ہماری سیاست و صحافت کی زبوں حالی

523

غامدی صاحب کے شاگرد رشید خورشید ندیم نے اپنے ایک حالیہ کالم میں صحافت اور سیاست کی زبوں حالی اور ان کی بے بسی کا ماتم کیا ہے۔ انہوں نے کیا لکھا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ خورشید ندیم لکھتے ہیں۔
’’سب بے بس ہیں۔ سب سے بڑھ کر صحافت۔
تین سال اس طرح بیتے کہ کوئی تجزیہ درست ثابت ہوا نہ کوئی پیش گوئی پوری ہوئی۔ چڑیا کی خبر سچ ثابت ہوئی نہ کسی مخبر کی۔ تاریخیں دی جاتی رہیں کہ فلاں دن حکومت کا آخری دن ہے۔ کبھی بتایا گیا کہ یہ کمپنی نہیں چلے گی۔ مجھ جیسے بزعم خویش دانش ور، نام نہاد سماجی علوم کے نظریات بیان کرتے رہے کہ جب یوں ہوتا ہے تو پھر لازماً یوں ہوتا ہے۔ عثمان بزدار صاحب کے جانے کی خبر اتنی بار اڑائی گئی کہ آصف زرداری صاحب کے بارے میں کی گئی پیش گوئیاں پس منظر میں چلی گئیں۔
یہ گلستان مگر اُسی طرح آباد ہے۔ جس شاخ پر بیٹھا تھا، وہ بیٹھا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ کوئی علم نجوم یہاں کارآمد ہے نہ کوئی سماجی نظریہ۔ خبر تک رسائی نہ تو کسی چڑیا کو حاصل ہے اور نہ کسی مخبر کو۔ سب تجزیے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اب تو بہت سے کالم مدت سے دکھائی نہیں دیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قلم میں وہ اعتماد ہی باقی نہیں رہا جس پر ناز تھا۔ کچھ مذہبی واقعات لکھ کر اور کوئی سماجی مسائل کو موضوع بنا کر کالم کے لیے جواز تلاش کرتا ہے۔ کوئی سفر کی روداد لکھ رہا ہے اور کوئی ذاتی دکھ سکھ کے بیان سے کالم کا پیٹ بھر رہا ہے۔ تعلقات عامہ کے لیے کالم کا استعمال تو خیر ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔
صحافت تو ایک طرف، سیاست کے پرانے کھلاڑی بھی معلوم ہوتا ہے کہ بے بس ہوگئے۔ نواز شریف صاحب کا خیال تھا کہ لوگ ووٹ کی عزت کے لیے باہر نکلیں گے۔ پتا یہ چلا کہ یہاں روٹی کے لیے کوئی نہیں نکلتا ووٹ کے لیے کیا نکلے گا۔ مولانا فضل الرحمن مذہب کی دہائی دیتے ہیں، یہ سوچ کر کہ لوگ کسی اور مسئلے کے لیے اٹھیں نہ اٹھیں اس معاملے میں ضرور اٹھ کھڑے ہوں گے مگر ان کی آواز اب تک صدا بصحرا ثابت ہوئی ہے‘‘۔ (روزنامہ دنیا۔ 5 اکتوبر 2021ء)
خورشید ندیم نے پاکستان کی سیاست اور صحافت کا ماتم تو کیا ہے مگر انہوں نے پاکستان کی سیاست و صحافت کی زبوں حالی کے اسباب پر روشنی نہیں ڈالی۔ افلاطون نے کہا تھا کہ سیاست کے مسئلے کا ایک ہی حل ہے یا تو حکمران کو فلسفی ہونا چاہیے یا فلسفی کو حکمران۔ افلاطون نے جس زمانے میں یہ بات کہی اس زمانے میں فلسفہ دانش کی محبت کا نام تھا اور افلاطون کہہ رہا تھا کہ سیاست کو صرف دانش کے سہارے درست رکھا جاسکتا ہے۔ اقبال نے اپنے زمانے میں افلاطون کی بات کو زیادہ گہرائی سے بیان کیا ہے۔ اقبال نے کہا ہے۔
