سید گیلانی۔ ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی

188

(آخری حصہ)
بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنے اندر ضم کرکے اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی جو خلاف ورزی کی تھی اس کا تقاضا یہ تھا کہ پاکستان بھی اس پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتا۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے اس کے جواب میں مذمتی بیانات تو ضرور جاری کیے لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ چناں چہ سید علی گیلانی نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط ارسال کیا جس میں انہیں بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورت انتہائی تشویشناک ہے۔ بھارت نے 5 اگست 2019ء کو کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے پاکستان کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کو توڑ دیا ہے۔ اب پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے تمام دوطرفہ معاہدوں کو ختم کردے۔ انہوں نے اس سلسلے میں شملہ سمجھوتے، تاشقند ڈیکلریشن اور معاہدئہ لاہور کا خاص طور پر ذکر کیا جو بھارتی وزیراعظم واجپائی اور پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کے درمیان طے پایا تھا۔ گیلانی صاحب نے ایل او سی پر بھارت کی جانب سے خاردار باڑھ لگانے کو بھی متنازع قرار دیا۔ یہ باڑھ جنرل پرویز مشرف کے دور میں لگائی گئی تھی اور انہوں نے اس پر خاموشی اختیار کیے رکھی تھی لیکن اب گیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے یک طرفہ اقدامات کے بعد پاکستان کی جانب سے خاردار باڑھ پر احتجاج بھی ضروری ہوگیا ہے۔ انہوں نے خط میں وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو اپنے اندر ضم کرنے، مقبوضہ علاقے کو لاک ڈائون کرنے، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کرنے اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کریں اور جارحانہ سفارت کاری کے ذریعے پوری دنیا میں بھارت کو رسوا کرنے کی مہم چلائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی خط میں جو مشورے دیے گئے تھے ان پر عمل کیا گیا۔ بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات جاری رہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو لاک ڈائون کے عذاب سے نکالنے کے لیے بھی کسی سفارت کاری کا مظاہرہ نہیں کیا گیا اور کشمیری عوام طویل عرصے تک اس اذیت میں مبتلا رہے۔
پاکستان میں ہر سال 5 فروری کو اہل کشمیر کے ساتھ یک جہتی کا دن منایا جاتا ہے۔ 5 اگست 2019ء کی بھارتی کارروائی کے بعد 2020ء میں جو یوم یکجہتی منایا گیا وہ کشمیریوں کی بے بسی کا مذاق اڑانے کے مترادف تھا۔ مظلوم کشمیری عوام لاک ڈائون کی بندشوں میں جکڑے ہوئے تھے اور پاکستان میں ان کے ساتھ یوم یکجہتی منایا جارہا تھا۔ سید علی گیلانی نے اس بے حسی پر کشمیری اور پاکستانی عوام کے نام ایک خط جاری کیا۔ جو ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن کے فروری 2020ء کے شمارے میں بطور اداریہ شائع ہوا۔ انہوں نے اپنے کشمیری ہموطنوں کو خبردار کیا کہ بھارتی عزائم کی ہر سطح پر مزاحمت کی اشد ضرورت ہے کہ یہی مزاحمت کل ہمارے لیے آزادی کی نوید ثابت ہوسکتی ہے۔ گیلانی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی کشمیری اپنی جائداد بشمول اراضی، املاک و مکانات وغیرہ غیر ریاستی باشندوں کو کسی حال میں فروخت نہ کرے۔ تمام کشمیری باشندے اپنی مساجد، مدارس اور خانقاہوں کی حفاظت کے لیے چوکس رہیں۔ انہوں نے اپنے کشمیری بھائیوں کو ہر قسم کے انتخابی ڈرامے کے بائیکاٹ کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بھارت نواز کشمیری سیاستدانوں سے کہا کہ اب بھی موقع ہے وہ اپنے عمل کا حساب کریں اور یہ طے کریں کہ وہ اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کا ساتھ دیں گے یا بھارتی قاتلوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے؟ گیلانی صاحب نے کشمیری عوام کا ساتھ دینے پر حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی داخلی سیاست کے منفی اثرات بارہا مسئلہ کشمیر کو جھیلنا پڑے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنے تمام تر وسائل بشمول جرأت و حوصلے کو بروئے کار لا کر بھارت کی حالیہ جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے کشمیر کا دفاع کرے۔
گیلانی صاحب کو اپنی پیرانہ سالی اور ناسازیِ صحت کا احساس تھا اس لیے خط کے آخر میں اپنی اِن مجبوریوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ہموطنوں اور اہل پاکستان سے کہا کہ آئندہ شاید ہی انہیں ان سے گفتگو کی مہلت مل سکے۔ یہ اہل کشمیر و پاکستان سے ان کا آخری تحریری خطاب تھا جس کے ایک سال چند ماہ بعد وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ سید علی گیلانی نے اگرچہ طویل عمر پائی لیکن وہ متعدد عارضوں کا شکار رہے۔ قلب کا عارضہ انہیں 1978ء میں ہوگیا تھا لیکن دلِ ناتواں کے ساتھ وہ بڑے بڑے معرکے سر کرتے رہے جیل کی پُرصعوبت زندگی بھی مریض دل کی حیثیت سے کاٹی۔
’’مریضِ دل‘‘ پہ ہو رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
مرض اتنا بڑھ گیا کہ دل کی دھڑکن بے ترتیب رہنے لگی۔ آخری 1992ء میں ڈاکٹروں نے پیس میکر (Pace Maker) لگوانے کا مشورہ دیا۔ چناں چہ 25 اپریل 1992ء کو یہ آلہ دل میں نصب کردیا گیا اور گیلانی صاحب نے بقیہ زندگی اسی کے سہارے گزاری۔ جسم میں کینسر تشخیص ہونے کے بعد پہلے پِتّا نکالا گیا پھر آپریشن کرکے ایک گردہ بھی نکال دیا گیا۔ جب دوسرے گردے میں کینسر کے اثرات ظاہر ہوئے تو اس کا بھی ایک تہائی حصہ کاٹ دیا گیا۔ گیلانی صاحب اس نامکمل جسم اور نہایت کمزور صحت کے ساتھ اپنی قوت ارادی کے بل پر چومکھی لڑتے رہے۔ ان کی آواز میں کبھی خوف کی جھلک محسوس نہیں ہوئی اور ان کا دل و دماغ آخری عمر تک پوری طرح چوکس اور توانا رہا۔ سید علی گیلانی نے بھارتی جیلوں میں کم و بیش 18 سال اور گھر میں 12 سال نظر بندی کی حالت میں گزارے اور اسی نظربندی کی حالت میں موت سے ہم آغوش ہوئے۔ حکومت پاکستان نے ان کی وفات سے ایک سال قبل کشمیر کی آزادی کے لیے ان کی عدیم النظیر جدوجہد کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز نشان پاکستان سے نوازا۔ وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا ’’سید علی گیلانی کشمیریوں ہی کے نہیں پاکستانیوں کے بھی رہنما ہیں۔ دنیا میں ان جیسا کوئی لیڈر نہیں‘‘۔
سید علی گیلانی نے بھارتی استعمار کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں، وہ اس کے ایجنٹوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح چبھتے تھے۔ اس لیے وہ لوگ ان کا زندہ وجود کیسے برداشت کرسکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جان لینے کی پے در پے کوشش ہوئی لیکن وہی بات کہ ’’جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے‘‘۔ قدرت ہر موقع پر ان کی حفاظت کرتی رہی اور ان کے دشمنوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ گیلانی صاحب پر جو قاتلانہ حملے ہوئے اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ 30 اکتوبر 1995ء کو حیدر پورہ سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا، مکان کو نقصان پہنچا لیکن گیلانی صاحب محفوظ رہے اور انہیں خراش تک نہ آئی۔ 