ملک پر 35 برس جرنیل اور باقی ان کے پروردہ لوگوں نے حکومت کی،سراج الحق

214

لاہور( نمائندہ جسارت )امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک پر 35سال جرنیلوں نے اور بقیہ عرصہ جرنیلوں کے پروردہ لوگوں نے حکومت کی۔ اسٹیٹس کو کو بحال رکھنے کے لیے حکمران اشرافیہ ہمیشہ ایک پیج پر ہوتی ہے‘جس ملک کی خاطر کروڑوں اسلامیانِ برصغیر نے قربانیاں دیں وہاں ظالمانہ نظام نافذ ہے۔ مغل شہزادوں سے نجات کا وقت آ گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے قوم کے تین سال ضائع کیے۔ پارلیمنٹ میں ایک قانون بھی عوام کے لیے نہیں بنا۔ معیشت کی تباہی کے بعد ملک کی نظریاتی اساس سے کھیلا جا رہا ہے۔ بجلی کی قیمت میں ڈیڑھ روپے فی یونٹ اضافہ ظلم ہے۔ آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی پر سبسڈی عملاً ختم کر دی گئی، ملکی تاریخ میں ایسا پہلی بارہوا ہے۔ پاکستان کے مسائل کا حل ظالم اشرافیہ اور سٹیٹس کو سے نجات میں ہے۔ قوم کو اسلامی انقلاب کے لیے جماعت اسلامی کی جمہوری اور پرامن جدوجہد کا ساتھ دینا ہو گا۔ نبی رحمتؐ کا اسوۂ پوری انسانیت کو درپیش مسائل کا حل ہے۔ اسلامیان پاکستان کے دل عشقِ رسولؐ سے لبریز ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب ملک میں نظام مصطفیؐ کے نفاذ کے لیے عملی جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جامعہ مسجد حنفیہ لبرٹی مارکیٹ میں ’’عشق مصطفیؐ…نظام مصطفیؐ‘‘ کے موضوع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے کہا کہ پاکستان نعمت خداوندی ہے۔ عشق رسولؐ کا تقاضا ہے کہ اس ملک میں رسول پاکؐ کا دیا گیا نظام نافذ ہو۔ گزشتہ سات دہائیوں سے سازش کے ذریعے ملک کو اسلامی نظام سے محروم رکھا گیا۔ اب ہمیں مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے مدینہ کی ریاست کا نام لے کر عوام سے جھوٹ بولا۔ موجودہ حکمرانوں میں اہلیت نہیں کہ ملک کو مدینہ کی ریاست میں تبدیل کر سکیں۔ جماعت اسلامی مسلسل پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آزمائے ہوئے جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو مسترد کریں اور جماعت اسلامی کو موقع دیں۔ ہم قوم سے یہ وعدہ کرتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے پاکستان کو حقیقی معنوں میں مدینہ کی ریاست میں تبدیل کریں گے۔بعدازاں منصورہ میں وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرنے جا رہی ہے۔ حکمران بے حس ہو چکے ہیں۔ نااہلیت اور غیر سنجیدگی حکومت کا ٹریڈ مارک ہے۔ پی ٹی آئی نے سوا تین برسوں میں غیر سنجیدگی اور نااہلی کی انتہا کر دی ۔ نام نہاد بڑی اپوزیشن جماعتیں بھی اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ غریبوں کے مسائل کی کسی کو فکر نہیں۔مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان اور سودی معیشت نے عوام کا کچومر نکال دیا۔ حکمرانوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ ایک ماہ بعد گیس کا بحران شدید صورت حال اختیار کر جائے گا۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گیس کی طلب اور رسد میں 50فیصد کے قریب خلا ہے۔ گیس کی درآمد سے متعلق مربوط پالیسی کی ضرورت ہے۔ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مسئلہ کا مستقل حل نکالا جائے۔ ایران اور ترکمانستان سے گیس خریداری کے منصوبوں پر عمل کیا جائے۔ ملک میں گیس کے ذخائر تلاش کرنا ہوں گے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں گزشتہ تین برسوں میں سو سے تین سو فیصد اضافہ ہوا۔ ادویات کی قیمتیں 14بار بڑھیں۔ ان حکمرانوں کو عوام کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ وہ پارٹیاں جنھوں نے ماضی میں حکمرانی کے مزے لیے وہ بے قصور اور عوام کے ہمدرد بننے کی کوشش نہ کریں۔ سابقہ اور موجودہ حکمران ملک کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ جماعت اسلامی عوام کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔ ظالم اشرافیہ کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔ قوم سٹیٹس کو سے تنگ آ گئی۔ پاکستان کو اسلامی جمہوری انقلاب کی ضرورت ہے۔ قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ سے ہی ملک آگے جائے گا۔