ریاست مدینہ سے قریب کون؟

321

پاکستان میں حکمرانوں کا پرانا طریقہ رہا ہے کہ اپنی کسی غلطی کی ذمے داری خود قبول نہیں کرتے اور ہمیشہ سابق حکمرانوں، عالمی حالات اور دوسروں پر ذمے داری ڈالتے رہتے ہیں۔ پہلے ایسا کرنے والے کچھ ہوشیار تھے کچھ عوام تک درست معلومات نہیں پہنچتی تھیں اور کچھ ایسا بھی ہوتا تھا کہ کوئی متبادل ریلیف مل جاتا تھا لیکن پی ٹی آئی کی حکومت جس کے سربراہ بظاہر عمران خان ہیں اس اعتبار سے بلکہ ہر اعتبار سے بے اعتبار ثابت ہوئے ہیں۔ وہ ملکی حالات اور سابق حکمرانوں کا رونا روتے ہیں اور یہ رونا روتے روتے انہوں نے صرف تین سال میں ملک کو مزید 50 برس پیچھے پہنچا دیا ہے۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ ان کو لانے والوں کی مرضی تمام فیصلوں میں شامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے بقول سابق حکمران چور تھے ان کی بات مان لی جانی چاہیے وہ ایسے ہی تھے۔ انہوں نے ملکی خزانے کو خوب نقصان پہنچایا۔ لیکن کیا ان حکمرانوں نے بمباری کی۔ ملک بھر میں ڈیزی کٹر اور بدترین تباہی پھیلانے والے بم استعمال کیے۔ ایسا تو نہیں ہوا۔ ایسا پڑوسی ملک افغانستان میں ہوا اور یہ کام وہاں مسلسل 20 سال سے ہورہا تھا۔ سابق افغان حکمرانوں نے ملک کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دیا تھا۔ لوگ بری طرح معاشی مشکلات کا شکار تھے۔ طالبان نے 20 برس جنگ لڑکر امریکا کو اور اس کے حواریوں کو باہر نکالا ان کو آئے ہوئے تین سال نہیں تین ماہ بھی نہیں ہوئے ہیں ان کو آئی ایم ایف کی امداد کی قسطیں نہیں مل رہیں، مذاکرات کی بھیک بھی نہیں مانگ رہے۔ انہوں نے کیا کیا… سب سے پہلا قدم طالبان نے یہ اٹھایا کہ عوام کو مہنگائی کے دبائو سے نجات دلانے کے لیے سب سے پہلے ٹیکسوں میں چھوٹ دے دی۔ ٹیکس میں چھوٹ ملتے ہی اشیا کی قیمتیں خود بخود کم ہوجاتی ہیں اور طالبان جیسی حکومت ہو تو کوئی بہانہ بھی نہیں چلتا۔ طالبان کی مجبوری یہ ہے کہ ان کے پاس آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا کوئی نمائندہ بھی وزیر خزانہ نہیں ہے۔ ان کی فوج نے امریکا کے احکامات بجا لانے کے بجائے امریکیوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ ان کے تمام ساتھیوں میں کوئی امریکا سے خوفزدہ اور مرعوب نہیں، اس لیے انہوں نے انقلابی فیصلہ کیا اور ٹیکس چھوٹ دے دی۔ یہ حکومت ابھی تین ماہ پرانی بھی نہیں ہوئی ہے اس کے ساتھ ہی تاجروں کو حکم دے دیا کہ آٹا، گھی، چینی سمیت تمام اشیائے خورونوش کی قیمتیں 40 فی صد کم کردی جائیں۔ جب ٹیکس کم ہوں گے تو قیمتیں بھی کم ہوں گی۔ مغرب اور دیگر چمچے ممالک طالبان کے بارے میں منفی پروپیگنڈے میں مصروف ہیں لیکن اس فیصلے کے بارے میں کیا کہیں گے۔ خان صاحب اور ان کی آئی ایم ایف زدہ ٹیم طالبان کے بارے میں یکسو نہیں ہے لیکن آنے والا ہر دن یہ ثابت کررہا ہے کہ جن لوگوں کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں اور دل خوف خدا سے معمور تو پھر ان کے لیے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ کا تو وعدہ ہے کہ جو ہمارے راستے میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو راستے دکھادیتے ہیں۔ پاکستانی حکمراں اب سابق چوروں اور سابق حکمرانوں کا رونا چھوڑیں اور پاکستانی عوام کے لیے آسانیاں فراہم کرنے والے کام کریں۔ طالبان کے لیے تو بڑا آسان تھا کہ یہ شور مچادیتے کہ لوگ بھوکے مر رہے ہیں تو ہم کیا کریں امریکا نے 20 سال ملک پر حکومت کی ہے اس نے سب تباہ کردیا، اس نے بمباری الگ کی اور لوٹ مار الگ تو لوگ بڑے آرام سے یقین بھی کرلیتے۔ لیکن طالبان اب تک چونکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی غلامی میں نہیں ہیں اس لیے انہوں نے آرام سے فیصلہ کرلیا۔ لوگ عمران خان کو کہتے ہیں کہ وہ طالبان کی حمایت کرتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان خود یہ بات پھیلاتے ہیں لیکن طالبان کی حمایت کا سہرا سر باندھ کر وہ کام نہیں کرتے جو طالبان نے کیے۔ حکومت پاکستان کو طالبان کی نئی حکومت سے سیکھنا چاہیے ان کے پاس کوئی مشہور ماہر معاشیات نہیں ہے لیکن انہوں نے عوام کو آسانیاں دینے والا کام کیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے حکمرانوں کی سوچ میں اتنا بڑا فرق ہے جو بہت واضح نظر آتا ہے۔ افغان حکمراں عوام کو آسانیاں دے رہے ہیں اور ہمارے والے عوام کی زندگی تنگ کررہے ہیں۔ تمام معاشی ماہرین کو حیران کردینے والا فیصلہ ٹیکس معاف کرنے کا ہے۔ جس طرح ایک ٹیکس دس اشیا کی قیمت بڑھاتا ہے اسی طرح ایک ٹیکس معاف کرنے سے دس اشیا کی قیمت کم ہوگی۔ افغان حکومت سے اپنے ٹیکس معاف کیے لوگوں کو آرام ملا، اب کوئی ٹیکس عاید کیا یا کبھی کوئی ٹیکس مانگا گیا تو لوگ بخوشی دیں گے۔ یہ اعتماد پیدا کرنے والا قدم پاکستانی حکومت کو اٹھانا چاہیے تھا۔ عمران خان ریاست مدینہ کا نام لیتے ہیں۔ طالبان اسلامی نظام کا نام لیتے ہیں عمل کے اعتبار سے عمران خان دیکھ لیں کہ ریاست مدینہ سے کون سی حکومت قریب ہے۔ یہ دعویٰ بھی حکومت کرتی ہے تو موازنہ بھی وہی کرے۔