ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم… محسن پاکستان

271

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ دنیا عالم کی موت پر اور جاہل کی زندگی پر آنسو بہاتی ہے۔ عالم کی ذات سے علم کی روشنی پھیلتی ہے اور اہل دنیا اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی زندگی ایک چراغ کی مانند ہوتی ہے جس سے مزید چراغ جلتے ہیں اور علم کی روشنی پھیلتی ہے عالم اگر محسن ہو تو سونے پہ سہاگا۔ موت ہر ذی روح کے لیے مقد ر ہے لہٰذا عالم کو بھی موت آنی ہے اس کی موت کے بعد اس کی ذات سے براہ راست تو علم کی ترسیل منقطع ہوجاتی ہے مگر اس کے روشن کیے ہوئے چراغوں سے یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔ جس سے دنیا فیض پاتی رہتی ہے۔ اور یہی اس کے لیے صدقہ جاریہ ہوتا ہے۔
کون کہہ سکتا تھا کہ 27اپریل 1936 میں بھوپال میں پیدا ہونے والا عبدالقدیر خان ایک دن اسلامی دنیا کا پہلا ایٹمی سائنس دان بنے گا مگر یہ بات رب کائنات کے علم میں تھی کہ برصغیر کے مسلمان ایک اسلامی ریاست کی جدوجہد کررہے ہیں اس کی حفاظت کا بھی اس علیم و خبیر ذات نے بندوبست فرمادیا۔ 1957 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے میٹرک پاس کیا اور اپنے والدین کے ساتھ پاکستان آگئے۔ عبدالقدیر خان نے ڈی جے سائنس کالج سے انٹر کیا آپ کے پسندیدہ مضامین طبیعات اور ریاضی تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے 1960 میں مادر علمی کراچی یونیورسٹی سے بی ایس سی کی ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی اس کے بعد آپ اسکالر شپ پر جرمنی اعلیٰ تعلیم کے لیے روانہ ہوئے علم کا یہ پیاسا پندرہ سال یورپ کے جن مختلف ممالک میں حصول علم کے لیے پھرتا رہا ان میں جرمنی کے شہر مغربی برلن، ہالینڈ اور بلجیم ہیں جہاں سے ڈاکٹریٹ آف سائنس اور ماسٹر آف سائنس کی ڈگریاں حاصل کیں اب ان کے سامنے دنیا میں شاندار مستقبل موجود تھا وہ چاہتے تو سب کچھ حاصل کرسکتے تھے مگر پاکستان کی محبت ان کے دل میں سمائی ہوئی تھی وہ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں حکومت پاکستان کی درخواست دسمبر 1974 میں اپنے وطن پاکستان آگئے اور یہاں انجینئر ریسرچ لیبارٹریز کے پاکسانی ایٹمی پروگرام کا حصّہ بن گئے۔ دن رات محنت کرکے تحقیقانی کام کو آگے بڑھایا مئی 1974 کے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر ایک برتری ہندوستان کو حاصل ہوگئی تھی یاد رہے کہ ہندوستان کا ایٹمی پروگرام برطانیہ اور امریکا کی مدد سے تھا لیکن اس کے چند سال کے بعد 1998میں دوبارہ بھارت نے راجستھان کے ریگستانوں میں ایٹمی دھماکوں کے تجربات کیے۔ ایسی صورت حال میں کہ جب خطرات کے بادل منڈلانے لگے طاقت کا توازن بگڑنے لگا ان پے درپے دھماکوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی اس کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے محسوس کیا اور اپنے وطن کو محفوظ بنانے کے لیے انہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں کہتے ہیں کہ نیت صاف منزل آسان، ڈاکٹر صاحب نے محض آٹھ سال میں ڈیوائس تیار کرکے ساری دنیا کے سائنس دانوں کو ورطہ ٔ حیرت میں ڈال دیا اور پھر وہ دن آیا جب پاکستان اپنے دشمن کے مقابلے میں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دنیا کا ساتوان اور اسلامی دنیا کا پہلا ملک بن گیا اور نعرۂ تکبیر کے ساتھ 28 مئی 1998 میں چاغی کے مقام پر بھارت کے پانچ دھماکوں کے مقابلے میں چھے دھماکے کرکے اللہ کی کبریائی کو بلند کردیا اس دن کا نام ہی یوم تکبیر رکھ دیا گیا۔
