گیس کی قلت کا خدشہ

149

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں سیکرٹری پٹرولیم نے انکشاف کیا ہے کہ آر ایل این جی کا گردشی قرضہ 104 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ جس میں رواں برس 90 فی صد اضافہ ہوسکتا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن نے سردیوں میں گیس کی طلب و رسد کی تفصیلات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا۔ سردی کا موسم آتے ہی گیس کی قلت کے خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ حکومت گیس کی فراہمی کا انتظام کرنے کے بجائے گیس کی لوڈشیڈنگ کا منصوبہ بنارہی ہے۔ سردیوں میں گیس کی قلت کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں لیکن صنعتی، تجارتی اور گھریلو استعمال کے لیے مکمل گیس دستیاب نہیں ہے۔ اس کا متبادل ایل این جی کی درآمد کی صورت میں تلاش کیا گیا لیکن یہ حل عوام کے لیے بوجھ بن گیا۔ سابق اور موجودہ دونوں حکومتوں نے مہنگی ایل این جی درآمد کی ہے۔ جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کے لیے بھی گیس کی لوڈشیڈنگ کا منصوبہ بنالیا گیا ہے۔ یعنی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے لوگوں کے گھروں کے چولہے بھی بجھ جائیں گے۔ ابھی موسم سرما نہیں آیا ہے لیکن ملک کے مختلف علاقوں میں گیس کا دبائو کم ہوجاتا ہے۔ شہری علاقوں میں تو گیس کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے جس سے کھانا پکایا جاسکے۔ حکومت کا فرض ہے کہ سردیوں کے موسم میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بنائے۔