برقی مقناطیسی اسرار

296

روشنیاں ہوں یا یو ایل ایف بینڈ میں ریڈیائی خلل، دونوں ہی برقی مقناطیسی مظاہر ہیں جو زلزلے سے پہلے زمینی سطح کی گہرائی میں آنے والی تبیلیوں کے باعث رونما ہوتے ہیں.

ایسا کیوں ہوتا ہے؟، اس کے لیے معقول سائنسی وضاحت موجود ہے جو یہ بتاتی ہے کہ سطح زمین کے نیچے چٹانیں قلمی ساخت کی حامل ہوتی ہیں. زلزلے سے قبل جب ان چٹانوں پر دباؤ پڑتا ہے تو ان میں موجود قلموں کی شکل میں تبدیلی آنے لگتی ہے اور بعض اوقات وہ ٹوٹ بھی جاتی ہیں. یاد رہے کہ ابھی زلزلہ نہیں آیا ہوتا بلکہ سطح زمین کے نیچے زلزلہ آںے کے آثار ہی پیدا ہوئے ہوتے ہیں.

اپنی عام حالت میں چٹانوں اور پتھروں کو حاجز (انسولیٹر) شمار کیا جاتا ہے یعنی بجلی ان میں سے نہیں گزر سکتی لیکن شدید دباؤ کے تحت ان کی قلمی ساخت میں تبدیلی اور ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے زیر زمین زبردست برقی کرنٹ پیدا ہوتا ہے جو زمینی سطح کو پار کرکے فضا میں منتقل ہوجاتا ہے.

اور پھر اسی ٹوٹ پھوٹ اور دباؤ کی وجہ سے زلزلےجنم لیتے ہیں.