کوئٹہ: کیچ دھماکے میں جاں بحق بچوں کے لواحقین کا لاشوں کیساتھ دھرنا

52

کوئٹہ (نمائندہ جسارت) بلوچستان کے ضلع کیچ میں دھماکے میںجاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین میتیں لے کر کوئٹہ پہنچ گئے ،زرغون روڈ پر گورنر اور وزیراعلیٰ ہائوس کے قریب دھرنا دے دیا ۔ لواحقین نے بچوں کی موت کا ذمے دار ایف سی کو قرار دیتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ لیویز کے مطابق 3 روز قبل کیچ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر تربت سے 130 کلو میٹر دور ہوشاب میں دھماکا خیز مواد پھٹنے سے 2بچوں کی موت ہوگئی۔ لواحقین کا الزام ہے کہ ایف سی نے مارٹر گولہ داغا جس سے بچوں جاں بحق ہوئے تاہم ایف سی حکام اور ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ کا کہنا ہے کہ الزام درست نہیں، بچوں کو گھر کے عقب میں دستی بم ملا تھا جسے وہ کھلونا سمجھ کر کھیل رہے تھے کہ دھماکا ہوگیا۔ واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہوا جو تربت اسپتال میں زیر علاج ہے۔ بچوں کے لواحقین نے ہوشاب اور پھر تربت میں 2 روز تک دھرنا دیا اور ایف سی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ مطالبہ تسلیم نہ ہونے پر لواحقین میتیں لے کر بدھ کو کوئٹہ پہنچے اورزرغون روڈ پر ریڈ زون میں دھرنا دیدیا۔احتجاج میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ایف سی اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوتی وہ احتجاج ختم نہیں کرینگے۔