ڈاکٹر قدیر چاہتے تھے،ٹیکنالوجی میں پاکستان مسلم دنیا کو لیڈ کرے ،ثمر مبارک مند

239

اسلام آباد (صباح نیوز) پاکستان کے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان چاہتے تھے پاکستان ٹیکنالوجی میں مسلم دنیا کو لیڈکرے،انہوں نے ملکی دفاع ناقابل تسخیر بنانے کے لیے کام کیا۔ان خیالات کااظہار ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر کے انتقال پر گہرے دکھ اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے درد رکھنے والا انسان ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے، ہمیں اس بات کا دکھ ہے۔ ثمر مبارک مند نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے ذہن میں بڑی تصویر یہ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ وہ مسلم امہ کے لیے ایسی چیز بنادیں کہ دفاع کے میدان میں مسلم امہ بہت زیادہ مضبوط ہو، مغربی معاشرہ چھوٹے ملکوں کو دباتا بھی ہے اور اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش بھی کرتا ہے ، وہ چیز نہ ہو ہم اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہوں اور اپنی عزت کے ساتھ دنیا میں رہ سکیں، انہوں نے پاکستان کے لیے جتنے بڑے بڑے کام کیے، پاکستان کے دفاع کے لیے اتنا بڑا کام کیااور اس طریقہ سے کا م کو منظم کیا کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے 20سال بعد بھی اسی جوش وخروش سے چل رہا ہے جس طرح ان کی زندگی میں چل رہا تھا اور جب وہ کہوٹہ میں کام کررہے تھے۔ انہوں نے بڑی اچھی ٹیم تشکیل دی اور اس کو متحرک کیا، یہ کام اتنا بڑا کام ہے جس پر مغربی دنیا بڑی حیران تھی کی کہیں یہ ٹیکنالوجی دیگر مسلم دنیا میں بھی نہ پھیل جائے ۔ثمر مبارک مند نے کہا کہ ڈاکٹر عبدلقدیر خان ، بیلجیئم سے ایٹمی ٹیکنالوجی لے کر تنہا انسان کے طور پر آئے تھے، مجھے اس بات پر بڑا فخر ہے کہ میں نے ان کے ساتھ مل کر کام کیا۔ڈاکٹرثمر مبارک مند نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر قدیربہت ہی اچھے انسان تھے اور وہ بہت زیادہ لوگوں کے تکالیف کو محسوس کرتے تھے اور وہ بہت حساس انسان تھے،انہوںنے بہت زیادہ لوگوں کے مسائل کو حل کیا ۔