اسٹریٹ کرائمز کراچی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتے ہیں ، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل

112
صدر کے سی سی آئی محمدادریس ایڈیشنل انسپکٹر جنرل عمران یعقوب منہاس کو شیلڈ پیش کررہے ہیں، زبیر موتی والا، جاوید بلوانی اوردیگر بھی موجود ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایڈیشنل انسپکٹر جنرل عمران یعقوب منہاس نے سیکنڈ ہینڈ موبائل فون کے پرزوں کی فروخت کو ریگولیٹری فریم ورک میں لانے پر زور دیا ہے جو بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کے انتہائی سنگین مسئلے سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اسٹریٹ کرائمز کراچی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتا ہے کیونکہ تمام چھینے گئے موبائل فونزکے پرزوں کو مقامی بازاروں میں فروخت کردیاجاتا ہے۔ اسٹریٹ کرائمز میں اسی وقت کمی واقع ہوگی جب سیکنڈ ہینڈ موبائل فونز کے پرزوں کی فروخت کا ریگولیٹری فریم ورک موجود ہو۔ بصورت دیگر یہ ایک چیلنج رہے گا اور ہم اسٹریٹ کرائمز کے حوالے سے تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( کے سی سی آئی) میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کے سی سی آئی زبیر موتی والا، وائس چیئرمین بی ایم جی جاوید بلوانی، جنرل سیکرٹری بی ایم جی اے کیو خلیل، صدر کے سی سی آئی محمد ادریس، سینئر نائب صدر عبدالرحمان نقی، نائب صدر قاضی زاہد حسین، سابق صدور سعید شفیق، مجید عزیز، یونس محمد بشیر، شمیم احمد فرپو، پی سی ایل سی چیف حفیظ عزیز ودیگر نے بھی شرکت کی۔کراچی پولیس چیف نے سوشل میڈیا کو خطرہ اور لعنت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا میں زیرِگردش مواد کا ایک بڑا حصہ غیر تصدیق شدہ رپورٹنگ پر مبنی ہوتا ہے جو عوام کے اعصاب سے کھیلتا ہے لہٰذا اسے بھی کنٹرول کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کراچی چیمبر کی تاجر برادری سے اپیل کی کہ وہ تمام سوشل میڈیا سائٹس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مضبوط آواز اٹھائیں اور سوشل میڈیا سائٹس جو کہ کراچی اور پاکستان کے بارے میں تاثر پیدا کرتی ہیں ان کو ایک قانونی فریم ورک میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے ڈیفنس کے علاقے میں ڈکیتیاں بڑھنے کااعتراف کرتے ہوئے کہاکہ وہاں تین گروہ کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک گروہ کو پکڑ لیا گیا ہے اور اس کے سہولت کاروں کی شناخت بھی کر لی گئی ہے۔