اپنے سر کا تاج بناتا وہ تو آپ کو عافیہ صدیقی کی طرح امریکا کے حوالے کرنے پر بھی راضی ہوگیا تھا اور اس سلسلے میں ایک طیارہ اسلام آباد ائر پورٹ پر بھی لینڈ کر چکا تھا لیکن کچھ لوگوںکی مداخلت پر انہیں امریکا کے حوالے کرنے کے بجائے گھر میں نظر بند کیا گیا اور کسی نے ان کے لیے آواز نہیں اٹھائی۔ آ ج ڈاکٹر قدیر قیدوبند کی تمام صعوبتوں سے نجات حاصل کرکے رب کی رحمتوں کے سائے جا چکے ہیں لیکن ہماری آزمائش ابھی باقی ہے۔ ڈاکٹر قدیر ایک عرصے سے بیمار اور پریشان تھے کسی کو توفیق نہیں ہوسکی کہ وہ ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھاتا اور انہیں قیدوبند کی صعوبتوں سے آزاد کیا جاتا۔ ان کے انتقال پر ٹسوے بہانے والے اور ان اداکاروں، فنکاروں اور وزراء کو عوام اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ کی جانے والی ظلم وزیادتی قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا صبر ایک دن ضرور رنگ لائے گا۔ بے شک پاکستانی قوم احسان فراموش ہر گز نہیں ہے ملک پر مسلط طبقہ ہی احسان فراموش ہے جس نے قوم اور عالم اسلام کے عظیم ہیرو اورشان پاکستان کو زندہ درگور کر دیا تھا اور اب قوم کو دھوکا دینے کے لیے ٹسوے بہا رہے ہیں۔