امارت اسلامیہ کا پہلا سال: چند تجاویز

288

 

آخری قسط

صنعتی شعبہ:
افغانستان کا صنعتی اور منظم (formal) خدمتی شعبہ خالصتاً سامراج کی پیداوار ہے۔ اس شعبہ کے تنخواہ دار کارکنوں کی تعداد بھی محدود ہے اور افغانستان کی آبادی کی بہت بڑی اکثریت اپنا رزق خود پیدا کرتی ہے اور ان میں وہ کاریگر، چھوٹے کاروباری اور بازارگان بھی شامل ہیں جو صنعتی اور منظم خدمتی شعبہ سے کسی نہ کسی حد تک منسلک ہیں۔ بڑی صنعتوں میں چند گنے چنے بڑ ے کاروبار ہیں جن میں سامراجی سرمایہ کاری بھی کی گئی ہے۔ ان کو فوراً بلامعاوضہ قومیا لیا جائے۔ اس کے علاوہ ماچس، مسالاجات اور دھاگے کی تجارت پر قومی اجارہ داری قائم کی جائے۔ دھاتوں، کان کنی اور توانائی کی صنعت پر بھی حکومتی کنٹرول نافذ کیا جائے۔ سیمنٹ، کپڑا سازی، بجلی کی صنعت کی اشیا اور لکڑی کی صنعت پر بھی حکومتی نگرانی ضروری ہے۔ ان صنعتوں میں شامل چھوٹے کاروباریوں کی سرپرستی کے لیے کونسلیں قائم کی جائیں۔ دستکاری کی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے کوآپریٹوز کو منظم کیا جائے درمیانی حجم رکھنے والی فیکٹریوں کی نگرانی شہری اور صوبائی سطح پر انتظامیہ کرے۔
ہر ایسے ادارہ میں جہاں سو سے زیادہ کارکن موجود ہوں ایک اسلامی نگران کمیٹی قائم کی جائے جو ادارے کا پیداواری ہدف متعین کرے۔ رسد کی فراہمی اور پیداوار کی ترسیل اور مینجمنٹ کے تمام شعبوں کی نگرانی کرے۔ ادارہ میں اسلامی تبلیغ کو جاری رکھنا نگران کمیٹی کی ذمے داری ہو۔ نگران کمیٹی میں طالبان اور دیگر مخلصین دین شامل ہوں جو عموماً ادارہ کے کارکن ہوں۔ کچھ صنعتوں میں چھوٹے اور درمیانی حجم رکھنے والی فیکٹریوں کو ٹرسٹس کی شکل میں منظم کیا جائے۔ ٹرسٹس کی انتظامیہ جس میں مرکزی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے نمایندگان بھی شامل ہوں۔ فیکٹریوں میں منافع کی تقسیم اور مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کی نگرانی کریں۔
مرکزی ریاست اسلحہ سازی کی صنعت اور ملک میں بجلی کی ترسیل کے منصوبہ کی مکمل ذمے داری لے۔ صنعتی شعبہ کو عسکری شعبہ سے منسلک کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ ملک کو جلد از جلد چھوٹے ہتھیاروں (بالخصوص طیارہ شکن ہتھیاروں اورمیزائلوں) میں جلد از جلد خود کفیل بنا دیا جائے۔
بڑی صنعتوں کے کارکنوں کو فوجی خطوط پر منظم کیا جائے۔ ہر بڑی اور درمیانی حجم رکھنے والی فیکٹری میں ٹریڈ یونین قائم کی جائے جس کی قیادت علما کے سپرد ہو جو مستقل فیکٹری کی نگران کمیٹی سے رابطہ میں رہے۔ ٹریڈ یونین کو فیکٹری کی مینجمنٹ میں شرکت کے اختیارات ہوں لیکن کوشش کی جائے کہ ٹریڈ یونین اسلامی روحانیت کو عام کرنے کا ذریعہ بنیں اور وہ سرمایہ دارانہ مطالبات کو فروغ دینے کی آماج گاہ نہ ہوں۔
سرکاری اور نجی شعبہ میں کارکنوں کی اجرتوں کا ایک متعین حصہ اجناس کی شکل میں دیا جائے۔ رسدی کمیشن نے زرعی شعبہ سے اجناس کا جو ذخیرہ جمع کیا ہے اس کو اسی مقصد سے استعمال کیا جائے اور زرعی اجناسی ذخیرہ اور مارکیٹ سے اجناس حاصل کرکے اجرتوں کی شکل میں دینے پر راضی کیے جائیں۔ یہ بھی شرح تورم کو کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہو سکتا ہے۔ ملک میں اس ذخیرہ کی بنیاد پر راشننگ کا ایک نظام نافذ العمل ہو تاکہ ہر شہری کو اجناس کا ایک مقدار مستقلاً مہیا کیا جاتا رہے۔ رسدی ذخیرہ میں صنعتی پیداوار کا ایک حصہ شامل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ بڑی اور درمیانی فیکٹریاں اپنی پیداوار کا تین چوتھائی کھلے بازار میں بیچیں گی اور ایک چوتھائی رسدی کمیشن کو تیل اور توانائی کی فراہمی کے عوض میں دیں گی۔ (شرح تبدل مرکزی ریاست طے کرے گی)
