امارت اسلامیہ کا پہلا سال – چند تجاویز

332

الحمدللہ ایران کے بعد افغانستان میں ایک اسلامی ریاستی نظام کے قیام و دوام اور استحکام کے مواقع پیدا ہو گئے ہیں۔ لیکن انقلابی حکومت کا پہلا سال خطروں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگر اس سال ایک مزاحمتی ادارتی ڈھانچہ نہ کھڑا کیا گیا تو عسکری جدوجہد سے حاصل ہونے والے تمام ثمرات کے کھو جانے کا خطرہ موجود ہے۔ بنیادی مقصد ایک ایسی خود کفیل و خود انحصار قومی معیشت اور معاشرت کے قیام کی جستجو کی ابتدا ہے جو ملک کو عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ گرفت سے آزاد کروائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس سال قومی معاشرتی اور معاشی زندگی کا رخ اور رفتار متعین کرنے کی اسلامی حکومت ذمے دار ہو اور اپنی معاشرتی اور معاشی پالیسیوں سے یقینی بنائے کہ افغانستان میں اقتصادی اور معاشرتی قوت سامراجی سرمایہ داروں کے ہاتھ سے نکل کر مخلصین دین کے ہاتھوں میں مرتکز ہو رہی ہے۔ اگر مخلصین دین اقتصادی اور معاشرتی قوت سے محروم رہے تو انقلاب دشمن قوتیں لامحالہ افغان ریاست کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ڈبو دینے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ دشمن آج دخول کی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ اس کے ہم نوا وہ سیاست دان ہیں جو غدار حکومت کے زعما (کرزئی، عبداللہ) یا اعلیٰ اہل کار تھے۔ یہ لوگ شہروں میں اب بھی ایک حلقہ اثر رکھتے ہیں اور اپنے گنے چنے حمایتیوں سے وقتاً فوقتاً ہنگامہ آرائی کروا رہے ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں قوم پرست دہشت گرد بھی موجود ہیں۔ فاحشہ عورتیں اور اقوام متحدہ کے زیر سایہ چلنے والے این جی اوز بھی تخریب کاری میں ملوث رہیں۔ عوامی تخریب کاری کا بنیادی ذریعہ عالمی اور افغان میڈیا ہے جو سامراجی افواہ ساز فیکٹری بنا ہوا ہے۔
ان اسلام دشمن سامراج نواز قوتوں سے سختی سے نبٹنے کی ضرورت ہے۔ غدار سیاست دانوں سے کوئی مشاورت نہیں ہونی چاہیے۔ سرکاری اور نیم سرکاری نوکر شاہی کے سینئر اہل کاروں کو برطرف اور تبدیل کر دینا چاہیے۔ سامراج نواز اور عورتوں کے سرمایہ دارانہ حقوق کے نعرے لگانے والے مظاہرین کو سخت ترین سزا دینی چاہیے۔ میڈیا کو قومیا لینا چاہیے اور سامراجی میڈیا کے تمام نمایندوں کو فی الفور ملک بدر کر دینا چاہیے۔
اس کے برعکس حکومت کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ غیر پختون علماء اور قبائلی سرداروں کو حکومت کی ہر سطح میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔ غیر طالبان اسلامی گروہوں سے مستقل مشاورت اور مصالحت کا عمل جاری رہے۔ غیر طالبان اسلامی عسکریت پسندوں کو یہ سمجھانے کی مستقل کوشش جاری رہنی چاہیے کہ آج ایک مستحکم قومی اسلامی ریاست کے قیام کی جدوجہد کیوں ضروری ہے۔ ریاستی استحکام کو تقویت دینے کا ایک اہم ذریعہ صوبائی اور ضلعی سطح پر حکومتی سطح پر حکومتی اختیارات کی بتدریج ترسیل بھی ہو سکتی ہے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں مالیات، صنعت، زراعت اور تجارت کے محکمات قائم کرنے بھی ضرورت ہے۔
مالیاتی اقدام:
افغانستان کا زری نظام کلیتاً سامراج کے زیر نگیں تھا اور ہے۔ مقامی کرنسی بے قدر ہوتی جا رہی ہے۔ سود اور سٹہ بازی اپنے عروج پر ہے۔ غیر ملکی کرنسیوں کی آمد و رفت پر کوئی پابندی نہیں۔ تورم (inflation)کی شرح بڑھ رہی ہے۔ اس زری بحران پر قابو پانے میں وقت لگے گا۔ پہلے سال میں مندرجہ ذیل اقدامات کی تنفیذ ممکن ہے۔
