یہ سانحہ مرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا

146

شہیدِ پاکستان حکیم محمدسعیدکیا نہیں تھے؟ وہ ایک صنعت کار، ایک منتظم، ایک معالج، ایک ماہرِ تعلیم، ایک مصلح، ایک سیاسی قائد، ایک مصنف ، ایک مدیر، ایک سیّاح ، ایک مقرر اور ایک اسکالر تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کو فروغِ علم کے لیے وقف کررکھاتھا۔ وطن عزیز کی مٹی کا قرض چکانے کے لیے جب شامِ ہمدرد کا پروگرام بنایا تو سائنس دانوں، اہلِ ثقافت، مورخین، ماہرین تعلیم، ادیب، شاعر، ٹیکنوکریٹس، مصنف ،معا لجین، مفکرین، محققین و ماہرین اقتصادیات ، جغرافیہ دانوں ، ماہرین آثارقدیمہ، سماجی کارکنوں، اساتذہ، انجینئروں اور سیاست دانوں کی ایک کہکشاں اکھٹی کرڈالی۔
ملک کا مستقبل سنوارنے کے لیے حکیم صاحب نے پاکستان کے نونہالوں کا ہاتھ تھام لیا۔ بچوں کی تعلیم و تربیت،ان کی ذہنی نشوونما، انھیں خوداعتمادی کی خوبی سے مزیّن کرنا اوران میں قائدانہ صلاحیتوں کے جوہر پیدا کرنا، انھوںنے اپنی زندگی کا مشن بنالیاتھا۔
۱۹۸۷ء میں نونہالوں کے لیے نونہال ادب کا شعبہ قائم کیا۔ خبرنامہ اور ہمدرد نونہال نکالا۔ بچوں کے ادب پر۱۰۰ سے زائد کتابیں لکھیں۔سفرنامے لکھے۔ نونہالوں کی ذہنی تربیت کے حوالے سے ہمدردنونہال اسمبلی قائم کی۔ بچوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا، جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔ نونہال اسمبلی ہر ماہ باقاعدگی سے کراچی، لاہور،راولپنڈی اور پشاور میں منعقد کرتے رہے۔ شہید حکیم محمدسعید اکثر فرماتے کہ’’ میرے بچو متحدہوجائو۔‘‘ وہ اپنی مثال آپ تھے۔
وہ روزے بہت پابندی سے رکھتے تھے۔انھوں نے ایک وقت کے کھانے اور صبح کے ناشتے پر زور دیا۔ قوم کو کفایت شعاری کی تلقین کرتے رہے۔ شادی بیاہ پرفضول خرچی سے منع کیا۔ ہر کام وقت پر کرتے۔ زندگی بھر کسی بھی پروگرام یا تقریب میں دیر سے نہیں پہنچے۔ وسائل کے اعتبار سے اپنا طیارہ اور ہیلی کوپٹر رکھنے کی استطاعت تھی، مگر ایک عام سی کار پر سفر کو ترجیح دیتے۔
جب گورنرسندھ بنے تو سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کے بجائے اپنی ذاتی گاڑی میں آنا جانا پسند کرتے تھے۔ گورنرہائوس کا باورچی خانہ بند کررکھاتھا، کیوں کہ دوپہر کا کھانا تناول نہیں فرماتے تھے ۔ آپ کی رہایش گورنرہائوس کے بجائے اپنے ہی گھرپرتھی۔عجزو انکساری ان کی فطرت میں تھی۔فقر ان کا طریقۂ زندگی تھا۔ تقویٰ اور پرہیزگاری ان کا سلیقۂ زندگی تھا۔ قناعت کا سبق انھیں بچپن کی صعوبتوں نے دیاتھا۔ انھوں نے پاکستانی نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کی۔