ورلڈ بینک کے تخمینوں کے مطابق 2019ء میں افغانستان کو حاصل شدہ بیرونی بھیک اور قرضوں، قومی آمدنی کا تقریباً 40 فی صد حصہ تھے لیکن ان میں سے بہت بڑا تناسب سامراجی لوٹ مار اور کرپشن کی نذر ہو جاتا تھا مثلاً زرعی شعبہ کی پیداوار کو بڑھانے میں اس سامراجی بھیک کا کوئی حصہ نہ تھا۔ پھر ورلڈ بینک کا افغان معیشت کے حجم کا تخمینہ بھی گمراہ کن ہے۔ افغان پیداواری نظام کا حجم بیس بلین ڈالر نہیں (جیسا کہ ورلڈ بینک کہتا ہے) بلکہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔
سامراج افغان معیشت کے عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں انضمام کی جو تصویر کشی کر رہا ہے وہ اس کی تخریب کاری کا ایک جزو اور نہایت گمراہ کن ہے۔ اس تخریب کاری کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی انقلابی حکومت سامراجی سرمایہ دارانہ نظاماتی غلبہ کو قبول کرے اور سامراجی گھس بیٹھیے معاشی ماہرین کے روپ میں افغان معاشی پالیسی پر حاوی ہو کر انقلابی عمل کو سبوتاژ کر دیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان معیشت کے سامراجی سرمایہ دارانہ نظام سے روابط بہت اس سے بہت زیادہ کمزور ہیں جن میں سوویت روس انقلاب کے ابتدائی دور میں جکڑا ہوا تھا اور جن کو اس نے اس دور میں بالکل منقطع کر دیا۔ افغانستان میں ایک خودکفیل خود انحصاری معیشت کی تعمیر ممکن بھی ہے اور ضروری بھی۔
آج سامراجی ممالک نے اور آئی ایم ایف نے افغان بیرونی ذخائر اور اثاثے پر قبضہ اور ضبط کرکے افغانستان کو عالمی مالیاتی نظام سے نکال دیا ہے۔ یہ ایک نہایت خوش آئند بات ہے اور طالبان کو اس عمل کو دائمی بنانے کی جستجو کرتے ہوئے عالمی سودی نظام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دینا چاہیے اور اسلامی بینک کاری کے مکر و فریب میں گرفتار ہو کر اس منحوس نظام میں درپردہ شرکت سے قطعاً انکار کر دینا چاہیے۔ طالبان کی بیرونی معاشی حکمت عملی کو مندرجہ ذیل خطوط پر مرتب کیا جانا چاہیے۔
1۔ اس پالیسی کا مقصد قومی خود انحصاریت کا فروغ، قومی مانگ میں اضافہ اور بیرونی تجارت اور ترسیل زر کی تخفیف ہو۔
2۔ سامراجی مواصلاتی نظام سے مکمل انخلا، انٹرنیٹ سروس پر سخت ترین پابندیاں، قومی انٹرنیٹ سروس نیٹ ورک کا جلد از جلد قیام۔
3۔ تمام سامراجی املاک اور سرمایہ کاری پر بلامعاوضہ تسلط۔ تمام سامراجی اقتصادی معاہدوں کی تنسیخ اور تمام بیرونی قومی قرضوں کی ادائیگی سے انکار۔
4۔ بیرونی تجارتی نظام پر حکومت کا اجارہ دارانہ کنٹرول
5۔ بیرونی ترسیل زر کے نظام پر حکومت کا مکمل کنٹرول
6۔ تمام اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں (ADB, IDB, World Bank, FAO, UNISCEF, UNDP) وغیرہ کے لگائے گئے پروجیکٹس کو قومیا لیا جائے۔
7۔ ایران کے ساتھ زری نظاماتی تعاون کے لیے مشاورتی عمل کا اجرا جس کا مقصد ایک کرنسی یونین کے قیام کی طرف پیش رفت۔
8۔ ایران، ترکی اور پاکستانی مرکزی بینک سے غیر سودی معاہدات کے قیام کی کوشش جس کے ذریعے علاقائی تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔
9۔ علما اور مدارس کے ذریعہ ایران، پاکستان، ترکی، ملائشیا، قطر اور کویت کے طالبان اعانتی فنڈز کا اجرا۔ ہر مدرسہ، اجتماع کے لیے سہ ماہی ہدف مقرر کیے جائیں۔ ان فنڈز سے حاصل شدہ رقوم درآمدات کے حصول کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہیں اور زراعت، صنعتی اور خدمتی شعبوں میں پیداواری استعداد بڑھانے کے لیے بھی۔
10۔ ملک میں تمام غیر ملکی کرنسیوں کے نجی کاروباری استعمال پر مکمل پابندی اور تمام بیرونی کرنسیاں حکومت کو اسلامی دینار کے عوض دے دی جائیں گی۔
11۔ اسلامی دینار کا بیرونی کرنسیوں میں شرح تبدل انقلابی حکومت وقتاً فوقتاً طے کرتی رہے گی۔
12۔ غیر ملکی ماہرین کو پالیسی ساز ذمے داریاں نہ سونپی جائیں ان کا تقرر محدود مدت مثلاً 6 ماہ تک کا ہو۔ کسی بیرونی معیشت دان (Economist)، سماجی علوم کے ماہر (Sociologist) یا انتظامی امور کے ماہر (Administrator) کا تقرر نہ کیا جائے۔
13۔ آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او اور ڈبلیو آئی پی او سے دائمی انخلا