قرآن کی اثر انگیزی

202

قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور وہی انسانوں کی نفسیات سے کماحقہ واقف ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ انسانوں کی نفسیات پر کیسے اثر انداز ہوا جاسکتا ہے اور اس کی نفسیات کن چیزوں سے کیسے اثر قبول کرسکتی ہے۔ قرآن میں اس نے اسی اسلوب اور پیرایے میں گفتگو کی ہے۔ انسان اگر کسی تعصب میں گرفتار نہ ہو اور وہ قلب سلیم اور مثبت ذہنیت کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرنے پر آمادہ ہو تو اس کے اسرار ورموز اس پر کھلتے چلے جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ کتاب اس کی شخصیت پر اپنے اثرات مرتب کرتی چلی جاتی ہے اور اس کی ذات قرآن کی آئینہ دار بن جاتی ہے۔ ایک وقت وہ بھی آتا ہے جب وہ اس حقیقت کا اعتراف بھی کرتا ہے کہ یہ کتاب حق ہے اور رب کائنات کی طرف سے اس کا نزول ہوا ہے۔ یہ کتاب انسانوں کو بھی متاثر کرتی ہے اور جنوں کو بھی۔ یہ بیک وقت عام انسانوں کے، اہل کتاب اور اہل ایمان سب کو متاثر کرتی ہے۔ اس کتاب کا اثر انسان کی جلد پر، آنکھ پر، دل پر اور دماغ پر اور اس کے پورے وجود پر پڑتا ہے۔ جسم پر جب اس کا اثر پڑتا ہے تو وہ کانپنے لگتا ہے، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل خوف خدا سے لرزنے لگتا ہے۔ انسان کے وجود پر خشیت طاری ہوجاتی ہے اور اس کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو رواں ہوجاتے ہیں۔
غوروفکر :
قرآن سے کامل فیض یاب وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اس کے معانی ومطالب کو سمجھنے کے لیے غور وفکر کے ساتھ اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جو لوگ تفہیم قرآن سے بے نیاز ہوکر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ان کو اس کا ثواب تو مل سکتاہے لیکن ان کی ذات پرقرآن خوانی کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
’’اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمھارے سامنے پیش کرتا ہے، شاید کہ ان علامتوں سے تمھیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے‘‘۔ (آل عمران)
’’زمین اور آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ہوش مندوں کے لیے نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین وآسمانوں کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں۔ وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں: پروردگار! یہ سب کچھ تُو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے۔ پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے‘‘۔ (آل عمران)
کتاب کی تلاوت کا حق ادا کرنا:
قرآن مجید کی تلاوت کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان (1)اسے خوب توجہ سے پڑھے(2)اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے (3)اس میں جو کچھ تحریر ہے، اسے لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اس کو چھپائے نہیں (4)اس کی محکم باتوں پر عمل کرے اور متشابہات پر پختہ ایمان رکھے۔ (5)اس کے ہر حکم کا اتباع کرے۔
ارشاد ربّانی ہے:
’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے۔ وہ اس قرآن پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔‘‘ (البقرہ)
غیرذی روح پر اس کااثر:
قرآنِ مجیدکا اثر ذی روح پر تو ہوتا ہی ہے غیر ذی روح پر بھی ہوتا ہے۔ پہاڑ بھاری بھرکم، مضبوط، بلند وبالا، جامد اور غیر ذی روح مخلوق ہے۔ قرآن کا اثر اس پر اس قدر سخت ہوتا ہے کہ وہ اگر اس کو سمجھتا اور اس کی ذمے داریوں سے واقف ہوتا تو کانپ اٹھتا اور پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوجاتا:
’’اگر ہم نے اس قرآن کو پہاڑ پر بھی اْتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہاہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ (اپنی حالت پر) غور کریں‘‘۔ (الحشر)
جِنوں پر قرآن کا اثر:
یہ وہ مخلوق ہے جو ذی روح اور بااختیار تو ہے لیکن خلافت کی ذمے داری اسے نہیں دی گئی ہے۔ اس میںہدایت اور گمراہی میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جب اس کے ایک گروہ نے قرآن کو سنا تو وہ بھی اس سے اثر انگیز ہونے سے خود کو نہ روک سکا۔ ارشاد الٰہی ہے:
’’اے نبی کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا پھر (جاکر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے‘‘۔ (الجن)
ایک جگہ فرمایا:
’’اور یہ ہے کہ ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لے آئے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا‘‘۔(الجن)
قرآن مجید میں ہے:
’’اور کہتے ہیں کہ آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے‘‘۔ (المائدہ)
اللہ تعالیٰ نے مزید ارشاد فرمایا:
’’اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمھاری طرف لے آئے تھے تاکہ وہ قرآن سنیں۔ جب وہ اس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے کہا خاموش ہوجاؤ۔ پھر جب وہ پڑھا جاچکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے۔ انھوں نے جاکر کہا اے میری قوم کے لوگو! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہ نمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف۔ اے ہماری قوم کے لوگو! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرلو اور اس پر ایمان لے آؤ۔اللہ تمھارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمھیں عذاب الیم سے بچادے گا اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ زمین میں خود کوئی بل بوتا نہیں رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کردے، اور نہ اس کے لیے کچھ ایسے حامی وسرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچالیں۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔ (الاحقاف)
اہل کتاب پر اس کا اثر:
اہل کتاب میں یہود ونصاریٰ دونوں ہی شامل ہیں۔ انہوں نے بھی جب اللہ تعالیٰ کی کتاب کا بغیر کسی تعصب کے مطالعہ کیا تو اس کی اثر انگیزی سے متاثر ہوئے۔ آج بھی جو لوگ اس قرآن کا کھلے ذہن سے مطالعہ کرتے ہیں تو حق ان پر واضح ہوجاتا ہے اور وہ اس کی اثر انگیزی قبول کیے بغیر نہیں رہتے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’جن لوگوں کو اس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اس (قول) پر ایمان لاتے ہیں اور جب ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں، ہم ایمان لائے یہ واقعی حق ہے۔ ہمارے رب کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں‘‘۔ (القصص)
مزید ارشاد فرمایا:
’’مگر سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہِ راست پر قائم ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیںاور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں، اللہ اور روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں‘‘۔ (آل عمران)

