محسن کشوں کے ہاتھوں محسن کی تدفین

394

اکیس مئی 1991 میں راجیو گاندھی تامل ناڈو کے شہر پیرم بدور میں ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ جس بعد سندھ کے قوم پرست رہنما جی ایم سید نے اسی شام کو اپنے بیان میں کہا کہ ’’برِصغیر پاک و ہند کی قوم محسن کُش ہے اور سانپ کی طرح اپنے ہی محسنوں کو نگل لیتی ہے‘‘۔ سندھ کے قوم پرست رہنما جی ایم سید کا یہ بیان ان سے اختلاف کر نے والوں کو بھی بہت پسند آیا اور شاید ان کا یہ بیان پاکستان کو نا قابل ِ تسخیر بنانے والے امت ِ مسلمہ کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر پر بھی صادق آتا ہے۔ پاکستا ن کی خوفزدہ اسٹیبلشمنٹ نے دیگر ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے الزام میں ڈاکٹر خان کو 31 جنوری 2004 کو گرفتار کر لیا تھا اس وقت ان کی عمر 68 برس تھی۔ اسی قید کے دوران چار فروری 2004ء کو پاکستان ٹیلی ویژن پر ان سے ایک بیان پڑھوایا گیا جس میں انہوں نے ان کارروائیوں کی تمام تر ذمے داری قبول کر لی تھی جبکہ فوج اور حکومت کو بری الذمہ قرار دے دیا تھا۔ یہ وہ دعویٰ تھا جو بہت سارے جوہری ماہرین پاکستانی عوام اور امت ِ مسلمہ تسلیم کرنے کو اب بھی تیار نہیں اور تا قیامت تیار نہیں ہوں گے۔ اگلے دن صدر پرویز مشرف نے انہیں معافی دے دی لیکن 2009ء تک انہیں ان کے گھر میں نظربند رکھا گیا۔ جس کے فوری بعد دنیا پر ایٹم بم برسانے والے امریکا اور بالخصوص مغربی ناقدین نے ڈاکٹر خان ساتھ حکومت ِ پاکستان کے نرم رویہ پر مایوسی کا اظہار کیا جو ’دنیا میں جوہری پھیلاؤ کا سب سے بڑا کردار‘ بن کر سامنے آئے تھے۔
عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے تھے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی تھی۔ کراچی میں ابتدائی تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ یورپ گئے اور 15 برس قیام کے دوران انہوں نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بلجیم کی یونیورسٹی آف لیوین سے تعلیم حاصل کی۔ 1974ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر رابطوں کے بعد 1976 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان واپس پاکستان آئے اور 31 مئی 1976 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا نام یکم مئی 1981ء کو جنرل ضیاالحق نے تبدیل کرکے ’’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘‘ رکھ دیا تھا۔
پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک اس پروگرام کے سربراہ رہے تاہم مئی 1998 میں جب پاکستان نے بھارت کے ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب جوہری تجربہ کیا تو بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والا یہ تجربہ بھی ڈاکٹر قدیر خان کی وجہ سے ہوا تھا لیکن اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے اس دھماکے کو لسانی بنانے کوشش کی تھی۔ ڈاکٹر قدیر خان پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا لیکن ہالینڈ، بلجیم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر خان کو بری کرنے کی سفارش کی جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کر دیا تھا۔
ہر پاکستانی کے لیے ڈاکٹر خان قومی عزت و وقار کی علامت تھے۔ انہیں ہیرو تصور کیا جاتا تھا اور قیامت تک عالم ِ اسلام کے ایٹمی ہیرو ڈاکٹر قدیر ہی ہوں گے اور ان کو زیرو بنانے والے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زیرو بن چکے ہیں۔ ڈاکٹر قدیر نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی قومی سلامتی کو مضبوط اور ناقابل تسخیر بنایا۔ دسمبر 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو ڈاکٹر خان سے ملے اور ان کی حوصلہ افزائی کی کہ جوہری بم کے حصول کے لیے وہ پاکستان کی جس حد تک مدد کر سکتے ہیں کریں۔ اگلے سال ڈاکٹر خان نے مبینہ طور پر سینٹری فیوجز کی ’ڈرائنگز‘ (نقشے یا خاکے) حاصل کیے اور بنیادی طور پر مغربی سپلائرز کی فہرست تیار کی جو اس کام کے لیے پرزہ جات فراہم کر سکتے تھے۔ پاکستان میں اگر جوہری پروگرام کے ساتھ ڈاکٹر خان کا نام جڑا ہوا ہے تو مغربی ممالک میں ان کا نام ’جوہری پھیلاؤ‘ سے منسلک ہے انہیں بد نام کیا جاتا ہے۔
جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ امریکا نے ڈاکٹر قدیر پر جوہری پھیلاؤ کا الزام لگا کر ان کو پاکستان سے گرفتار کرنے لیے جہاز پاکستان کے ائر پورٹ پر لاکر کھڑا کر دیا تھا اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام بند کرنے کی تیاری مکمل کر لی تھی اور اگر ڈاکٹر قدیر نے ساری ذمے داری قبول نہ کی ہوتی تو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکا بمباری کر کے اُڑا دیتا لیکن 2001ء میں مشرف امریکا کے دوست تھے تو پھر قوم کو یہ جواب کون دے گا کہ’’پاکستان میں امریکا کے جہاز کو کس کی اجازت سے ائر پورٹ پر اُترنے دیا گیا اس بات پر بھی غور ہو لیکن وہ جواب دینے کے بجائے اب دبئی میں بیٹھے ہیں اور پورا پاکستان ڈاکٹر قدیر کی موت کے غم میں ڈوبا ہوا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں جوہری بیانیے پر ڈاکٹر خان کی اجارہ داری کے اختتام کا آغاز تھا۔ یہ اجارہ داری پہلے ہی امن کے حامی کارکنوں کی طرف سے حملے کی زد میں تھی۔ لیکن اب ریاستی مشینری کے اندر سے آوازیں اس بیانیے پر ڈاکٹر خان کے مکمل کنٹرول پر سوالات اٹھا رہی تھیں۔ ’پاکستان کے جوہری ہتھیار‘ کے عنوان سے یکم اگست 2016 کو ’امریکی کانگریس ریسرچ سروس‘ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ’پاکستان کے سابق جوہری سائنسدان ڈاکٹر اے کیو خان اس کے حصول کا ذریعہ بنے اور نتیجتاً یورینیم افزودگی سے متعلق ڈیزائن اور مواد کی لیبیا، شمالی کوریا اور ایران کو فراہمی کے لیے اسی طرح کا نیٹ ورک استعمال کیا۔ لیکن پاکستان نے اس بات کا جواب نہیں دیا کہ ڈاکٹر خان کبھی بھی جوہری بم کے ڈیزائن سے منسلک نہیں رہے بلکہ ان کی کاوشیں انتہائی اعلیٰ معیار کی افزودہ یورینیم کے مواد کی تیاری تک محدود تھیں۔
ڈاکٹر قدیر اب تاریخ کا حصہ ہیں اور تاریخ نے ان کی زندگی میں ہی یہ فیصلہ سنا دیا تھا ’’عالم اسلام میں ایٹمی شمولیت کا ہیرو ڈاکٹر قدیر ہی تھے اور رہیں گے۔ محسن کُشوں کی جگہ تاریخ کے تاریک گوشوں میں تھی اور رہے گی جہاں وہ حقارت و نفرت کا نشان بنے رہیں گے۔