…قربانی

195

قرآن مجید میں قربانی کے لیے تین لفظ آئے ہیں۔ ایک نُسُک، دوسرا نحر اور تیسرا قربانی۔
نُسُک: یہ لفظ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ کہیں عبادت، کہیں اطاعت اور کہیں قربانی کے لیے جیسے سورہ حج کی آیت 43 میں فرمایا: ’’ولکل اُمۃجعلنا منسکا‘‘ (اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کر دی ہے‘‘۔) یہاں یہ لفظ جانور کی قربانی کے لیے ہی آرہا ہے کیونکہ اس کے فوراً بعد مِّنم بہیمَۃِ الاَنعَامِ کا لفظ ہے، یعنی ان چوپایوں پر اللہ کا نام لے کر قربانی کریں جو اللہ نے ان کو عطا کیے۔
نحر: دوسرا لفظ قربانی کے لیے قرآن مجید میں نَحَر کا آیا ہے جو سورہ الکوثر میں ہے، یعنی ’’پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں‘‘۔
قربانی: تیسرا لفظ قربانی قرآن مجید میں سورۂ مائدہ کی 72 ویں آیت میں آیا ہے جہاں سیدنا آدمؑ کے دونوں بیٹوں ہابیل اور قابیل کے واقعے کا ذکر ہے کہ’’آپ ان لوگوں کو آدمؑ کے دو بیٹوں کا سچا واقعہ سنائیے کہ جب دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی‘‘۔
امام راغب اصفہانی مفردات القرآن میں لکھتے ہیں کہ قربانی ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے سے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے، چاہے وہ جانور ذبح کرکے ہو یا صدقہ و خیرات کرکے۔ تاہم، عرف عام میں قربانی کا لفظ جانور کی قربانی کے لیے بولا جاتا ہے۔
سورئہ حج کی آیت 43 میں ہے: ’’اور ہم نے ہر اْمت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انھیں عطا فرمائے ہیں، لہٰذا تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، چنانچہ اْسی کی فرماں برداری کرو، اور خوش خبری سنادو اْن لوگوں کو جن کے دل اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں‘‘۔
سورۂ حج کی آیت نمبر 76 میں ہے کہ ’’ہم نے ہر اْمت کے لوگوں کے لیے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے، جس کے مطابق وہ عبادت کرتے ہیں‘‘۔
رسول اکرمؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک نحر کے دن (10 ذی الحجّہ) کو قربانی کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ کوئی عمل نہیں۔ قیامت کے روز قربانی کا جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہوگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے نہیں پاتا کہ اللہ کے یہاں مقبول ہو جاتا ہے۔ لہٰذا قربانی دل کی خوشی اور پوری آمادگی سے کیا کرو۔ (ترمذی، ابنِ ماجہ)
ایک اور حدیث میں آتا ہے: صحابہ کرامؓ نے نبیؐ سے پوچھا کہ یارسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ نبیؐ نے فرمایا کہ یہ تمھارے باپ ابراہیمؑ کی سنت ہے۔ صحابہؓ نے دریافت کیا کہ اس میں ہمارے لیے کیا اجرو ثواب ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی۔ (ترمذی، ابنِ ماجہ)