حکیم صاحب کا نعرہ تھا:’’پاکستان سے محبت کرو، پاکستان کی تعمیر کرو۔‘‘اخلاق، محبت، خلوص، علم، ایثار، انسان دوستی، فروغِ طب وحکمت، وقارِ اطبا، تعمیرِوطن اور سعی و عمل کی ہمیشہ زندہ رہنے والی تاریخ کا دوسرا نام شہید حکیم محمدسعید ہے۔اکثر و بیشتر دانش وروں کو یہ کہتے سنا ہے کہ پاکستان کا نظام درست نہیں ہوسکتا، یہاں کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ خراب نظام نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا، کچھ کرنا بھی چاہیں تو نظام اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ شہیدپاکستان نے ان تمام باتوں کو رد کردیا اور تعلیم اور اخلاقی نظام کے لیے سرپر کفن باندھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ آج بھی ان کا مشن جاری ہے۔
حکیم صاحب پاکستان کے ذرّے ذرّے سے محبت کرنے والے ایک ایمان دار اور وضع دار انسان تھے۔ وہ انسانیت کی خدمت کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ لفظ ’’ہمدرد‘‘ ان کی زندگی اور ان کے بنائے ہوئے اداروں کی پہچان بن گیا۔
شہیدحکیم محمدسعید نے حضور نبی اکرم ﷺ کے پسندیدہ سفید لباس کو اپنی پہچان بنایا۔ وہ سفید رنگ کی شیروانی اور کُرتا پاجامہ پہنتے تھے۔ یہی لبا س وہ شام کو اپنے ہاتھوں سے دھوکر صبح استری کرکے پہن لیتے اور نمازِ فجر کے بعد دواخانے پہنچ جاتے۔ شہید ِ پاکستان نے اپنی محنت سے کئی جہان آباد کیے۔ پوری زندگی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ اپنے رب کے دیے ہوئے رزقِ حلال اور خون پسینے کی کمائی مستحقین کے لیے وقف کردی۔
حکیم صاحب روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے کے عادی تھے۔ زندگی کے آخری دنوں میں بیٹی سعدیہ راشد سے فرماتے :’’ بیٹی! کام کو اور تیز کرنے کے لیے لگتا ہے کہ مجھے نیند کے چار گھنٹوں سے ایک گھنٹہ اور کم کرنا پڑے گا۔‘‘ صاحب زادی نے کہا:’’ کہ اباجی !آ پ بیمار پڑ جائیں گے۔‘‘ انھوں نے زندگی میں کئی بار اڑتالیس گھنٹے مسلسل کام کیا۔
قیامِ پاکستان کے وقت جب وہ کراچی آئے تو آرام باغ ہمدرد دواخانے سے کام کا آغاز کیا۔ پچاس رپے ماہانہ کمرا اور ساڑھے بارہ آنے پر فرنیچر کرائے پر حاصل کیا۔ ۱۹۵۳ء میں ہمدرد کو وقف پاکستان کردیا۔حکیم صاحب نے اپنی زندگی میں پچاس لاکھ مریضوں کا علاج کیا۔انھوں نے اپنی کاوشوں سے عالمی ادارئہ صحت (WHO) سے طبِ یونانی کو سائنس تسلیم کروایا اور طب یونانی، ہومیوپیتھی اورایلوپیتھی کو ایک صفحے پر لانے میں کام یاب ہوئے۔

انھوں نے کراچی میں سیکڑوں ایکڑ اراضی پر ۱۹۸۳ء میں مدینتہ الحکمہ کی بنیاد رکھی، جس میں طب، علم دین، سائنس اور اسپورٹس کے شعبے قائم کیے۔ انھوں نے ہمدرد یونی ورسٹی قائم کی، جس کی بنیاد رکھنے والوں میں کئی ممالک کے صاحبانِ علم و دانش شامل تھے، جن سے بنیادوں میںایک ایک اینٹ نصب کروائی۔ البیرونی، ابن سینا اور دوسرے مسلمان سائنس دانوں پر عالمی کانفرنسوںکا انعقادکیا۔ یونیسکو میں پاکستان اور اردو پر اتنا کام کیا،جو غالباً پاکستانی سفیروں کے سارے کاموں پر بھاری تھا۔ جس کام کا انھوں نے بیڑا اٹھایا،اس کی تکمیل کے لیے وقت، مال اور جان سب کچھ لگادیا۔