10 دسمبر 1996ء کو اس خفیہ اطلاع پر کہ سید علی گیلانی اپنے بھائیوں سید میرک شاہ گیلانی اور سید محمد ولی گیلانی کے ہاں مقیم ہیں۔ دونوں کے مکافات نذر آتش کردیے گئے اور اہل خانہ نے بھاگ کر جان بچائی۔ 19 دسمبر 1996ء کو گیلانی صاحب کے ذاتی مکان واقع ڈورو کو دھماکا خیز مواد سے بلاسٹ کرکے ناقابل رہائش بنادیا گیا لیکن گیلانی صاحب پر کوئی آنچ نہیں آئی۔ اس واقعے کے بعد گیلانی صاحب حیدر پورہ کے مکان میں رہائش پزیر تھے کہ مکان پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا جس سے صحن کی دیوار منہدم ہوگئی، مکان کے شیشے ٹوٹ گئے اور اوپری منزل کو آگ لگ گئی لیکن گیلانی سمیت تمام اہل خانہ محفوظ رہے۔ تاہم فوجی کیمپ میں کسی کو یہ کہتے سنا گیا ’’آج اس کی دکان بند ہوگئی‘‘۔ حالاں کہ وہ آنکھ کھول کر دیکھتا تو دکان کھلی ہوئی تھی۔ گیلانی صاحب 1996ء کے ریاستی انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم پر سوپور سے دورہ کرکے سرینگر واپس جارہے تھے کہ راستے میں گاڑی پر بم پھینکا گیا لیکن گاڑی آگے نکل گئی اور بم اپنے ٹارگٹ پر نہ پہنچ سکا۔ حیدر پورہ سرینگر میں جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہورہا تھا کہ زبردست فائرنگ شروع ہوگئی۔ اجلاس میں سید علی گیلانی سمیت شوریٰ کے بیش تر ارکان شریک تھے۔ یہ ایک ٹارگٹڈ فائرنگ تھی جس کا مقصد سب کو ہلاک کرنا تھا لیکن اللہ کے فضل سے سب لوگ محفوظ راستوں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔
گیلانی صاحب کے بڑے بیٹے نعیم الظفر کی شادی کے موقع پر رات بھر مکان پر شدید فائرنگ ہوتی رہی۔ دلہن سمیت سب لوگوں نے مکان کے کوریڈور میں چھپ کر رات گزاری۔ ان تمام قاتلانہ حملوں میں اصل ٹارگٹ سید علی گیلانی تھے۔ دشمن ان کی زندگی ختم کرنا اور ان کی آواز کو خاموش کرنا چاہتا تھا لیکن وہ ان کا بال بھی بیکا نہ کرسکا اور کشمیر پر بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف ان کی آواز پوری دنیا میں گونجتی رہی۔ اس آواز نے بھارت پر لرزہ طاری کیے رکھا۔ گیلانی صاحب کا اصل کارنامہ یہی ہے کہ وہ کسی مرحلے پر بھی خوف یا مصلحت کا شکار نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنا ذاتی نقصان برداشت کرلیا، دوستیاں قربان کردیں، اپنے پیارے وطن پاکستان سے جدائی گوارا کرلی لیکن حق سے کبھی منہ نہیں موڑا۔ بلاشبہ اقبال کے یہ اشعار ان پر صادق آتے ہیں۔
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نہ اَبلہِ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
سچی بات ہے، سید علی گیلانی ایک کرشماتی شخصیت تھے وہ اگر سیاست میں حصہ نہ لیتے اور اپنے وطن کی آزادی کے لیے ایک پرصعوبت زندگی نہ گزارتے تو اپنے عہد کے ایک نامور ادیب، دانشور اور مفکر ہوتے تاہم انتہائی عدم فرصت کے باوجود ان کے قلم نے کتابوں کی صورت میں جو گل و لالہ کھلائے ہیں وہ ہمیشہ مہکتے رہیں گے۔ ان کی چند اہم کتابیں درج ذیل ہیں۔
ولر کنارے (سوانح حیات، تین ضخیم جلدوں میں)۔ روداد قفس (جیل کہانی دو جلدیں)۔ اقبال روح دین کا شناسا (دو جلدیں)۔ مقتل سے واپسی۔ اقبال اپنے پیغام کی روشنی میں۔ امت مسلمہ کی منصبی ذمے داری۔ وغیرہ وغیرہ
بے شک سید علی گیلانی اب ہم میں نہیں ہیں لیکن وہ موت کی آغوش میں جا کر بھی زندگی کا روشن استعارا بن گئے ہیں اور اہل عزم و عمل ان سے رہنمائی لیتے رہیں گے۔ اہل فکر جب ان کی حیات ِ مستعجل پر ایک نظر ڈالیں گے تو بے اختیار پکارا اٹھیں گے۔
ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی