ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی

323

وطن عزیز کے جوہری پروگرام کے بانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان85 برس کی عمر میں اسلام آباد میں وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ خاصے عرصے سے علیل تھے۔ 26 اگست 2021 کو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جس کے بعد حالت اچانک بگڑ گئی تھی اور انہیں کہوٹا ریسرچ لیبارٹری اسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاہم کچھ روز بعد ان کی طبیعت سنبھلنے لگی تھی اور انہیں واپس گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔ انہیں اتوار کو دوبارہ اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
قوم ملک کو جوہری طاقت بنانے کے عمل میں ان کے کردار کی وجہ سے ان سے محبت کرتی تھی اور وہ پاکستانی عوام کے لیے ایک قومی آئیکون تھے۔ پاکستان ہمیشہ ان کی خدمات کو یاد رکھے گا اور پوری قوم ان کی جانب سے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے ان کی مقروض ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پہلے پاکستانی تھے جنہیں تین بار صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ملکی دفاع کے لیے ان کی گراں قدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی وفات پر ہر دل افسردہ ہے۔ انہوں نے عملی طور پر پاکستان کو دفاعی طاقت بنایا۔
عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے تھے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کی۔اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ یورپ گئے اور 15 برس قیام کے دوران انہوں نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بلجیم کی یونیورسٹی آف لیون سے تعلیم حاصل کی۔1976 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان واپس پاکستان آئے اور 31 مئی 1976 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا نام یکم مئی 1981 کو جنرل ضیاالحق نے تبدیل کر کے ان کے نام پر ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا تھا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کہوٹا ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کے لیے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت کم اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔
پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ مئی 1998 میں جب پاکستان نے انڈیا کے ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب جوہری تجربہ کیا تو بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی۔ چودہ اگست 1996 کو صدر فاروق لغاری نے انہیں پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ اس سے قبل 1989 میں انہیں ہلال امتیاز بھی دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر قدیر خان پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا لیکن ہالینڈ، بلجیم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام اور کتابوں میں موجود ہیں جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت نے ان کو باعزت بری کر دیا تھا۔ ڈاکٹر قدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی جن سے ان کی دو بیٹیاں ہیں۔
پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکومتی دبائو پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سرکاری ٹی وی پر دیگر ممالک کو جوہری راز کی فروخت کے الزامات تسلیم کیے تھے جس کے بعد 2004 میں انہیں معافی دینے کے بعد ان کے گھر میں نظربند کر دیا گیا تھا اور یہ نظربندی پانچ برس جاری رہی تھی۔ نظر بندی کے خاتمے پر 2008 میں انہوں نے کہا تھا کہ وقت آنے پر وہ یہ انکشاف کر دیں گے کہ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیوں کیا تھا۔ انہوں نے اپنے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایک آدمی کے اعتراف سے پورے پاکستان کا فائدہ ہو رہا تھا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان کے دفاع اور سلامتی کی ایک قابلِ فخر تاریخ اور جدوجہد کا نام تھا۔ ان کی زندگی پاکستان سے محبت کی کہانی ہے۔ اسلام اور پاکستان ہی ان کا مطمح نظر رہے ان کی تمام زندگی پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں صرف ہوئی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان قوم کا اثاثہ تھے۔ ان کی ملک کے لیے خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ پاکستان اور قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ ان کے انتقال پر ہر محب وطن پاکستانی کی آنکھ اشکبار ہے۔
دلی دعا ہے کہ خدا انہیں غریق رحمت کرے۔ اللہ تعالی ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