پاپڑ بیلنے والے

263

دنیا میں ایسا کوئی کام نہیں جسے قواعدو ضوابط کے بغیر اچھی طرح سرانجام دیا جاسکے مثلاً روٹی ہماری زندگی کا لازمی جزو ہے اس کے بغیر عام پاکستانی زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتا مگر روٹی پکانے کے جو قواعدو ضوابط مرتب کیے ہیں ان پر عمل کیے بغیر اچھی روٹی نہیں پکائی جاسکتی، اگر قواعدو ضوابط پر عمل نہ کیا جائے تو روٹی کھانے کے قابل نہیں ہوتی اور اسے چھان بور میں ڈال دیا جاتا ہے، اسی طرح ہر ادارہ ایک مخصوص انداز میں قواعدو ضوابط کے تحت ہی چلاجاتا ہے مگر جب قواعدو ضوابط کو نظر انداز کرکے اپنی مرضی کے تحت چلایا جائے تو کسی بھی ادارے کو ملک و قوم کی بھلائی کا مظہر نہیں کہا جاسکتا ہے دنیا بھر کے دانشوروں کا کہنا ہے جس ملک کی عدلیہ انصاف کی فراہمی پرعمل درآمد نہیں کرتی دیگر اداروں کی کارگردگی بھی بے معنی ہوجاتی ہے سیانوں سے سچ ہی کہا ہے کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے جمہوری ادارے بے لگام ہوجاتے ہیں ملک غیرمستحکم اور عوام افلاس کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں جسٹس صاحبان سماج میں گھل مل جائیں تو ان میں اور عوام میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ اور عدلیہ بے وقار ہوجاتی ہے جس ملک کی عدلیہ پروٹوکول کی عادی ہوجائے اس ملک میں انصاف کی دیوی بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت سے بھی محروم ہوجاتی ہے اور یہ محرومی ڈلیوری سے بھی محروم کردیتی ہے۔
گزشتہ دنوں جسٹس عیسیٰ فائز نے صحافیوں کی حق تلفی جیسے کسی معاملے پر ازخود نوٹس لیا تھا جسے عدالت عظمیٰ نے محض اس لیے ناقابل سماعت بنا ڈالا کہ ازخود نوٹس کا حق صرف چیف جسٹس آف پاکستان کو ہے کسی دوسرے جسٹس کا ازخود نوٹس چیف جسٹس کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جسٹس عیسیٰ فائز کے نوٹس کو محض اس لیے واپس کرنے کا حکم صادر کردیا گیا کہ وہ چیف جسٹس نہیں مگر ہمیں آج تک کسی جسٹس کو یہ سوچنے کی توفیق نہ ہوئی کہ جعلی مقدمات کی سماعت کیوں کی جاتی ہے۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان جعلی مقدمات کو اپیل در اپیل کے شیطانی چکر کی کھلی چھوٹ کیوں دی گئی ہے قابل غور امر یہ بھی ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے جعل سازوں کی پشت پناہی کیوں کی جاتی ہے حالانکہ عدلیہ کی اہم اور بنیادی ذمے داری شہریوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہے مگر یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ بہت سے جسٹس اور چیف جسٹس یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایسی عدالتی ناانصافی ہے جو پاکستان کے سوا دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہوتی۔ یہ کیسی بدنصیبی اور کیسا المیہ ہے کہ جسٹس صاحبان کہتے ہیں کہ جعلی مقدمات کی سماعت عدالتی جرم ہے۔ اس اعتراف کے باوجود جج اور جسٹس صاحبان بڑے دھڑلے اور دیدہ دلیری سے ایسے مقدمات کی سماعت کررہے ہیں۔