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اقبال نے جس زمانے میں یہ بات کہی سیاست دین سے تعلق توڑ چکی تھی اور چنگیزی میں ڈھل چکی تھی۔ بدقسمتی سے ہمارے زمان تک آتے آتے صورتِ حال اور بھی مخدوش ہوگئی۔ عالمی سیاست بالخصوص پاکستان کی سیاست کا علم و دانش اور فکر وفلسفہ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ہماری سیاست کا کوئی نظریہ ہی نہیں۔ جب تک بھٹو صاحب اقتدار میں تھے پاکستان کی سیاست نظریات کی سیاست تھی اس کے دائرے میں کسی کی حمایت بھی نظریے کی بنیاد پر تھی اور مخالفت بھی نظریے کی بنیاد پر تھی۔ بھٹو صاحب نہ سوشلسٹ تھے نہ ڈیموکریٹک تھے مگر ان کی نعرے بازی نے انہیں بائیں بازو کا ترجمان بنایا ہوا تھا۔ دوسری طرف جماعت اسلامی جیسی جماعت تھی جو اسلام کے حوالے سے نظریاتی سیاست کی علامت تھی۔ مگر بھٹو صاحب کی رخصتی اور جنرل ضیا الحق کے ظہور نے پاکستان کی صورت حال کو یکسر بدل دیا۔ جنرل ضیا الحق نے سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں پر پابندی لگادی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاست شخصی، گروہی، طبقاتی، لسانی، صوبائی، فرقہ وارانہ اور مسلکی ہوتی چلی گئی۔ اسی وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں یعنی نواز لیگ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کا کوئی نظریہ ہی نہیں۔ نواز لیگ کا محور میاں نواز شریف اور ان کا خاندان ہے۔ تحریک انصاف عمران خان کی شخصیت کا طواف کررہی ہے اور پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کی جاگیر بنی ہوئی ہے۔ میاں نواز شریف کا علم و دانش سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ انہوں نے شاید ہی کبھی کوئی کتاب پڑھی ہو۔ میاں صاحب نے ابھی کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ وہ نظریاتی ہوگئے ہیں۔ مگر ہم نے عرض کیا تھا کہ میاں صاحب ’’نظریاتی شخصیت‘‘ نہیں ’’نظرآتی شخصیت‘‘ ہیں۔ میاں صاحب حقیقی معنوں میں نظریاتی ہوتے تو وہ اپنے نظریے کا تعارف بھی کراتے۔ وہ بتاتے کہ وہ اب سیکولر یا لبرل ہو گئے ہیں۔ یا انہوں نے اسلام کو ایک نظریہ ٔ حیات کے طور پر قبول کرلیا ہے۔ عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ مگر وہ دوسرے ہی سانس میں چین کے نظام کی تعریف کرنے لگتے ہیں۔ تیسرے سانس میں وہ اسکنڈی نیوین ملکوں کا ذکر کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ ظاہر ہے ریاست کے یہ تینوں ماڈلز ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ریاست مدینہ اپنی اصل میں ایک روحانی اور اخلاقی تجربہ ہے۔ چین سوشلزم اور سرمایہ داری کا منصوبہ ہے۔ اسکینڈی نیویا کے ممالک سیکولرازم اور لبرل ازم کے علمبردار ہیں۔ یہ صورت حال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عمران خان کو ریاست مدینہ کی الف ب بھی معلوم نہیں اور وہ محض ایک نعرے کے طور پر ریاست مدینہ کا ذکر کرتے ہیں۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو وہ خود کو بھٹو ازم کی علمبردار بتاتی ہے۔ مگر بھٹو صاحب امریکا کے سخت خلاف تھے اور انہوں نے اپنی ایک تقریر میں امریکا کو ’’سفید ہاتھی‘‘ قرار دیا تھا۔ بھٹو صاحب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی تھے اور امریکا کے سابق وزیرخارجہ ہینری کسنجر نے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھٹو صاحب کو دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں ایک بدترین مثال بنادیں گے۔ لیکن بھٹو صاحب کے بعد پیپلز پارٹی عملاً امریکی کیمپ کا حصہ بن گئی۔ بے نظیر بھٹو پاکستان میں امریکی آشیرباد کی علامت بن کر اُبھریں اور امریکا ہی نے ان کے اور جنرل پرویز کے درمیان این آر او کو ممکن بنایا۔ وہ خود کو ’’مشرق کی بیٹی‘‘ باور کراتی تھیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان کی سیاست میں ’’مغرب کی ڈارلنگ‘‘ تھیں۔ ان کے بعد پیپلز پارٹی کا نظریاتی تشخص اور بھی مجروح ہوا اور پیپلز پارٹی صرف کرپشن کی علامت بن کر رہ گئی اور اس کا قومی تشخص برباد ہوگیا۔ یہاں تک کہ اب پیپلز پارٹی صرف سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔
