پاکستانی روپے کی بے قدری

317

بین الاقوامی مارکیٹ میں کرنسی کی قدر ملکی معیشت کے استحکام کی علامت ہوتی ہے اگر مضبوط اور مستحکم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ معیشت بھی مستحکم ہے اور اگر یہ غیر مستحکم ہے تو ملک کی مالیات، اقتصادیات اور معاشیات تمام کمزور اور غیرمستحکم ہیں لیکن گزشتہ چند مہینوں میں پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے لحاظ سے جتنی بے قدری ہوئی ہے اس نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ 12 مئی 2021ء کو ایک امریکی ڈالر 152 روپے کا تھا اس کے بعد جو اس کی قیمت گرنا شروع ہوئی تو آج 14 اکتوبر 2021ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک امریکی ڈالر کی قیمت اپنی ویب سائٹ پر 171.19 روپے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستانی روپیہ جو مارچ کے مہینے میں ایک بہترین کرنسی شمار کیا جاتا تھا اس وقت اسے بدترین کرنسیوں میں گنا جاتا ہے گزشتہ چھے آٹھ مہینوں میں بھارتی روپیہ امریکی ڈالر میں 73 سے 75 روپے کے درمیان رہا جب کہ بنگلا دیشی ٹکا 84 سے 85 کے درمیان رہا لیکن پاکستانی روپیہ ان چھے ماہ میں 11 فی صد اپنی قدر کھو چکا ہے اور کرنسیوں پر نظر رکھنے والے افراد اور ادارے 180 اور 190 روپے فی امریکی ڈالر کے خدشات 2022 کے لیے ظاہر کر رہے ہیں۔
بعض اوقات ملکی کرنسی کی قدر ملک کے پالیسی ساز ادارے معیشت میں بہتری کے لیے گھٹا دیتے ہیں اور اس بے قدری (Devluation) سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے لیکن پاکستانی روپے کی قیمت 11 فی صد گرنے کے بعد نہ برآمدات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ ہوا اور نہ ہی درآمدات میں کمی آئی اور تجارتی خساری سالِ رواں کے صرف تین ماہ میں یعنی جولائی تا ستمبر2021 میں 11.6 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔ سب سے بڑا نقصان ملکی قرضوں میں بے تحاشا اضافے کا ہے روپے کی قدر گرنے سے قرضوں میں 2.9 کھرب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے جو کہ تمام قرضوں کا 20 فی صد اس سے پہلے اسٹیٹ بینک نے ایک کارنامہ کیا اور شرح سود 3.5 فی صد تھی اس کو 13 فی صد تک لے گئے اس سے تمام ملکی قرضے جو 1.5 کھرب روپے کی مالیت کے تھے وہ بغیر مزید قرضے لیے ان کی مالیت 2.7 کھرب روپے ہو گئی۔ قرضوں میں اضافے کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جارہا ہے کہ نواز شریف کے دورِ حکومت میں یہ قرضے 5.8 ارب روپے روزانہ کے حساب سے بڑھ رہے تھے یہی قرضے موجودہ حکومت کے دور میں 13.5 ارب روپے روزانہ کے حساب سے آگے کی طرف جارہے ہیں۔
روپے کی قدر مسلسل گرنے کے حوالے سے ماہرین مالیات، معاشیات مختلف وجوہات کی نشاندہی کر رہے ہیں مثلاً عالمی مارکیٹ میں کئی اشیاء بہت مہنگی ہوگئی ہیں جن کی خریداری پر زیادہ ڈالر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں اس طرح بار برداری کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ تو دیگر ممالک کے ساتھ بھی ہے وہاں کرنسی کی قیمت میں اتنی زیادہ کمی نہیں آئی ہے۔ اسی طرح علم معاشیات کے مطابق کرنسی کی قدر کم ہونے سے ملک کی برآمدات عالمی مارکیٹ میں سستی ہو جاتی ہیں اور برآمدات میں اضافے سے معیشت پر مثبت اثر ہوتا ہے لیکن پاکستان میں ایسا کوئی فائدہ نظر نہیں آیا۔ ایک وجہ یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ گزشتہ دنوں بھاری پیمانے پر ڈالر کا بہائو افغانستان کی طرف رہا اس معاملے میں اسٹیٹ بینک اور سرکاری مشینری بہت دیر میں حرکت میں آئی۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک نے کچھ دوسرے انتظامی اقدامات بھی کیے جس میں امپورٹڈ گاڑیوں کی فنانسنگ پر پابندی اور درآمدات پر کیش مارجن میں اضافہ کا معاملہ شامل ہے۔ لیکن یہاں بھی کارروائی بہت دیر میں کی گئی۔
معاشی اور مالیاتی معاملات میں وزارت خزانہ، وزارت تجارت، وزارت منصوبہ بندی، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کی ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے مکمل باخبر اور متحرک رہنا چاہیے اور جہاں بھی بدانتظامی، لاقانونیت اور بدعنوانی نظر آئے فوراً ایکشن لینا چاہیے صرف ڈیڑھ ماہ میں روپے کی قیمت گرنے سے ملکی قرضوں میں جو کھربوں روپے کا اضافہ ہو چکا ہے اس کی سزا پاکستانی قوم نجانے کب تک بھگتتی رہے گی۔