11ستمبر 2021 کو جنگ میں ایک کالم چھپا جس کا عنوان تھا کہ ’’نعمت الٰہی‘‘ کالم نگار محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے۔ جس میں آپ نے اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے خوبصورت انداز میں سورہ کہف کی آیت گیارہ کا حوالہ دیا ہے اور لکھا ہے کہ انسان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہدایت ہے۔ اور پھر اس کے بعد آپ نے جھوٹی نبوت کا دعوے دار مسیلمہ کذاب کے ساتھ خلیفہ راشد سیدنا ابوبکرؓ کا جہاد اور 1200 جید صحابہ کرام کی شہاد ت کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ اس مختصر سے کالم میں ڈاکٹر صاحب کے دینی تعلق کا تذکرہ کرنا ممکن نہیں بظاہر ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک ایٹمی سائنس دان تھے مگر ان کی شخصیت دینی رنگ میں رنگی ہوئی تھی آپ کو پاکستان کے ساتھ سچی محبت تھی آپ کی محبت کی پشت پر آپ کے کردار کی دلیل موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ محبت کی قیمت انسان کو چکانی پڑتی ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بدنام زمانہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی حکمرانی اور ان کی امریکی غلامی اپنے نقطہ عروج پر تھی اور صدر پرویز مشرف انسانوں کی تجارت پانچ پانچ ہزار ڈالر میں امریکا کے ساتھ کررہے تھے۔ وہ اپنے اس خدمت میں سب ہی کو پیچھے چھوڑ گئے اور ایک دن قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو بھی امریکیوں کے حوالے کرکے اس کی قیمت بھی وصول کرلی یہ تو خیر برسبیل تذکرہ بات آگئی۔ جنرل صاحب کے کارناموں میں یہ کارنامہ بھی ہے کہ انہوں نے امریکی غلامی کا حق نمک اس طرح ادا کیا کہ جب امریکا نے پاکستان کے اس محسن پر الزام لگایا کہ انہوں نے شمالی کوریا اور ایران کو ایٹمی راز بیچے ہیں تو انہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکا کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا مگر اس وقت کے وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی نے ان کے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی مگر اس وقت سے لے کر محسن پاکستان اپنے انتقال تک اپنے گھر ہی میں قید رہے۔ بجائے یہ کہ عالمی عدالت میں یہ مقدمہ لڑا جاتا محسن پاکستان ہی کو مجرم بنا دیا گیا اور ان کو اس خدمت اور احسان کی پاداش میں اپنے ہی گھر میں محصور کردیا اور ان سے ناکردہ جرم کی معافی بھی منگوائی گئی۔ یہ قیمت بھی ان کو پاکستان کی محبت میں چکانی پڑی۔ ان کے ساتھ اس ناروا سلوک پر اس وقت پور ے پاکستان میں صرف جماعت اسلامی نے صدائے احتجاج بلند کی اور ایک روزہ ہڑتال کا اعلان کیا جس کو عوام میں بھرپور پزیرائی حاصل ہوئی آج بھی عدالت عظمیٰ میں ان کی گھر میں نظر بندی اور نقل وحرکت کے خلاف مقدمہ دائر ہے۔ ان کے کالم بھی اسلام اور پاکستان کی محبت کے آئینہ دار ہیں وہ ایک مستقل کالم نگار تھے۔ ان کالموں کے ذریعے وہ اپنی بات کو عوام میں پہنچاتے رہتے تھے۔ ان کی غائبانہ نماز جنازہ کے موقع پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ان کے بارے میں ٹھیک ہی کہا کہ وہ بظاہر تو ایک ایٹمی سائنس دان تھے مگر وہ ایک اللہ کے ولی تھے وہ الخدمت فاونڈیشن کے ساتھ مل کر یتیموں کی کفالت کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے مذکورہ کالم میں اپنی وفات سے قبل یہ بھی لکھا کہ ’’میرا رب مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ یہ بات یقینا انہوں نے نبی رحمتؐ کے اس فرمان کی روشنی میں لکھی تھی کہ جس میں نبی مہربانؐ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ایک دوسرے کے قریب کرکے فرمایا تھا کہ میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ڈاکٹر صاحب ایک بے لوث محب وطن تھے انہوں نے اپنے آپ کو پاکستان کے لیے وقف کیا تھا مگر بقول شاعر
وائے ناکامی متاع کاروں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
آج پاکستان اپنے محسن سے محروم ہوگیا مگر صدر صاحب کو فرصت نہ ملی کہ وہ اپنے دورے کو ملتوی کرکے واپس آتے اور اس محسن کی نماز جنازہ ادا کرلیتے شاید ان کو خبر بھی نہ ہوئی ہو کیونکہ پاکستان میں جب آٹے کی قلت پیدا ہوئی تو لوگوں نے ان سے شکایت کی تو انہوں نے اس خبر سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ مجھے اس کا علم نہیں، مگر صرف صدر ہی کا یہ حال نہیں ہے بلکہ آرمی چیف بھی نہ آئے اور پاکستان میں موجود ہوتے ہوئے وزیر اعظم بھی اپنے شیرو اور ببلوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہے۔ ایک طرف حکمرانوں کا یہ حال ہے تو دوسری طرف عوام کو بھی میڈیا نے سحر زدہ کررکھا ہے ان کو بھی شوبز کی دنیا کے لوگوں کا دنیا سے اٹھ جانا غم ناک کرتا ہے۔
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسوں وہ خواب ہیں ہم