اہل ایمان پر اثر:
قرآن مجید وہ کتاب ہے جو غیر ذی روح، جنوں، عالم انسانیت اور اہل کتاب کو متاثر کرتی ہے تو اہل ایمان اس سے کیوں کر متاثر نہیں ہوں گے۔ لیکن اس کا اثر انھی اہل ایمان پر ہوتا ہے جو اسے سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں اور اس کی آیات پر غور وفکر کرتے ہیں۔ جس انداز سے آج اہل ایمان کی اکثریت قرآن مجید کو بغیر سمجھے بوجھے محض ثواب کی خاطر پڑھتی ہے، اس کے نتیجے میں اس پر قرآن کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا ہے۔ یہ اللہ کی کتاب ہے اور یہ پڑھنے والے پر اس وقت اثر انداز ہوگی جب پڑھنے والا سمجھے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ یہ کتاب اندھے، بہرے اور گونگے کی طرح پڑھنے والوں کو کبھی متاثر نہیں کرتی۔ جن لوگوں کا اللہ کی کتاب پر ایمان ہے وہ اگر شعوری طور پر اس کا مطالعہ کریں تو یہ ضرور ان پر اپنا اثر دکھائے گی۔
’’حقیقت میں تو جو لوگ اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہوتے ہیں، جو اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں، جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے، اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ وہی بھلائیوں کی طرف دوڑنے والے اور سبقت کرکے انہیں پانے والے ہیں‘‘۔ (المومنون)