واحد آپشن طالبان

219

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے کہا ہے کہ داعش سے نجات کے لیے طالبان بہترین آپشن ہیں۔ امریکا صدمے میں ہے۔ طالبان کو تنہا چھوڑا تو یہ 20 سال پہلے والے طالبان بن جائیں گے۔ وزیراعظم نے گویا امریکا کو بہت سے الزامات اور خدشات کا جواب دیا ہے کہ اگر افغانستان کو پیکیج نہ دیا گیا تو وہ داعش کی پناہ گاہ بن جائے گا اور امریکا و اتحادیوں کی تمام کوششیں ضائع ہوجائیں گی۔ وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی آنکھیں بند ہیں۔ ہم پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی دبائو نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی پوری گفتگو مختلف سمتوں میں گردش کررہی ہے۔ انہوں نے داعش کے خطرے سے نجات کے لیے واحد انتخاب طالبان کو قرار دیا ہے اور یہ اس اعتبار سے درست ہے کہ طالبان فاتح ہیں۔ امریکا کو شکست دی ہے اور افغانستان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مناسب درگت بنا کر انہیں افغانستان سے نکال باہر کیا ہے، تو جو لوگ امریکا اور اس کے اتحادیوں کا صفایا کرسکتے ہیں ان کے لیے داعش کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ لیکن اس کے بجائے عمران خان کو صرف اتنا کہنا چاہیے تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے امریکا اور اس کے اتحادی طالبان کی حکومت کو مستحکم کریں اور اس سے جو بھی مطالبات ہیں وہ بھی مذاکرات کے ذریعے منوالیں۔ لیکن داعش کے خطرے کا اظہار کرکے اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اس نے دہشت گردی کے منصوبے بنائے ہیں اور دھماکے بھی ہوگئے پھر داعش کا اعتراف بھی سامنے آگیا۔ یہ صورت حال عجیب و غریب ہے۔ داعش کے قیام کے وقت سے ساری دنیا کے سامنے یہ حقیقت ہے کہ اس کو امریکا نے عراق اور شام میں حالات خراب کرنے اور عراق میں امریکی پسپائی چھپانے کے لیے بنایا اور استعمال کیا تھا۔ داعش کے لیے اسلحہ، گاڑیاں اور بھاری توپیں وغیرہ کھلے عام عراق سے شام چلی گئیں۔ لہٰذا افغان مسئلے کا حل وہاں کی حکومت کو مستحکم کرنا ہے، وہاں مداخلت کرنا نہیں۔ وزیراعظم کے بیان سے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ ایک طاقت کو دوسری طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی بات کررہے ہیں لیکن اگر نظام مستحکم کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس بات کے ساتھ ہی وزیراعظم نے دنیا کو یا امریکا کو خوفزدہ کرنے کے لیے کہا ہے کہ اگر طالبان کو تنہا چھوڑا تو وہ 20 سال پہلے والے طالبان بن جائیں گے۔ اس کا کیا یہ مطلب لیا جائے کہ پہلے والے طالبان ٹھیک نہیں تھے خراب تھے۔ ان جیسے لوگ اگر دوبارہ نظام مملکت چلائیں گے تو دنیا میں خرابی ہوگی۔ یہ بات پہلے جملے کی نفی کررہی ہے۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وزیراعظم طالبان اور داعش کو لڑوانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ اگر پیکیج نہ دیا گیا تو افغانستان داعش کی پناہ گاہ بن جائے گا۔ لیکن اس جملے میں بھی دوسرا حصہ متضاد ہے۔ یعنی کہتے ہیں کہ اگر پیکیج نہ دیا گیا تو افغانستان کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوںکی کوششیں ضائع ہو جائیں گی۔ حالانکہ انہوں نے افغانستان کے لیے 20 سال تو کوششیں کرلیں ہاں ان کی کوششیں ناکام ہی ہوئیں کیوں کہ وہ طالبان سے شکست کھا کر بھاگے ہیں، تو پھر کون سی کوششیں ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ افغان مسئلے کے بارے میں پاکستانی حکمرانوں کو بار بار یہی مشورہ دیا جارہا ہے کہ ان کے ساتھ اچھے پڑوسی کی طرح رہیں، اپنے مفادات کو قربان نہ کریں، ان کے معاملات میں مداخلت نہ کریں، طرح طرح کی باتیں نہ کریں بلکہ صرف پڑوسی حکومت کو اپنے قدم جمانے دیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہم طالبان پر پابندی لگا کر کیا کرلیں گے؟ یہ بات بالکل درست ہے امریکا اور اس کے 40 اتحادیوں نے کیا کرلیا جو پاکستان کو طالبان کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس اعتبار سے حکومت کی پالیسی درست ہے کہ طالبان سے الجھنے سے گریز کیا جائے، کشمیر کے معاملے میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی آنکھیں بند ہیں۔ اور یہ بات بالکل درست ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں، بالکل اسی طرح اسرائیل کے معاملے میں بھی یہی کیفیت ہے، لیکن دونوں معاملات میں اقوام متحدہ گنگ ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کیوں مداخلت کرے؟ جب پاکستان خود اپنے حق کے لیے اس طرح نہیں کھڑا ہوا جس طرح اسے کھڑا ہونا چاہیے۔ پاکستان کے اقدامات محض تقریر، زبانی جمع خرچ اور توجہ دلانے تک محدود ہیں تو پھر دنیا توجہ نہیں کرے گی۔ نہایت مضبوط موقف کے ساتھ دنیا بھر میں وفود بھیج کر کشمیر کے معاملے کو حل کرنے کی ضرورت بھی ہے۔ خواہ کچھ بھی کہا جائے، طاقت کے جواب میں طاقت بھی ضروری ہے، تو جو لوگ اور قوتیں جہاد میں مصروف ہیں یا کشمیر میں حریت کے متوالوں کی مدد کررہی ہیں ان کو تقویت دی جائے۔ اب پاکستان سے جنگجو بھیجنے کی ضرورت نہیں لیکن کشمیری مجاہدین کی ضرورت پوری کرنا ضروری ہے۔ وزیراعظم اپنے حصے کا کام تو کریں پھر اقوام متحدہ سے شکوہ بھی کرتے رہیں۔