بلاول زرداری جیے بھٹو کا نعرہ ضرور لگاتے ہیں مگر ان دنوں وہ تواتر کے ساتھ امریکا کے دورے فرمارہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکا کی سرپرستی میں وہ بہت جلد عمران خان کا متبادل بن کر اُبھریں گے۔
بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی جماعتیں مدتوں سے اسٹیبلشمنٹ کی باندی کا کردار دا کررہی ہیں۔ میاں نواز شریف کبھی بھی اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر میاں نواز شریف نہیں بن سکتے تھے۔ میاں صاحب تاثر دیتے ہیں کہ وہ اب ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ شخصیت ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ کو گرانا نہیں چاہتے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت بیانات داغ کر صرف اسٹیبلشمنٹ سے بہتر ڈیل چاہتے ہیں۔ عمران خان چاہتے تو اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر بھی سیاست میں کامیاب ہوسکتے تھے مگر انہوں نے خود کو مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے۔ کبھی وہ کہا کرتے تھے کہ میں سرمائے اور Electables کی سیاست نہیں کروں گا مگر گزشتہ انتخابات سے ذرا پہلے انہوں نے روزنامہ ڈان کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کہا کہ وہ سرمائے کی سیاست بھی کریں گے اور Eelctables کی سیاست بھی کریں گے۔ اس لیے کہ ان کا مقصد اقتدار میں آنا ہے۔ بلاشبہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں تو آگئے مگر ایک آزاد سیاست دان کی حیثیت سے ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی۔
خورشید ندیم نے اس بات کا ماتم کیا ہے کہ میاں نواز شریف کا خیال تھا کہ لوگ ووٹ کو عزت دو کے نعرے کے تحت گھروں سے نکلیں گے مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ میاں نواز شریف کی کوئی اخلاقی ساکھ ہی نہیں ہے۔ لوگ انہیں ووٹ دے سکتے ہیں، نوٹ دے سکتے ہیں مگر میاں صاحب کے لیے سڑکوں پر پولیس سے ڈنڈے نہیں کھا سکتے۔ ان کے لیے جیل نہیں جاسکتے اور ان کے لیے جان تو ہرگز بھی نہیں دے سکتے۔ بدقسمتی سے میاں نواز شریف کا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی جعلی ہے۔ میاں صاحب اقتدار کے لیے تو ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کرتے ہیں مگر وہ خود اپنی پارٹی میں انتخابات کروا کر ووٹ کو عزت دینے کے لیے تیار نہیں۔ زندگی ایک وحدت ہے۔ آپ ایک جگہ ووٹ کو ’’عزت مآب‘‘ اور دوسری جگہ ’’ذلت مآب‘‘ نہیں بنا سکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر کل اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو اقتدار سے نکال دے تو کسی شہر میں پانچ ہزار لوگ بھی سڑکوں پر نہیں نکلیں گے۔ بھٹو صاحب کہا کرتے تھے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو ہمالہ روئے گا اور سندھ میں طوفان آجائے گا مگر بھٹو صاحب پھانسی پر چڑھ گئے اور کچھ بھی نہ ہوا۔ الطاف حسین لاکھوں پرستاروں کے دل کی دھڑکن تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کراچی میں فوجی آپریشن کی سخت مزاحمت ہوگی۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر آجائیں گے مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ البتہ ترکی میں رجب طیب اردوان کی اخلاقی ساکھ تھی۔ چناں چہ ہزاروں لوگوں نے فوجی مداخلت کی عملاً مزاحمت کی۔ لوگ ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے۔
لوگوں نے گن شپ ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کی پروا نہ کی۔ لوگوں نے فوجیوں کو ٹینکوں سے نکال کر مارا۔
جہاں تک پاکستانی صحافت کا معاملہ ہے تو پاکستانی صحافت بھی طرح طرح کے امراض کا شکار ہے۔ اس کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ صحافت کبھی مشن تھی اب کاروبار بن گئی۔ ایک وقت تھا کہ کاروبار کی بھی ایک اخلاقیات تھی مگر ہماری صحافت کے کاروبار کی کوئی اخلاقیات نہیں ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان کی صحافت کو بھی نظریاتی ہونا چاہیے تھا مگر پاکستانی صحافت نے مفاد پرستی ہی کو نظریہ بنالیا ہے۔ صحافی ریاستی جبر کے سلسلے میں بڑا شور برپا کرتے ہیں مگر وہ مالکوں کے جبر کا ذکر بھی نہیں کرتے۔ صحافی حکومت کے سینسر کا ماتم کرتے ہیں مگر اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے مالکان خود صحافیوں پر جو سینسر عائد کرتے ہیں اس کا ذکر کہیں نہیں ہوتا۔ یہ کل کی بات ہے کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض پر 460 ارب روپے کا جرمانہ کیا۔ یہ ایک بڑی خبر تھی مگر روزنامہ جسارت اور روزنامہ ڈان کے سوا اس خبر کو کسی بڑے اخبار نے شائع کرنا پسند نہ کیا۔ اخبارات کے مالکان نے خود اخبارات کا گلا گھونٹ دیا۔ ایک وقت تھا کہ صحافت مذہب، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کے دفاع کا فرض ادا کرتی تھی مگر اب صحافت میں اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کا دفاع کرنے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ اردو ادب کے سب سے بڑے نقاد حسن عسکری صاحب نے اپنے مضمون ’’مصروفیت اور ذمے داری‘‘ میں فرانس کے دانش ور ژولیاں باندا کی کتاب ’’عالموں کی غداری‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ متوازن سماجی نظام کے لیے ضروری ہے کہ اس کی چند بنیادی اقدار ہوں جو قطعی غیر مادی اور غیر مرئی ہوں اور جنہیں بغیر کسی شرط کے قبول کیا جاتا ہو۔ ژولیاں باندا کا خیال ہے کہ نشاۃ الثانیہ کے بعد سے غیر مادی اقدار ختم ہوتی چلی گئی ہیں اور طبیعتوں پر مادیت غالب آتی چلی گئی ہے۔ ژولیاں باندا کے بقول عالموں کی غداری یہ ہے کہ انہوں نے بھی مادی اقدار کے سامنے سر جھکادیا۔ ژولیاں باندا کا خیال ہے کہ ادیب معاشرے کی سب سے بڑی خدمت یہ انجام دے سکتے ہیں کہ وہ غیر مادی اقدار کو پھر سے معاشرے میں موثر بنائیں۔ اس مثال کا ہماری صحافت سے یہ تعلق ہے کہ ہماری صحافت مکمل طور پر مادی اقدار کے زیر اثر چلی گئی ہے۔ ہماری صحافت اور صحافیوں کی عظیم اکثریت کے سامنے کوئی روحانی اور اخلاقی آئیڈیل نہیں ہے۔ ان کے لیے کچھ اہم ہے تو سرمایہ، طاقت اور شہرت۔