حیدرآباد، تعلیمی بورڈ مالی بحران کا شکار

145

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے 54کروڑ روپے سے زائد کے بقایاجات فوری ادا کرے، بورڈ کا کام سخت متاثر ہیں ملازمین نے بارہویں کلاس کے امتحانی نتائج روکنے کا اعلان کردیا حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے اپیکا یونٹ کے صدر عبدالعزیز جنرل سیکرٹری عبدالقادر بھٹو، محمد علی شیخ، غلام شبیر سموں ودیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ سندھ حکومت نے 2017ء میں کلاس 6سے انٹر تک تعلیم مفت کرنے کا اعلان کیا بعدمیں اپنی ذمے کی گئی طلبہ کی فیسیں بروقت ادا نہیں کیں ہر سال تعلیمی بورڈ کی رقم واجب الادا ہوتی رہی جو کہ اب54کروڑ روپے تک ہوچکی ہے جس کے باعث تعلیمی بورڈ کے عملے کی تنخواہیں، پنشن، طلبہ کی تعلیمی اسناد ، مارکس شیڈکی چھپوائی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔انہوںنے کہاکہ سندھ کے تمام تعلیمی بورڈاپنی مدد آپ کے تحت کام کرتے ہیں طلبہ سے ملنے والی فیس کی مد میں ہونے و الی آمدنی سے تمام اخراجات پورے کیے جاتے ہیں لیکن حکومت سندھ کی جانب سے انٹر تک طلبہ سے فیس نہ لینے کے اعلان کے بعد سے تعلیمی بورڈ بحران کا شکار ہے حکومت رقم ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ امتحانی نتائج کی تیاری سمیت تنخواہوں اور پنشن کا عمل سخت متاثر ہے انہوںنے وزیر اعلیٰ سندھ سمیت تمام ارباب اختیارات سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے بقایاجات ادا کیے جائیں اور بورڈ کی خود مختاری کو بحال کیاجائے طلبہ کا مستقبل دعائو پر لگنے سے بچایاجائے بصورت دیگر تعلیمی بورڈ انٹر کے امتحانی نتائج کا اعلان نہیں کرسکے گا۔