پولیس ہی قانون شکنی میں ملوث؟؟

180

کئی روز سے ایک ہی قسم کی خبریں سامنے آرہی ہیں کہیں گٹکا مافیا کی سرپرستی میں پولیس کا نام ہے کہیں شراب کی فروخت میں۔ ایسے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا بھی محکمانہ حکم جاری ہو گیا ہے ظاہر ہے پولیس کی سرپرستی کے بغیر گٹکا اور ماوا کی فروخت نہیں ہو سکتی۔ شراب کا کاروبار اور چرس وغیرہ بھی پولیس کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ لیکن ایک اور خبر نے اس معاملے کی سنگینی میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور وہ سٹی کورٹ کے مال خانے سے متحدہ کے دہشت گردوں کو کرائے پر اسلحہ دینے کا معاملہ ہے۔ یہ اس قدر سنگین جرم ہے کہ اس کے نتیجے میں بڑے بڑے افراد کے قتل کے مقدمات کی تفتیش ہی غلط رخ پر جا سکتی ہے۔ کیونکہ طبی رپورٹ میں جس اسلحہ کے استعمال کا ذکر ہوتا ہے وہ تو کسی کے پاس سے برآمد ہو ہی نہیں سکتا۔ واردات کے بعد دوبارہ مال خانے میں جمع ہو جاتا ہے۔ متحدہ کے کئی دہشت گرد اسی طرح جیل سے نکل کر واردات کرتے اور رات کو پھر جیل کی محفوظ پناہ گاہ میں چھپ جاتے تھے۔ تازہ واقع میں ایس ایس پی سینٹرل ملک مرتضیٰ نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے ان کے انکشاف نے مزید چونکا دیا کہ ایک شخص ان کو 8 ہزار روپے کے عوض اسلحہ مال خانے سے دلواتا اور پھر وارداتوں میں بھی ساتھ دیتا۔ اگر کسی وجہ سے متحدہ کے لوگ گرفتار ہو جاتے تو ان کا وکیل بن کر تھانے پہنچ جاتا تھا۔ ان سارے کاموں سے پولیس واقف تھی لیکن پیسوں کی وجہ سے سب خاموش رہتے تھے۔ قاتلوںیا جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی یا سیاسی دبائو کے نتیجے میں مخصوص سیاسی پارٹی کے دہشت گردوں کے ساتھ نرمی تو عام تھی لیکن پولیس کے مال خانے سے اسلحہ نکال کر واردات کرنے والوں کو کرایہ پر دینا تو پولیس کے محکمے کو بھی مافیا کا حصہ قرار دینے کے لیے کافی ہے۔ کبھی چرس فروخت کرتے ہوئے پولیس اہلکار پکڑے جاتے ہیں کبھی لوگوں کے مکانات پر قبضے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ گلستان جوہر بلاک 8 میں بھی زیر تفتیش ہے۔ پولیس اہلکار مکان کے کاغذات طلب کر رہے ہیں جبکہ عدالت نے انہیں ایسا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔پھر بھی کہا جاتا ہے کہ پولیس عوام کی محافظ ہے۔