انھوںنے ہمدرد یونی ورسٹی کو فروغِ تعلیم کے ساتھ تخلیقِ علم کا ذریعہ بھی بنایا۔ ہمدرد پبلک اسکول سو ایکڑ اراضی پر قائم کیا۔ اس اسکول میں آج ہزاروںبچے علم کی پیاس بجھارہے ہیں۔ بیت الحکمت میں ایشیا کی سب سے بڑی لائبریری قائم کی۔ شہید حکیم محمدسعید اربا بِ دانش کو ساتھ لے کر چلے۔ جب انھوںنے ہمدرد یونی ورسٹی کا افتتاح کیا اور تختی سے پردہ اٹھایا تو ان کا ساتھ دینے والے ہمدرد شوریٰ کے تمام ساتھیوں کے نام اس پر تحریرتھے۔
ان کی شہادت ہمدردمطب کے دروازے پر ہوئی۔ کراچی، لاہور، پشاور، راولپنڈی، ڈھاکا او رلند ن میں بغیر کسی ناغہ کے مطب کیا۔ شہید حکیم محمدسعید ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ احترامِ انسان ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ وہ کہتے تھے کہ میرا ملک سورہ ٔرحمن کی زندہ تصویر ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ سنجیدگی، حسّاسیت، ہوش وخرد ،عقل وشعور، فہم و ادراک، تحمل و بردباری، قناعت و صبر ،ہمت وجرات اور جوش وولولہ جیسی خوبیاں اس ایک شخص میں اللہ نے سمودی تھیں۔ وہ ایک ادارہ نہیں، بلکہ کئی اداروں کے بانی تھے۔
۱۹۹۳ء میں جب گورنرسندھ بنے تو بحیثیت گورنر کئی یونی ورسٹیوںکا اجرا کیا اور اس طرح کراچی یونی ورسٹیوں کا شہر بن گیا۔ شہید حکیم محمدسعید کے بعد اب تومثال کے طورپر پیش کرنے کے لیے بھی کوئی شخصیت باقی نہیں، جس نے اتنی بامعنی،بامقصد اور مثبت زندگی گزاری ہو۔ لباس کی سادگی، آنکھوں کی حیا، لہجے کی مٹھاس، کم خوراکی اور مقصد سے لگن ان کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
صدرجنرل ضیاء الحق نے انھیں آغاشاہی کے بعد وزیرخارجہ بنانا چاہا تو انھوں نے معذرت کرلی۔ شہید پاکستان حکیم محمدسعید کے قائم کردہ پروجیکٹس آج بھی کام یابی سے چل رہے ہیں، مثلاً ہمدرد پبلک اسکول، ہمدرد کالج آف سائنس ، ہمدرد کالج آف کامرس، ہمدرد ویلج اسکول، ہمدرد یونی ورسٹی، ہمدرد لائبریری، ہمدردکالج آف میڈیسن اینڈ ڈسپنسری، ہمدردالمجیدکالج آف ایسٹرین میڈیسن اور ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی۔
ان کے جرائد میں ہمدردنونہال، خبرنامہ ہمدرد، ہمدردصحت، ہمدرد اسلامیکس ،ہمدرد میڈیکس اور ہمدرد ہسٹاریکس شامل ہیں، جو آج بھی جاری و ساری ہیں۔ ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی اور ہمدرد فائونڈیشن پاکستان نہایت اہم اور باوقار ادارے ہیں، جو محترمہ سعدیہ راشدصاحبہ ( چیئرپرسن) کی زیرِنگرانی خدمتِ انسانی کے لیے کوشاں ہیں۔ شہید حکیم محمدسعیدکے مشن کی تکمیل ہم سب محب ِ وطن پاکستانیوں پر قرض ہے۔
حکیم صاحب جیسی ہستی صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔کیسے عظیم اور وضع دار انسان تھے۔ وہ ایک ایسے شجرِسایہ دار تھے، جس کی چھائوں میں خوشی تھی، آسودگی تھی اور اطمینان تھا:
اُداس بیٹھے ہیں گھر کی دیوار پر پرندے
جو صحن میں تھا شجر، بہت یاد آرہا