این ایل پی کے 4 بنیادی ستون

296

کسی بھی فرد میں جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تبدیلیاں لانے کیلئے این ایل پی کے ان چاروں بنیادی ستونوں کو بیک وقت استعمال کرنا چاہیے.

1) ماحصل

2) تعلقات

3) رویے میں لچک

4) حسیات

ماحصل:

یہ مستقبل میں ہونے والی ایک تصوراتی کیفیت ہوتی ہے جس میں فرد نے مستقبل قریب یا بعید میں کچھ نتائج حاصل کرنا ہوتے ہیں جسکے لیے سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ حقیقت میں کیا چاہتے ہیں؟، کہاں جانا چاہتے ہیں؟ اور کیا بننا چاہتے ہیں؟. مقصد جتنا واضح ہوگا اسے حاصل کرنا بھی اتنا آسان ہوگا. ڈپریشن اور نفسیاتی امراض سے چھٹکارا پانے کیلئے سب سے پہلے آپ کو واضح گول بنانا ہوگا.

تعلقات:

این ایل پی کی زبان میں اس کا مطلب ذہن کے مختلف حصوں میں تعلقات قائم کرنا ہوتا ہے. اگرچہ ذہن کے مختلف حصے نہیں ہوتے مگر یہاں اس سے مراد ایک ہی وقت میں 2 طاقتور خیالات کا موجود ہونا ہے.

مثال کے طور پر ایک نوجوان اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون بلک جانا چاہتا ہے لیکن اسے والد کے کاروبار میں ہاتھ بٹانے کا بھی خیال آتا ہے اور وہ ایک کشمکش کا شکار ہوجاتا ہے جس پر اگر قابو نہ پایا جائے تو کئی نفسیاتی اور جسمانی مسائل پیدا ہوجاتے ہیں.

رویے میں لچک:

عام زندگی میں اگر کوئی شخص اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے کوئی عمل کرتا ہے اور وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ دوسرا متبادل راستہ اپناتا ہے. اس میں بھی ناکام ہوتا ہے تو تیسرا راستہ اپناتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرلیتا ہے. این ایل پی کی زبان میں اسے رویے میں لچک behavioral flexibility کہتے ہیں.

حسیات:

کوئی شخص اپنی حسیات کو جس قدر زیادہ بڑھاتا یا بہتر بناتا ہے اتنے ہی زیادہ اچھے نتائج حاصل کرلیتا ہے. ایک نارمل انسان میں 5 بنیادی حسیات پائی جاتی ہیں: دیکھنا، سونگھنا، سننا، محسوس کرنا، چکھنا. مگر این ایل پی میں کسی تبدیلی اور آموزش کیلئے صرف تین حسیات دیکھنا، سننا اور احساس کو اہمیت حاصل ہے.