امریکی سینیٹ میں افغان مخالف بل – مسعود ابدالی

198

امریکی سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے خارجہ تعلقات کے نائب سربراہ (Ranking Member) سینیٹر جم رِش نے انسداد دہشت گردی، نگرانی اور احتساب برائے (سقوطِ) افغانستان یا Afghanistan Counterterrorism, Oversight and Accountability کے عنوان سے ایک مسودئہ قانون یا بل پیش کیا ہے۔ پیر 27 ستمبر کو جمع کرائے جانے والے اس بل پر محرک سمیت 22 سینیٹرز نے دستخط کیے ہیں۔ بلااستثنا تمام کے تمام دستخط کنندگان کا تعلق ری پبلکن پارٹی کے قدامت پسند، مسلم مخالف دھڑے سے ہے۔ مسودے کے مندرجات پر گفتگو سے پہلے بل پیش کرنے والے بعض فاضل ارکانِ سینیٹ کے بارے میں چند سطور، تاکہ قارئین اس مسودئہ قانون کے اصل محرکات کا اندازہ کرسکیں۔

ریاست Idahoکے سینیٹر جم رِش اسرائیل کے نہ صرف پُرجوش حامی ہیں بلکہ وہ صہیونی ریاست کی حمایت کو اپنے مسیحی عقیدے کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ پندرہ سال پہلے کچھ سلیم الفطرت امریکی اساتذہ، وکلا، سماجی کارکنوں اور طلبہ نے اسرائیل پر معقولیت اختیار کرنے کے لیے دبائو کی غرض سے اسرائیل کے اقتصادی بائیکاٹ کی مہم شروع کی جسے اقتصادی بائیکاٹ، عدم سرمایہ کاری اور پابندی (Boycott, Disinvestment and Sanctions) المعروف BDSکا نام دیا گیا۔ اس مہم کو جامعات میں پذیرائی نصیب ہوئی۔ اکثر جامعات اپنی وقف دولت کو سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتی ہیں تاکہ ان کی دولت میں اضافہ ہو۔ بی ڈی ایس نے تحریک چلائی کہ ان رقومات سے اسرائیلی اداروں میں سرمایہ کاری نہ کی جائے۔ اس سلسلے میں امریکہ کی موقر ترین جامعہ کیلی فورنیا برکلے میں BDSکو زبردست کامیابی نصیب ہوئی، اور طلبہ یونین نے اسرائیلی بائیکاٹ کی قرارداد منظور کرلی۔ کچھ دن بعد جامعہ کی سینیٹ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی طلبہ کی تجویز کو سندِ توثیق بخش دی۔

یہ خبر سامنے آتے ہی امریکی کانگریس میں اسرائیلی ترغیب کاروں (Lobbyist) نے زبردست مہم چلائی اور جان رش نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر Israeli Anti-Boycott Act منظور کرا لیا جس کے تحت BDS کی حمایت کو یہود دشمن یا Anti-Semitic گردانتے ہوئے اسرائیل کے بائیکاٹ کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا۔ اس قانون کے مطابق اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والے تعلیمی اداروں کو وفاقی حکومت کی مدد اور گرانٹ نہیں دی جاسکتی۔

وسکونسن کے سینیٹر ران جانسن نے جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل پر ہونے والے مظاہروں کو کمیونسٹ زیرزمین دہشت گرد تنظیم Antifa کی تحریک قراردیتے ہوئے مظاہرین کے خلاف فوج کے استعمال کا مطالبہ کیا۔ موصوف نے اس سال جنوری میں صدارتی انتخاب کے بعد الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کے دوران کانگریس کی عمارت پر دائیں بازو کے دہشت گرد حملے کی دبے الفاظ میں حمایت کی۔

ریاست اوہایو کے راب پورٹ مین سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے اندرون سلامتی کے نائب سربراہ اور اسرائیل کے پُرجوش حامی ہیں۔

ریاست مس سپپی(Mississippi) کی محترمہ سینڈی ہائیڈ اسمتھ نے ووٹنگ رائٹ بل کی مخالفت کی۔ اس قانون کا مقصد سیاہ فام اور رنگ دار افراد کے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ کو سنگین جرم قرار دینا ہے۔

