آئی ایم ایف کی شرائط اور قرضوں کی نئی قسط

184

وفاقی وزیر خزانہ شوکت عزیز نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں ہم نے غریب عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کی مخالفت کی ہے۔ ہم آئی ایم ایف کی اصلاحات پر عمل درآمد کے خواہاں ہیں، تاہم اس کے لیے آئی ایم ایف کے نہیں بلکہ اپنے طریقہ کار پر عمل کریں گے۔ حکومت نے مہنگائی کا بڑا بوجھ اپنے سر پر لے لیا ہے، ہم عوامی فلاح کے لیے متعارف کرائے گئے اقدامات کا ہر سطح پر دفاع کریں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کا مطالبہ یہ ہے کہ انفردی انکم ٹیکس کے شعبے میں دی جانے والی 150 ارب روپے کی رعایتیں ختم کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 400 ارب روپے کی چھوٹ کو ختم کرکے ٹیکس وصولیات 6 ہزار 350 ارب روپے تک بڑھائی جائیں جبکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ اس سال ہم کوئی نیا ٹیکس لگائے بغیر وصولیوں کا حجم 5 ہزار 8 سو ارب روپے سے اوپر لے جائیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی دو قسطوں کی اکٹھے وصولی کے لیے حتمی مذاکرات کرنے واشنگٹن جارہے ہیں۔ واشنگٹن میں مذاکرات سے قبل وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے درمیان آن لائن مذاکرات کا دور مکمل ہوچکا ہے۔ آئی ایم ایف کی انتظامیہ کھلے الفاظ میں مطالبہ کرچکی ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخ بڑھائے جائیں اور ہر قسم کی زرتلافی ختم کی جائے جس کے ذریعے حکومت غریب اور متوسط طبقے پر پڑنے والے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ واشنگٹن روانگی سے قبل وفاقی وزیر خزانہ نے صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پہلی سہ ماہی میں ہماری کارکردگی کی بنیاد پر آئی ایم ایف ہماری سفارشات تسلیم کرلے گا۔ اور ہم عوام پر بھاری بوجھ ڈالے بغیر اصلاحات پر عملدرآمد کے حوالے سے آئی ایم ایف کو رضا مند کرنے کی کوشش کریں گے۔ واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس اور پاکستانی معیشت کے بارے میں چھٹے اور ساتویں فیصلہ کن اجلاس سے قبل آئی ایم ایف سے ورلڈ اکنامک آئوٹ لک رپورٹ 2021ء جاری کردی ہے جس میں عالمی معیشت کے ساتھ ممالک اور خطوں کی معیشت کی پیش بینی بھی کی گئی ہے۔ پاکستانی معیشت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ترقی کی شرح 4 فی صد رہے گی اور مہنگائی میں اضافہ اور بے روزگاری میں کمی آئے گی۔ اس وقت ملک کی معاشی ابتری اپنی انتہا تک پہنچ چکی ہے، اس کے بے شمار اسباب میں سب سے بڑا اور کلیدی سبب عالمی مالیاتی اداروں کے احکامات ہیں جس کی مزاحمت کسی بھی حکومت نے نہیں کی ہے۔ آئی ایم ایف کے جتنے بھی مطالبات ہیں اس کا منفی اثر زراعت، صنعت، تجارت سمیت زندگی کے ہر شعبے پر پڑ رہا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ اس وقت روپے اور ڈالر کی شرح میں فرق تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ روپے کی قدر میں تاریخی گراوٹ کے نتیجے میں ڈالر 171 روپے سے بھی بڑھ گیا ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سب سے بڑا اثر یہ پڑتا ہے کہ قرضوں کا بوجھ لمحوں میں بڑھ جاتا ہے۔ سیاسی میدان میں حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس بس ایک دوسرے پر الزام تراشی کے علاوہ کوئی پروگرام موجود نہیں ہے۔ واشنگٹن میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے وزیرخزانہ اس دعوے کے ساتھ جارہے ہیں کہ وہ واشنگٹن انتظامیہ کو اس بات پر قائل کرلیں گے کہ ہم اپنے طریقے سے اصلاحات کریں گے اور عوام پر کوئی بوجھ ڈالے بغیر قرض کی نئی قسط حاصل کرلیں گے۔ شوکت ترین صاحب اپنے پیشہ ورانہ پس منظر کے حساب سے ایک بینکار یا دوسرے لفظوں میں ساہوکار ہیں جس کی ذہنی تربیت اس بات پر ہوتی ہے کہ قرض دے کر اصل زر اور سود کیسے حاصل کیا جائے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک عالمی سطح کے سود خوار ہیں اور آئی ایم ایف کا اصل کردار ہی یہ ہے کہ کرنسی کے ذریعے دنیا بھر کے وسائل کو اپنی گرفت میں رکھا جائے۔ آئی ایم ایف سے تازہ مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب پاکستان دوراہے پر کھڑا ہے۔ امریکا نے افغانستان میں اپنی شکست کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے پاکستان پر دبائو بڑھادیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان امریکا سے فوجی تعاون کے حوالے سے مکمل انکار کرچکے ہیں، ایسے حالات میں پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ معیشت کی تباہی ہے۔ یہ تباہی ایسی صورت حال میں ہوئی ہے کہ ایک بڑا طبقہ دنیا کے دولت مند ترین لوگوں میں شامل ہوچکا ہے۔ یہ طبقہ پاکستان کی حکمراں اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس طبقے نے روپے کی شرح میں کمی کو بھی اپنی دولت میں اضافے کا ذریعہ بنالیا ہے۔ ضرورت تو اس بات کی تھی کہ آئی ایم ایف کے احکامات کو ماننے سے کلی انکار کیا جائے، لیکن ایسا کرنے کے لیے جرأت کون کرے گا۔ وزیراعظم نے قرضہ کمیشن کا اعلان کیا تھا، اب اس کا ذکر بھی سننے میں نہیں آتا۔ سیاسی سطح پر امریکی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جعلی نعرے بازی بہت ہوچکی اب ضرورت اس بات کی ہے کہ علمی اور عملی سطح پر نئی جدوجہد کی جائے۔ غربت، افلاس اور بے روزگاری کی وجہ یہ بھی ہے کہ سودی نظام نے حلال روزی کے دروازے بند کردیے ہیں۔ الحادی مغربی تہذیب اور انسانیت کش سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مکمل بغاوت کے بغیر مہنگائی اور بے روزگاری کا علاج نہیں ہوسکتا۔