افغانستان: نئی مہاجرت کی لہر کا خدشہ

230

افغانستان کی حکومت نے امریکا اور یورپی سفارت کاروں کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی حکومت پر پابندیوں کے ذریعے انہیں مسلسل دبائو میں رکھنے کی کوششوں سے سیکورٹی میں کمزوری پیدا ہونے کے ساتھ معاشی مہاجرین کی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی خبر کے مطابق طالبان یعنی امارات اسلامیہ افغانستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی نے قطر کے دارالحکومت دوحا میں گفتگو کرتے ہوئے مغربی سفارت سے کہا ہے کہ افغان حکومت کو کمزور کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے، کیونکہ اس کے منفی اثرات دنیا کو سلامتی کے شعبے میں متاثر کریں گے اور ملک سے معاشی وجوہ پر ہجرت کی لہر آئے گی۔ افغان حکومت کے ترجمان کی جانب سے عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی دوحا اجلاس میں کہا کہ ہم دنیا کے تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ موجودہ پابندیاں ختم کرتے ہوئے بینکوں کو معمول کے مطابق کام کرنے دیں۔ مخیّر گروہ، ادارے، تنظیمیں اور حکومت اپنے وسائل اور بین الاقوامی مالیاتی مدد سے عملے کی تنخواہیں ادا کرسکیں۔ دوحا کے دارالحکومت قطر میں طالبان کے نمائندوں کے امریکا اور یورپی یونین کے وفود سے کئی مذاکرات ہوچکے ہیں۔ افغانستان کی تازہ صورت حال کے حوالے سے افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کا انتباہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بجا طور پر خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو دبائو میں رکھنے اور ناکام بنانے کے لیے اقتصادی، سیاسی اور عسکری پابندیاں جاری رکھی گئیں تو اس کے منفی اور تباہ کن اثرات سے افغانستان ہی نہیں بلکہ افغانستان کے پڑوسی ممالک کے ساتھ پوری دنیا متاثر ہوسکتی ہے۔ افغان وزیر خارجہ نے جس خطرے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اقتصادی بحران اور بھوک کی وجہ سے مہاجرت کی نئی لہر آسکتی ہے۔ واضح رہے کہ مہاجرین کی لہر صرف پاکستان اور ایران ہی کو متاثر نہیں کرے گی بلکہ وسط ایشیا کے راستے سے یورپ تک مہاجرین کی لہر پھیل سکتی ہے۔ افغانستان گزشتہ 40 برسوں سے جنگ کا شکار ہے۔ سوویت یونین کا قبضہ اور ناکامی درمیانی عرصے میں داخلی خانہ جنگی، پھر 20 سالہ طویل ناکام امریکی جنگ کے بعد امن کا قیام افغانستان کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنے مذموم منفی مقاصد کے لیے افغانستان کی حکومت عدم استحکام کا شکار بنا کر ناکام بنانے کی کوشش کریں گی تو اس کے منفی اثرات سے دنیا بھی بچ نہیں سکے گی۔ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ افغان طالبان نے اپنے تمام معاہدوں کی پاسداری کی ہے، جبکہ امریکا اب بھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ عہد شکنی پر تلا ہوا ہے۔ افغانستان پر طالبان کے اقتدار کے پرامن قیام نے امریکا کو صدمے اور حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ اس کی وجہ سے ابھی تک دنیا کی کسی بھی حکومت نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ حکومت پاکستان، وزیراعظم عالمی برادری سے مستقل مطالبہ کررہے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کی جائے۔ لیکن نہ صرف یہ کہ دنیا طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے بلکہ دبائو ڈال کر حکومت کو ناکام بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ دوحا میں طالبان کے نمائندوں کی امریکا اور یورپی یونین سے مذاکرات کے ادوار ہوچکے ہیں، لیکن اس سلسلے میں کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آئی۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ امریکا 20 برسوں میں ناکام جنگ پر 3 کھرب ڈالر سے زائد رقم جھونک دی لیکن اس کی پسماندگی برقرار ہے اور بھوک افغانستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ امریکا اور یورپ کو اپنے زرخرید غلاموں کی تو فکر ہے لیکن عام افغان کا کوئی خیال نہیں ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان کے تمام پڑوسی مسلمان ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے مفاد میں افغانستان کو تقسیم ہونے سے بچائیں۔ فی الحال صرف افغان طالبان کی افغانستان کے سیاسی استحکام کی ضمانت ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ ایران اور پاکستان کی عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خلاف اکٹھے کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی دعوت پر ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل محمد باقری وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر آئے اور سیاسی و عسکری قیادت سے مذاکرات کیے ہیں۔ ایرانی عسکری قیادت نے پاکستان کی عسکری قیادت سے دیگر اہم علاقائی اور دفاعی امور کے علاوہ افغانستان کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ ایران اور پاکستان افغانستان کے دو اہم پڑوسی ممالک ہیں اور ان تین ممالک کا تعاون امت مسلمہ کی توانائی میں اضافہ کرے گا۔ توقع ہے کہ دونوں ممالک افغانستان کی عبوری حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں گے۔ اس لیے کہ افغانستان کا عدم استحکام اور انتشار سب سے زیادہ ان ہی دونوں ملکوں پر منفی اثر ڈالے گا۔