تازہ اور پرانا قصہ

140

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر حکیم محمد سعید کے قتل اور اس کی گمراہ کن تحقیقات کی یاد دلا دی ہے۔ بازخواہی کی ضرورت اس لیے بھی ہوئی کہ حامد میر پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات ابھی ہونی ہے۔ پرانی روایات برقرار رہیں تو پتہ نہیں یہ گھتی سلجھ بھی سکے گی یا نہیں۔ حکیم سعید کے قتل کی تحقیقات تفتیش کی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے یا اس تفتیش کے پیچھے کوئی سازش بھی تھی؟ اس پر کھل کر بات نہیں ہو سکی۔ حکیم صاحب کے قتل کے کوئی ایک سال بعد ہی نواز حکومت کا تختہ الٹ گیا، معاملات کسی اور طرف چلے گئے، اس قتل پر، اس کی تفتیش پر، اس کی ہاتھی جتنی بڑی خامیوں پر کون توجہ دیتا؟ اتنے اہم اور معزز شخص کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا اور مجرم گرفتار نہیں کیے جا سکے۔ پولیس نے، وہ جو کہتے ہیں، کاروائی ضروری ،ڈالی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے تین کارکن حکیم سعید کے قتل کے الزام میں پکڑ لیے، سارا الزام ایم کیو ایم پر دھر دیاگیا۔ معاملہ اتنا سنجیدہ تھا کہ نواز شریف نے ایم کیو ایم کو تین دن کا نوٹس دیا کہ ملزمان پولیس کے حوالے کیے جائیں۔ یوں نہیں ہوا تو سندھ حکومت برطرف کر دی گئی۔ کم ہی لوگوں کو علم ہے، ہوا کیا تھا؟ تحقیقات شروع ہی سے غلط رُخ پر کی گئی اور یہ کام جان بوجھ کر کیا گیا۔ مقاصد کیا تھے؟ سازشی نظریہ پر یقین رکھنے والے اس کے تانے بانے 1999 میں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی سے ملاتے ہیں۔
پولیس نے اپنی تحقیقات میں کمال ہی کر دیا۔ ایم کیو ایم کے کارکن عامر اللہ کو اصل ملزم نامزد کیا گیا، حکیم سعید پر گولی چلانے کا الزام بھی اس کے سر لگا دیا۔ ساری تحقیقات اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی رانا مقبول کی نگرانی میں کی گئی۔ ضلع وسطی کے ایس ایس پی فاروق امین قریشی بھی اس میں شامل تھے۔ تحقیقات مختلف سطحوں پر بھی ہوئی۔ کراچی کے ایک نہایت معقول پولیس افسر نے بھی عامر اللہ سے تفتیش کی۔ یہ افسر ان دنوں کوئٹہ میں ہیں، نام ظاہر کرنے کا کیا فائدہ۔ انہوں نے پوری تفتیش کے بعد بتایا کہ عامراللہ حکیم سعید کے قتل میں ملوث نہیں ہے جو لوگ اسے ملوث کر رہے ہیں وہ اس مقدمہ کو خراب کر رہے ہیں۔ اس دردمند پولیس افسر کی کسی نے نہیں سنی کہ مقدمہ کی ازسرنو تحقیقات کرائی جائے۔
اس خاص واقعے کی مثال بنائیں تو لگتا ہے نواز شریف کو دوست دشمن کی پہچان نہیں ہے۔ رانا مقبول کے ساتھ جو دوسرے اہم سرکاری افسر اس تحقیقات میں ملوث تھے وہ تھے جنرل ضیا الدین بٹ۔ کراچی کے گورنر ہائوس میں ضیا الدین بٹ ایڈیشنل آی جی رانا مقبول اور ایس ایس پی فاروق امین قریشی نے مقدمے کے بارے میں نواز شریف کو ایک بریفنگ دی۔ دردمند پولیس افسر کے اپنے ذرائع تھے، ایک اطلاع ان کے ذریعے نے دینے کی کوشش کی۔ وہ خود ایک میٹنگ میں تھے۔ فون بند تھا۔ جب میٹنگ سے نکلے تو انہیں اطلاع ملی کہ گورنر ہائوس میں حکیم سعید قتل کیس کی پریذنٹیشن ہے۔ بھاگم بھاگ وہ گورنر ہائوس پہنچے، آئی جی آفتاب نبی سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بتایا کہ پولیس افسر کو دیر ہوگئی، پریذنٹیشن ہوچکی ہے۔
عجیب پریذنٹیشن تھی جو ایڈیشنل آئی جی نے ایس ایس پی کے ساتھ کی۔ سرکاری کاروائیوں کے کچھ ضابطے ہوتے ہیں۔ آئی جی کی موجودگی میں ایڈیشنل آئی جی وزیراعظم کو پریذنٹیشن نہیں دے سکتا۔ وہاں آئی جی تھا، نہ ڈی آئی جی۔ لیفٹینینٹ جنرل ضیا الدین بٹ تھے۔ ایڈیشنل آئی جی رانامقبول تھے اور ایس ایس پی فاروق امین قریشی ۔ بے چارے آئی جی باہر ٹہل رہے تھے۔ رانا مقبول ایک دلچسپ شخصیت ہیں نواز شریف سے ان کے تعلقات میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ ان دنوں تعلقات اچھے تھے۔ ضیا الدین بٹ اور ان کی بات مانی گئی۔ عامر اللہ وغیرہ کو ملزم گردانا گیا اور سندھ میں اچھی خاصی چلتی حکومت برطرف کر دی گئی بلکہ غالباً ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن بھی کیا گیا۔ یہ لوگ جب وزیراعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رانا مقبول کے پاس دو وڈیو ریکارڈنگ تھیں۔ ایک میں عامر اللہ اپنے ’’جرم‘‘ کا اعتراف کر رہا ہے۔ دوسرے میں انکار۔ اعتراف کی وجہ اس نے ہمارے دردمند پولیس افسر کو یہ بتائی کہ یہ مارتے ہیں تو اعتراف کر لیتا ہوں۔
مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ یہ عدالتیں نواز شریف نے قائم کی تھیں۔ عدالت نے تمام ملزمان کو سزا سنا دی۔ برسبیلِ تذکرہ ایسی ہی ایک عدالت نے نواز شریف کو بھی طیارہ ہائی جیک کرنے کے الزام میں سزا سنا دی تھی۔ حکیم سعید کے قتل کا معاملہ جب سندھ ہائی کورٹ کے انتظامی بینچ کے سامنے گیا تو اس نتیجے تک پہنچنے میں حج صاحبان کو زیادہ وقت نہیں لگا کہ سارا مقدمہ بے بنیاد ہے۔ ملزمان کے پاس اپنی بے گناہی کے ثبوت زیادہ معتبر اور ناقابل تردید ہیں۔ حکیم سعید کے قتل کے وقت عامرا للہ اپنی بہن کی شادی کے سلسلے کی ایک تقریب میں شریک تھا۔ اس کے بہت سے گواہ موجود تھے۔ عدالت عالیہ نے عامر اللہ اور دیگر ملزمان کو بری کر دیا۔ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو گزشتہ ہفتے خارج کر دی گئی اور عدالت عالیہ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔
ملزمان بری کر دیئے گئے۔ یوں بظاہر معاملہ ختم ہوگیا مگر کیا ایسا ہی ہونا چاہیے؟ حکیم سعید کو 17 اکتوبر 1998 کی صبح ان کے مطب کے سامنے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ قوم کو ایک مخیر شخص سے، دانشور سے محروم کر دیا گیا تھا۔ ان کے قتل کی تحقیقات تو ہونی چاہیے۔ کسی نے تو یہ واردات کی ہے، کس نے کی؟ یہ ذمہ داری پولیس کی ہے کہ اصل ملزمان تلاش کرے۔ پولیس نے جن لوگوں کو گرفتار کیا، انہیں عدالت میں پیش کیا، ان پر مقدمہ چلا اور وہ بالآخر بری ہوگئے، درست۔ مگر قتل کا معاملہ تو حل نہیں ہوا۔ قاتل تو اب بھی آزاد ہیں۔ انہیں اپنے کیے کی سزا تو نہیں ملی۔ پولیس کو ازسرنو تحقیقات کرنی چاہیے۔ ان لوگوں سے بھی پوچھ گچھ ہو جنہوں نے وزیراعظم کو گمراہ کیا ، صوبے کو غیرمستحکم کیا۔ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا تو ایک سنگین جرم ہے اور زیادہ امکان یہی ہے کہ سارے معاملہ کی تحقیقات کی جائے تو اندر سے بہت کچھ نکل آئے۔ وزیراعظم کو بریفنگ دینے والے جنرل ضیا الدین بٹ ہی کی وجہ سے بعد میں نواز شریف کی حکومت گئی۔ آخر یہ تو پتہ ہونا چاہیے کہ جنرل بٹ اور رانا مقبول نے آئی جی کو کیوں پریذنٹیشن سے باہر رکھا؟ ان افسران کی بات پر کیوں تو جہ نہیں دی گئی جو اصرار کر رہے تھے کہ عامر اللہ اصل ملزم نہیں ہے اور کیس خراب کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کیس جان بوجھ کر خراب کیا گیا۔ مقاصد کیا تھے؟ کوئی انہیں تلاش کرے۔ مقاصد یقینا تھے تو، ورنہ مقدمہ اتنا کمزور کیوں ہوتا کہ ہائی کورٹ میں ہی فارغ ہو جاتا۔ یہی صورتحال ایک معاصر اخبار کے سابق ایڈیٹر اور ایک ہفت روزہ جریدے کے مدیر المہام جناب محمد صلاح الدین کے قتل کے مقدمے میں رہی۔ جو تین صحافی استغاثہ کے گواہ بنائے گئے ان کے بیان جعلی تھے، ان میں سے کسی نے کبھی مذکورہ بالا جریدے میں کام نہیں کیا تھا جبکہ بیان میں کام کرنے کا تذکرہ تھا، ان کے دستخط جعلی تھے، جائے واردات پر ان میں سے ایک کی موجودگی کا بیان بھی دیگر بیانوں کی طرح پولیس کا گھڑا ہوا تھا۔ نتیجتاً ملزم بری ہوگیا اور مقدمہ داخل دفتر۔ استغاثہ کے ان تین نام نہاد گواہوں میں سے باقی دو اے ایچ خانزادہ اور ضرار خان تھے۔ صلاح الدین صاحب کے قتل کے ملزم بھی آزاد پھر رہے ہیں، مقدمہ یہ بھی حل نہیں ہوا حالانکہ ہونا چاہیے، قاتلوں کو تلاش کیا جانا چاہیے۔