1۔ اسٹیٹ بینک کو مرکزی وزرات خزانہ کا ایک ذیلی ادارہ قرار دیا جائے اس کی آزادانہ حیثیت کو ختم کیا جائے۔
2۔ بیرونی کرنسیوں کی آمدو رفت پر مکمل پابندی عاید کی جائے۔
3۔ تمام بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو قومی تحویل میں لیا جائے۔ مروجہ اسلامی بینک قائم نہ کیے جائیں۔
4۔ سٹے کی مارکیٹ اور سٹے کے کاروبار کو بند کیا جائے۔
5۔ چھے ماہ کے اندر اندر تمام قرضوں کے عہود کو مشارکت اور مضاربت کی بنیاد پر وضع کیا جائے۔
6۔ حکومت تمام بیرونی قرضوں کی ادائیگی منسوخ کر دے اور قرض دینے والوں سے شروع کی وضع نو پر مذاکرات شروع کرے۔
7۔ اسٹیٹ بینک تین ماہ میں اس بات کا اندازہ لگائے کہ ملک میں گردش کرنے والے زر اور قرضوں کا حجم کیا ہے اور ملکی پیداوار میں سال کے آخر تک دس فی صد اضافہ کے لیے کتنے زر اور قرضوں کی ضرورت ہو گی۔
8۔ اس تخمینے کی بنیاد پر ایک نئی کرنسی اسلامی دینار کے اجرا کا انتظام کیا جائے جس کی عددی قدر ایک ہزار افغانی کے برابر ہو۔
9۔ اسلامی دینار بتدریج سال کے آخری نو مہینوں میں جاری کیا جاتا رہے اور اس عرصہ کے آخر تک ملک سے افغانی روپے، ڈالر وغیرہ کی گردش کو ختم کر دیا جائے۔
10۔ حکومت تمام غیر ملکی کرنسیوں کی اسلامی دینار کا شرع تبدل متعین کرے۔
11۔ گردش زر کو تیز کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک Hoarding کی حوصلہ شکنی کرے توقع ہے کہ اس سے شرح تورم میں کمی آئے گی۔
12۔ اسلامی دینار ایک ایسی کرنسی ہو جیسے ڈالر یعنی اس کے پیچھے کوئی اثاثہ (سونا چاندی) بیرونی زر مبادلہ نہ ہو اس کی قدر صرف حکومتی اعتبار متعین کرے۔
13۔ ایک سال کے بعد غیر ملکی کرنسیوں کا استعمال غیر قانونی قرار دیا جائے اور ان کرنسیوں کو استعمال کرنے پر سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔
14۔ اس نئی کرنسی کے اجرا کی مقدار اس بات کو ملحوظ خاطر رکھ کر متعین کی جائے کہ اس کا منفی اثر شرح تورم پر نہ پڑتا ہو۔
15۔ اس نئی کرنسی کے اجرا کے نتیجے میں حکومت بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے اندرونی اور بیرونی قرضہ لینے سے مستثنیٰ ہو جائے گی۔ لیکن وصول یابیوں (taxation) کے نظام میں اصلاح کی ضرورت باقی رہے گی۔
زراعت:
زراعت کا شعبہ افغان معیشت میں سب سے اہم ہے اور دیہی علاقوں میں انقلابی حکومت کی حمایت سب سے زیادہ ہے۔ زراعت کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ خوراک کی پیداوار کا ذریعہ بھی ہے اور ملازمتوں کی فراہمی کا ذریعہ بھی۔ سامراج افغانستان میں خوراک کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ لہٰذا انقلابی حکومت کو زرعی شعبہ پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ افغانستان میں غذائی بحران پیدا کرنے کی سامراجی کوششیں شروع ہو چکی ہیں اور آئی ایم ایف اور امریکی دہشت گردوں نے افغانستان کے بیرونی مالیاتی اثاثوں پر قبضہ جما لیا ہے تاکہ افغانستان اجناس اور درآمد نہ کر سکے۔ ملک میں اور بالخصوص دیہی علاقوں میں اس بات کی مستقل تشہیر کرنے کی ضرورت ہے کہ سامراج افغانستان میں غذائی بحران پیدا کرکے اسلامی نظام کو تباہ کرنا چاہتا ہے کہ ہر کسان کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس مذموم سامراجی چال کو ناکام بنانے کی ذمے داری قبول کرے۔ اس کام میں دینی تنظیم بہت کارآمد ہوگی وہ مساجد میں قائم کی جائیں گی۔
(جاری ہے)