ریاست ٹینیسی (Tennessee) کی محترمہ مارشا بلیک برن نے صدر اوباما کے انتخابات کے بعد برتھ سرٹیفکیٹ بل پیش کیا تھا جس کے مطابق صدارتی انتخاب لڑنے والے افراد کے لیے امریکہ میں اپنی پیدائش ثابت کرنے کے لیے صداقت نامہ جمع کرانا ضروری قرار دیا گیا تھا۔ امریکہ کے نسل پرستوں کا مؤقف تھا کہ صدر اوباما ایک افریقی کے بیٹے ہیں جن کی ولادت کینیا میں ہوئی تھی۔

فلوریڈا کے سینیٹر مارکو روبیو نے چند برس پہلے Combating BDS ACTکے عنوان سے ایک مسودئہ قانون پیش کیا جس میں اسرائیل کے بائیکاٹ پر جرمانہ دگنا کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ روبیو صاحب کے والدِ بزرگوار کیوبا سے ہجرت کرکے فلوریڈا تشریف لائے تھے، لیکن ایک مہاجر کے چشم و چراغ روبیو کو غیر ملکیوں کا امریکہ آنا پسند نہیں۔

اس بل کے دوسرے اہم حمایتیوں میں ری پبلکن پارٹی کے وہپ جان تون (John Thune)، سابق صدارتی امیدوار مٹ رامنی، محترمہ سوزن کالنز، رچرڈ بَر اور جان ارنسٹ شامل ہیں۔ یہ تمام کے تمام افراد اپنی فکر کے اعتبار سے قدامت پسند، اسرائیل کے حامی اور مسلم مخالف سمجھے جاتے ہیں۔

مجوزہ بل میں افغانستان سے امریکی انخلا کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ:

٭معاملے کا جائزہ لینے کے لیے امریکی وزارتِ خارجہ ایک ٹاسک فورس تشکیل دے، جو افغانستان میں اب بھی موجود امریکی شہریوں، حاملینِ گرین کارڈ اور امریکی فوج کے سہولت کاروں کے وہاں سے باعزت و باحفاظت انخلا کی حکمت عملی مرتب کرے۔ وہاں سے خصوصی امیگریشن ویزا(SIV)اور بطور پناہ گزین امریکہ آنے والوں کے لیے ایک جامع طریق کار متعین کیا جائے۔

٭افغانستان میں انسداد دہشت گردی اور بطورِ مالِ غنیمت طالبان کے ہاتھ آنے والے امریکی اسلحے کو ٹھکانے لگانے (disposition) کی حکمت عملی تیار کی جائے

٭طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کے ساتھ منشیات فروشوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں۔

٭ریاستی اور غیر ریاستی عناصر بشمول پاکستان کی طرف سے طالبان کو ملنے والی مبینہ مالی مدد، محفوظ پناہ گاہوں اور سازو سامان اور تربیت کی مبینہ فراہمی کا جائزہ لیا جائے۔

٭ایسے ممالک اور افراد جو 2001ء سے 2021ء تک طالبان کی حمایت کرتے رہے ہیں اُن پر پابندیاں عائد کی جائیں۔

٭مسودے کے مطابق رپورٹ میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران اور 15 اگست کو کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کس نے طالبان کی مدد کی۔

٭مجوزہ بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ محکمہ خارجہ، دفاع اور سراغ رساں اداروں کے حکام یہ رپورٹ بل منظور ہونے کے 180 روز کے اندر کانگریس کو جمع کرائیں۔

بادی النظر میں یہ بل صدر بائیڈن کے خلاف فردِ جرم نظر آرہی ہے۔ سینیٹ میں سماعت کے دوران امریکی جرنیلوں سے کیے جانے والے ری پبلکن ارکان کے تیکھے سوالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی حزبِ اختلاف افغانستان میں اپنی شکست کا ملبہ صدر بائیڈن پر ڈالنا چاہتی ہے۔

