قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

154

 

یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی اْنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنایا، پھر اس میں سے تمہیں بخیریت گزروا دیا، پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونوں کو غرقاب کیا۔ یاد کرو، جب ہم نے موسیؑ کو چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر بلایا، تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبود بنا بیٹھے اْس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی۔ (سورۃ البقرۃ:49تا51)

سیدنا انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’میرے بیٹے: اگر تم سے ہو سکے کہ صبح و شام تم اس طرح گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کے لیے بھی کھوٹ (بغض، حسد، کینہ وغیرہ) نہ ہو تو ایسا کر لیا کرو‘‘، پھر آپؐ نے فرمایا: ’’میرے بیٹے! ایسا کرنا میری سنت (اور میرا طریقہ) ہے، اور جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں رہے گا‘‘۔ امام ترمذی کہتے ہیں اس حدیث میں ایک طویل قصہ بھی ہے، اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (سنن ترمذی)