’’رحمتہُ اللعالمین اتھارٹی‘‘ آرڈیننس کا اجراء

221

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ’’رحمتہُ اللعالمین اتھارٹی‘‘ کے قیام کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس کے مطابق یہ اتھارٹی ایک چیئرمین اور 6 ارکان پر مشتمل ہوگی جبکہ وزیراعظم سرپرست اعلیٰ ہوں گے، اتھارٹی کے چیئرمین کا تقرر بھی وزیراعظم کریں گے۔

اتھارٹی کے جو مقاصد بیان کیے گئے ہیں ان کے مطابق اتھارٹی انصاف اور فلاحی ریاست کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اقدامات کرے گی اور نوجوانوں کی کردار سازی کے لیے سیرت النبیؐ اور احادیث پر تحقیق کے علاوہ سیرت النبیؐ کو نصاب کا حصہ بنانے کے لیے متعلقہ ماہرین سے مشاورت بھی کرے گی۔

رحمتہُ اللعالمین اتھارٹی کے قیام کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ اتوار کو وزیراعظم ہائوس میں ربیع الاول کے ماہ مبارک کے حوالے سے منعقدہ مرکزی ’’سیرت النبیؐ‘‘ کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا تھا اس اعلان کے 2 روز بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اتھارٹی کے قیام کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی یہ امر خوش آئند ہے کہ اب صدر مملکت کی جانب سے کسی غیر ضروری تاخیر کے بغیر اس ضمن میں آرڈیننس بھی جاری کر دیا گیا ہے توقع کی جانی چاہیے کہ حکومت اس معاملہ میں مزید سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد اس آرڈیننس کو مجلس شوریٰ سے بھی ایکٹ آف پارلیمنٹ کے طور پر منظور کروا لے گی۔

وزیراعظم نے اتھارٹی کے قیام کے اعلان کے وقت اس کے مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اتھارٹی نہ صرف اسکولوں کے نصاب بلکہ سوشل میڈیا پر نازیبا مواد کی نگرانی بھی کرے گی ہم اس اتھارٹی کے ذریعے بچوں اور بڑوں کو ’’سیرت النبیؐ‘‘ پڑھانے کا طریق کار طے کریں گے۔ ہم ملک کو اس جانب لے کر جائیں گے جس کی بنیاد پر 74 برس قبل پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، موجودہ نسل ذہنی دبائو کا شکار ہے، مدینہ کی ریاست کی بنیاد انصاف اور انسانیت پر رکھی گئی تھی ہم اس ریاست کے اصولوں پر چلیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ہمیں اپنے بچوں کو یہ پڑھانا ہے کہ ان کے رول ماڈل کون ہونے چاہییں اگر ہم نے ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنا ہے تو ہمیں رسول کریمؐ کی اتباع کرنا ہوگی، ہمیں قرآن پاک کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جناب وزیراعظم نے رسول رحمتؐ کی ذات اقدس اور ان کی تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں اپنانے اور نمونہ بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات پر تحقیق کرنا چاہیے کہ رسول اکرمؐ کی ذات میں کیا صفات تھیں کہ انتہائی مختصر وقت میں انہوں نے لوگوں کی سیرت و کردار میں عظیم انقلاب برپا کر کے دنیا کو بہترین صفات سے مزین مثالی قیادت فراہم کر دی۔

وزیراعظم کی جانب سے ’’رحمتہُ اللعالمین اتھارٹی‘‘ کے قیام کا فیصلہ یقیناً ایک قابل ستائش اقدام ہے، اعلان کے بعد جس سرعت سے انہوں نے وفاقی کابینہ سے اس کی منظوری حاصل کی ہے اور جس طرح صدر مملکت نے وقت ضائع کیے بغیر اتھارٹی کے قیام کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم اتھارٹی کے معاملہ میں واقعی سنجیدہ ہیں توقع ہے کہ اتھارٹی کے قیام کے سلسلے میں آئندہ مراحل بھی سنجیدگی اور تیز رفتاری سے طے کیے جائیں گے اور اتھارٹی جلد وجود میں آکر اپنے مقاصد کی خاطر کام کا آغاز بھی کر دے گی تاہم جیسا کہ وزیراعظم نے خود اپنی تقریر میں بتایا ہے کہ رسول کریمؐ نے اپنی رسالت پر ایمان لانے والوں کی سیرت و کردار کی تعمیر اس انداز میں کی تھی کہ وہ دنیا کے لیے مثالی ہستیاں قرار پائی تھیں اور پھر یہ ان ہی باکردار ہستیوں کا کمال تھا کہ انہوں نے دنیا میں ایسا انقلاب برپا کیا، دنیا جس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے، جناب وزیراعظم بھی اگر پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر استوار کرنے کے خواہاں ہیں تو انہیں بھی رسول رحمت حضرت محمدؐ کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے پہلے اپنے دائیں بائیں بیٹھے لوگوں کی سیرت اور کردار کو بے داغ بنانے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔

اس کے ساتھ ساتھ انہیں معاشرے میں موجود ایسے نیک سیرت، صالح اور باکردار افراد کا تعاون بھی حاصل کرنا ہوگا جو دین متین کا علم بھی رکھتے ہوں اور اس پر عمل کی کوشش بھی کرتے ہوں، ایسے افراد کی معاشرے میں کمی نہیں تاہم وزیراعظم کو ان کی تلاش اور رابطے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ محض ایک اتھارٹی کے قیام سے ان مقاصد کا حصول قطعاً ممکن نہ ہو سکے گا جن کی خواہش کا اظہار وزیراعظم نے اتھارٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کیا ہے، ہمارے ملک میں اداروں کی پہلے بھی کمی نہیں اصل ضرورت ان اداروں سے کام لینے اور ان کی سفارشات کو روبہ عمل لانے کی ہے ورنہ اس وقت ملک میں دیگر بہت سے اداروں کے ساتھ ایک نہایت اہم آئینی ادارہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے نام سے سالہا سال سے موجود ہے جس میں شامل رہنے والے جید علماء کرام نے ملکی قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے نہایت قابل قدر کام کیا ہے اور اپنی سفارشات حکومت کو پیش کر رکھی ہیں مگر حکمرانوں نے ان تمام سفارشات پر عمل کرنے اور انہیں اسمبلیوں میںپیش کر کے ملکی نظام اور قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق تشکیل دینے کے بجائے انہیں طاق نسیاں کی زینت بنا رکھا ہے۔

جناب وزیراعظم عمران خان کو بھی اگر ’’رحمتہُ اللعالمین اتھارٹی‘‘ کے ساتھ یہی سلوک کرنا ہے تو پھر وہ اس کے ذریعے سستی شہرت تو شاید حاصل کر لیں مگر اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی حاصل کرنے میں بہرحال کامیاب نہیں ہو سکیں گے کیونکہ خالق کائنات کی بارگاہ میں محض خوش کن باتیں نہیں بلکہ اعمال اور ان کے پس پشت نیت کو اہمیت حاصل ہے جبکہ ہمارے وزیراعظم محترم ایک جانب تو نبی مکرم محسن انسانیت حضرت محمد مصطفیٰؐ سے محبت اور عقیدت کا بار بار اظہار کرتے نہیں تھکتے۔ دوسری جانب وہ پاکستان کو نبی اکرمؐ کی قائم کردہ ’’ریاست مدینہ‘‘ کی طرز پر استوار کرنے کے دعویدار بھی ہیں جبکہ عملی حقیقت یہ ہے پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی قیادت اور اقتدار و اختیار کے دوران ملک کا پورا مالیاتی نظام سرکاری سطح پر اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ ’’سود‘‘ پر جاری و ساری ہے، یوں حکومت اللہ اور اس کے رسول سے کھلی جنگ کے راستہ پر گامزن ہے اور ملک کے باشندگان کو بھی اس جنگ کا حصہ بننے پر مجبور کیا جاتا ہے، شراب خانہ ِخراب کا استعمال ہی نہیں اس کی تیاری، باربرداری اور اس میں کسی بھی قسم کے تعاون کو شریعت اسلامی نے ممنوع قرار دیا ہے مگر اس کا کاروبار بھی دھڑلے سے جاری ہے۔

ملک کے ورقی، برقی اور سماجی ذرائع ابلاغ صبح شام معاشرے کو بے راہ روی کی جانب دھکیلنے میں مصروف ہیں اور فحاشی و عریانی کا فروغ ان کا مقصد وجود قرار پا چکا ہے مگر حکومت کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے عملی اقدام تو دور کی بات ہے، ناپسندیدگی کا اظہار تک سامنے نہیں آتا، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں عوام کے لیے جینا محال ہو چکا ہے مگر حکمران عیش و عشرت سے زندگی ترک کرنے پر آمادہ نہیں ملکی ادارے اور قوانین شہریوں کے استحصال کا ذریعہ بن چکے ہیں، ہر طرف ظلم و نا انصافی کا دور دورہ ہے۔ رشوت و بدعنوانی کا چلن عام ہے، وزیراعظم نے ان کے خاتمہ کے نعرے ضرور بلند کیے ہیں مگر گزشتہ 3 برس سے زائد عرصہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو نتیجہ صفر جمع صفر برابر صفر کے سوا کچھ نہیں۔ ان حالات میں محض رحمتہُ اللعالمین کے نام سے ایک نیا ادارہ وجود میں لے آنا کیا نتیجہ خیز ہو سکے گا…؟؟؟