یہاں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے اس کا ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا شاہد بعض لوگوں کا یہ کہنا حقائق پر مبنی ہے کہ جب تک پلاٹ اور پرمٹ کے نظام پر کوئی بہترطریقہ نہیں اپنایا جاتا عدالتیں جعلی مقدمات کی سماعت کرتی رہے ہیں اور اپیل دراپیل کا شیطانی نظام بھی برقرار رہے گا۔ مگر ایسا کون کرے گا کیونکہ کالج اور یونی ورسٹیوں سے فارغ التحصیل وہاں سے علم حاصل کرنے سے زیادہ عوام کو اذیت دینے کے طریقے سیکھتے ہیں یہ عام مشاہدہ ہے کہ یونی ورسٹیوں میں ملازمتوں کی آسامیاں نکلتی ہیں جن کی درخواست دینے کے لیے سیکڑوں اور ہزاروں روپے تک فیس جمع کرائی جاتی ہے مگران ملازمتوں پر پابندی لگا کر فیس واپس نہیں کی جاتی۔
عدالت عظمیٰ نے متاثرہ صحافیوں کو یقین دلایا ہے کہ انہیں مایوس نہیں کیا جائے گا۔ جسٹس عیسیٰ فائز کا حکم نامہ اس لیے واپس لیا جارہا ہے کہ درخواست دائرکرنے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اور اس پرعمل کرنا ضروری ہوتا ہے درخواست دائر ہونے کے بعد رجسٹرار آفس میں جاتی ہے جہاں رجسٹرار یا ڈپٹی رجسٹرار نمبر لگاتا ہے پھر آگے کی کارروائی ہوتی ہے اگر درخواست طے شدہ طریقے کے مطابق ہوتی تو اس معاملہ مختلف ہوتا تو اس کا جائزہ لیا جاتا۔ اور درخواست واپس نہیں لی جاتی عدالت عظمیٰ نے یہ یقین بھی دلایا ہے کہ وہ صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے یہاں یہ بات قابل غورہے کہ جو بھی عوام سے کندھے سے کندھا ملاتا ہے کندھے عوام ہی کے زخمی ہوتے ہیں اور جہاں تک دائر ہونے والی درخواستوں کا رجسٹرار یا ڈپنی رجسٹرار کا نمبر لگانے کا تعلق ہے۔ تو اس بات پر یقین کرنا عقل و دانش کی توہین ہے کیونکہ جو مقدمات عدم ثبوت کی بنیاد پر سول کورٹ اور سیشن کورٹ سے خارج ہوجاتے ہیں ہائی کورٹ کا ڈپٹی رجسٹرار یا رجسٹرار اس کا نمبر لگا کر سماعت کے لیے پیش کردیتے ہیں مگر کسی جسٹس کو توفیق نہیں ہوتی کہ جو مقدمات عدم ثبوت کی بنیاد پر خارج ہوئے ہیں انہیں کیوں پیش کیا گیا ہے۔ جن مقدمات کو ناقابل سماعت قرار دیا جاتا ہے ان کی اپیل کیوں منظورکی جاتی ہے مگر المیہ یہی ہے کہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار یا ڈپٹی رجسٹرار وکلا تنظیموں کی خوشنودی کے لیے خوشنودی بیگم بن جاتے ہیں اور پھر مدعا علیہ یا مدعی کی کئی نسلیں ہائی کورٹ کے فیصلے کے انتظار میں مرکھپ جاتی ہیں اور نظام عدل کے کرتا دھرتا ’’عدلیہ کھپے‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔ حالات و واقعات گواہ ہیں یہ کھپے کا نعرہ مرکھپے کا مخفف ہوتا ہے مگر اس پر غور کرنے کے بجائے فخرکا احساس دلایا جاتا ہے یہ کیسا ظلم ہے کہ اکثر جسٹس صاحبان left over کا ہتھوڑا برسا کر بدعنوانی اور کرپشن کی راہ ہموارکرتے ہیں کیوںکہ ایسا مقدمات کی کئی کئی برس تک پیشی نہیں لگتی جب پیشی کی درخواست کی جائے تو کلرک بادشاہ کہتا ہے کہ جسٹس صاحب نے حکم دیا ہے کہ انہی مقدمات کو سماعت کے لیے پیش کیا جائے جن کی پیشی کی تاریخ جسٹس صاحب نے اپنے دست مبارک سے دی ہے اب یہ الگ بات ہے کہ پیشی لینے کے لیے کیا کیا جتن کیے جاتے ہیں کیا کیا پاپڑ بیلے جاتے ہیں یوں بھی عوام حکمرانوں کے لیے پاپڑ ہی بیلتے رہتے ہیں۔