اب سے تیرہ ماہ بعد امریکہ میں وسط مدت کے انتخابات ہونے ہیں، اور جائزوں کے مطابق صدر بائیڈن کی مقبولیت تیزی سے کم ہورہی ہے۔ امریکی سینیٹ میں اس وقت برسراقتدار ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کی پارلیمانی قوت بالکل برابر ہے، یعنی 100 رکنی ایوان میں دونوں پچاس پچاس نشستوں پر براجمان ہیں۔ چونکہ بر بنائے عہدہ، سینیٹ کی سربراہی نائب صدر کے ہاتھ میں ہے، اس لیے کملا دیوی ہیرس صاحبہ اہم رائے شماری کے دوران اپنا فیصلہ کن ووٹ ڈال کر صدر بائیڈن کی نیّا پار لگادیتی ہیں۔ ایوانِ زیریں میں بھی صدر بائیڈن کی جماعت کو معمولی سی برتری حاصل ہے اور 435 کے ایوان میں ان کے 220 ارکان ہیں، یعنی واضح اکثریت سے صرف دو زیادہ۔ ری پبلکن پارٹی نے کانگریس سے ڈیموکریٹک پارٹی کی برتری ختم کرنے کے لیے انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ امریکی حزبِ اختلاف اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے خاصی پُرامید ہے کہ اگر ایوانِ زیریں کی صرف تین نشستیں ڈیموکریٹک پارٹی سے چھین لی جائیں تو بائیڈن اقتدار کے آخری دو سال امریکی صدر کے لیے عذاب بن سکتے ہیں۔

اگلے سال سینیٹ کی جن 34 نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں اُن میں قرارداد پر دستخط کرنے والے9 ارکان بھی شامل ہیں جنھیں مدت پوری ہونے پر ووٹروں کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ اس بل کے کئی دستخط کنندگان کی نظریں 2024ء کے صدارتی انتخابات پر ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے تجزیہ نگار اس قرارداد کو پاکستان کے خلاف پابندیوں کے نئے سلسلے کا نقظہ آغاز قرار دے رہے ہیں، جبکہ امریکی سیاست کے ماہرین کا خیال ہے کہ تحریک کا بنیادی محرک 2022ء کے وسط مدتی پارلیمانی اور 2024ء کے صدارتی انتخابات ہیں۔

ری پبلکن پارٹی افغانستان میں شکست کی ذمہ داری صدر بائیڈن کے سرڈال رہی ہے، حالانکہ اس بے مقصد خونریزی کا آغاز اکتوبر 2001ء میں ری پبلکن صدر بش نے کیا، اور جب 29 فروری 2020ء کو ”ہتھیار ڈالنے“ کی تقریب قطر میں منعقد ہوئی تب ایک اور ری پبلکن صدر ٹرمپ برسرِ اقتدار تھے۔ قطر معاہدے میں بہت صراحت سے درج تھا کہ امریکی فوج کا انخلا یکم مئی 2021ء تک مکمل کرلیا جائے گا۔ اور کورونا کی وجہ سے عسکری نقل و حرکت پر پابندی کے باوجود افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا جاری رہا، جس کے لیے فوج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے صدر ٹرمپ نے استثنا جاری کیا۔ صدر بائیڈن کا مؤقف بھی یہی ہے کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کے دور میں طے پانے والے معاہدے کی پاس داری کرتے ہوئے طالبان کی رضامندی سے انخلا کو اگست تک موخر کیا۔

افغانستان سے فوجی انخلا پر تو ساری امریکی قوم یکسو تھی، اور طالبان کی برتری بھی امریکیوں نے تسلیم کرلی تھی۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ طالبان اپنے وعدے کے مطابق پسپا ہوتی ان کی فوج کو تحفظ فراہم کریں گے اور امریکہ افغانستان کا انتظام اشرف غنی انتظامیہ کو منتقل کرکے باعزت انداز میں وہاں سے نکل آئے گا۔ امریکیوں کو یہ خدشہ تو تھا کہ نیٹو انخلا کے بعد افغان فوج کے لیے طالبان کا مقابلہ آسان نہ ہوگا، لیکن انھیں ملک کی قبائلی ترکیب کی بنا پر ”امید“ تھی کہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا، اور پھر اقوام عالم کے ساتھ مل کر امریکہ افغانستان میں ”اصلاحِ احوال“ کی کوشش کرے گا، جس سے شکست اور پسپائی کا تاثر ختم ہوجائے گا۔

لیکن 3 اگست کو نمروز کے دارالحکومت میں افغان فوج نے اپنا اسلحہ طالبان کے حوالے کردیا، جس کے دوسرے دن ہرات میں جنگجو رہنما اسماعیل خان نے ہتھیار ڈال دیے، اور صرف چند ہی دنوں میں ایک بھی گولی چلائے بغیر طالبان نے اس شان سے افغانستان پر قبضہ کیا کہ امریکی فوج کا جدید ترین اسلحہ اُن کے قبضے میں آگیا۔ امریکی وزارتِ دفاع کے ذرائع اس مالِ غنیمت کی مالیت 80 ارب ڈالر قرار دے رہے ہیں۔

سارے ملک پر قبضے کے باوجود طالبان نے کابل میں داخل ہونے سے گریز کیا، کہ قطر میں ملا عبدالغنی برادر کو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے یقین دلایا تھا کہ اگر طالبان عام معافی کا وعدہ کریں تو افغان حکومت ”باعزت انتقالِ اقتدار“ کے لیے تیار ہے۔ طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ اس سے پہلے ہی عام معافی کا اعلان کرچکے تھے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب کی یقین دہانی اور اس کی امریکہ کی جانب سے توثیق کے بعد طالبان نے کابل کی طرف پیش قدمی روک دی۔ لیکن اس کے دوسرے ہی دن صدر اشرف غنی فرار ہوگئے اور ان کے نائب امراللہ صالح نے پنج شیر میں پناہ لے لی۔ اس کے بعد جو ہوا اس کی تفصیل امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مائک ملی نے امریکی سینیٹ میں خود بیان کی ہے۔ جنرل صاحب نے سماعت کے دوران بتایا کہ کابل کو چند درجن موٹر سائیکل سواروں نے جو اللہ اکبر کے نعرے لگارہے تھے، ایک بھی گولی چلائے بغیر فتح کرلیا۔ جنرل ملی نے افسردہ لہجے میں کہا کہ جدید ترین اسلحے سے لیس تین لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ فوج چند ہزار طالبان کے سامنے گیارہ دن بھی نہ ٹھیر سکی۔

افغان فوج کے دل چھوڑ دینے اور اشرف غنی کے غیر متوقع فرار سے باعزت پسپائی کا امریکی منصوبہ درہم برہم ہوگیا اور اقوام عالم کے سامنے امریکہ ہزیمت اور رسوائی کا استعارہ بن گیا۔ جو کچھ وسط اگست میں ہوا اس کی بنیاد قطر معاہدہ ہے جس پر صدر ٹرمپ کے حکم سے دستخط کیے گئے، لیکن اس کے منطقی انجام کی شرمندگی بائیڈن انتظامیہ کو اٹھانی پڑی، اور اب ری پبلکن پارٹی قومی شرمندگی کو جماعتی مفاد کے لیے استعمال کررہی ہے۔

معاملہ اگر صدر بائیڈن کے احتساب تک رہتا تب بھی ٹھیک تھا، کہ امریکہ کی داخلی سیاست سے دنیا کو کیا سروکار! لیکن اس مسودئہ قانون کی منظوری افغانستان اور پورے خطے میں امریکی مداخلت کے ایک نئے سلسلے کا نقطہ آغاز ہوگی۔ طالبان کے خلاف کڑی اقتصادی پابندیوں کے ساتھ نئی افغان حکومت کو تسلیم کرنے والے ممالک کو بھی چچا سام کے عتاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ امریکی حکومت پاکستان، طالبان اور چین کے مقابلے میں ہندوستان کے دفاع، معیشت اور سفارت کاری کے شعبوں میں مدد کی پابند ہوگی۔ بعض سینیٹرز نے اویغور مسلمانوں کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی حکمت عملی تجویز کی ہے جس کے لیے ترکی، ازبکستان اور تاجکستان کی مدد درکار ہوگی۔ طالبان حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے تاجکستان میں پناہ گزین امراللہ صالح اور احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود کی نصرت بھی نئی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہوگی۔

اس بل کے قانون بن جانے کی صورت میں وسط ایشیا کے افغانستان سے تعلقات میں تلخی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ چین اور ازبکستان و تاجکستان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کی جائے گی، اور ہندوستان کو چین اور پاکستان کے خلاف اکسایا جائے گا۔ یہ بدنصیب علاقہ کئی دہائیوں سے تصادم اور جنگوں کا عذاب سہہ رہا ہے۔ اب صدر بائیڈن سے 2020ء میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے ان قدامت پسند و متعصب سینیٹرز نےنفرت و بداعتمادی کے بارود پر نئی چنگاری بکھیرنے کا عزم کرلیا ہے۔

(This article was first published in Friday Special)