مولانا محمد رفیق اثری جلال پوری رخصت ہوگئے

203

اہلحدیث کے ممتاز بزرگ عالم دین محدث العصر مفسرالقران استاد العلماء و شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق اثری جلال پوریؒ بروز منگل 28ستمبر 2021 کو اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے ان کی نماز جنازہ عیدگاہ جلال پور ملتان میں اداکی گئی نماز جنازہ میں علما کی کثیر تعداد اور خاص کر مرحوم کے شاگرد علما کی بہت بڑی تعداد موجود تھی ایک جم غفیر ان کی دین اسلام کے لیے خدمات پر خراج تحسین اور اللہ سے رحمت و مغفرت طلب کرنے کے لیے امڈ آیا تھا ملک کے جید علماء کرام امیر جماعت غربااہلحدیث پاکستان مولانا حافظ عبدالرحمن سلفی، سینیٹر مولانا پرفیسر ساجد میر، علامہ شیخ عبداللہ ناصر رحمانی، مولانا عبدالعزیز نورستانی، علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، شیخ الحدیث مولانا محمود احمد حسن، علامہ حافظ زبیر احمد ظہیر، مولاناپروفیسرحافظ محمد سلفی، مولانا عبد الغفار روپڑی، علامہ ڈاکٹر عامرعبداللہ محمدی، سینیٹر مولانا حافظ عبدالکریم، مولانا زاہد ہاشمی الازہری، مولانا مفتی یوسف قصوری، مولانا سید عبدالرحیم شاہ، مولانا ضیا الرحمن مدنی، حشمت اللہ صدیقی، مولانافضل ربی، مولانا قاری شیر حقانی، مولانا ابرہیم بھٹی، مولانا مفتی صہیب شاہد، مولانا مفتی عبدالوکیل ناصر، مولانا مفتی جاسم سلفی، مولانا ابراہیم جونا گڑھی، حاجی عبدالحنان بندھانی و دیگر ہزاروں علماکرام، مفتیان وشیخ الحدیث نے مولانا محمد رفیق اثری جلال پوریؒ کی دینی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا علماء حق نے اپنی پوری زندگیاں اسلام کی سربلندی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کردیں اور دنیا کی صرف مختصر ضرورت کی اشیاء پر انحصار کیا اللہ کی رحمتیں نازل ہوں ان علمائِ دین پر آمین۔
دعوت ِ دین اسلام و منہج نبوی کا تسلسل جو مکہ کے غاروں، طائف کے بازاروں، مدینہ کی گلیوں، ہجرت کی سختیوں اور بدر و حنین کے معرکوں سے نبردآزما ہوتے ہوئے ہم تک پہنچا ہے یہ انسانیت کی رہنماء کا فریضہ انجام دینے والے علماء و مبلغین انبیا کے وارث اپنا فریضہ قیامت تک انجام دیتے رہیں گے حق وباطل توحید ورسالت کا مشن 14سوسال قبل امام کائنات خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہؐ کی قیادت میں شروع ہوا خلافت ِ راشدہ، صحابہ اکرام، تابعین و تبع تابعین، محدثین، ا ئمہ کرام، اور مشائخ عظام وعلماء کرام کی محنتوں سے جاری ہے۔ قرآن وسنت کی دعوت کو لیکر امام احمد بن حنبلؒ، امام ابن تیمیہؒ، سید میاں نزیر حسین دہلویؒ، مولانا امام عبدالوھاب محدث دہلویؒ، داؤد غزنویؒ، مولانا محمد جونا گڑھی، مولانا عبد الستار دہلویؒ، مولانا سید بدیع الدین شاہ راشدی پیر آف جھنڈاؒ، علامہ حافظ عبداللہ روپڑی محدثؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید، مولانا عبدالسلام رستمی، مولانا شیخ جمیل الرحمن، مولانا حافظ صلاح الدین یوسف، مولانا رفیق اثری جلال پوری کے علاوہ ایک طویل فہرست ہے جو دنیا بھر میں کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کے احیاء کے لیے مصرف عمل رہے اور یہ سلسلہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے بقول علامہ اقبال بہار ہو کہ خزاں لاالہ الااللہ۔ علما اہلحدیث صرف کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کے پرچم تلے بلاتے ہیں۔
مولانا محمد رفیق اثری جلال پوری 1937ء میں سنگرور (مشرقی پنجاب) کے ایک قصبے رشیداں والا میں پیدا ہوئے اور قیام پاکستان کے وقت پاکستان آئے نومبر 1947 میں مولانا رفیق اثری نے جامعہ دارالحدیث رحمانیہ جلال پور پیر والا کے مدرسہ سبل السلام میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور 1949میں جامعہ دارالحدیث محمدیہ میں داخل ہوئے اور 1956میں وہاں سے سند فراغت حاصل کی آپ کے کئی بلند اساتذہ تھے جن میں سر فہرست مولانا سلطان محمود اور بعد ازاں جامعہ دارالعلوم تقویت الاسلام لاہور کا رخ کیا یہاں بھی کئی عظیم اساتذہ کے علاوہ مولانا سید محمد داود غزنوی سے استفادے کا موقع ملا۔ 1959 میں وہ جامعہ دارالحدیث محمدیہ جلال پور پیر والا چلے گے اور وہاں تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا جو زندگی کے آخری ایام تک جاری رہا مولانا اثری کا تدریسی خدمات کا سلسلہ تقریباً 60سال سے زیادہ کا عرصہ ہے آپ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور اس وقت یہ علماء کرام محراب و منبر سے قرآن وسنت کی تعلیمات کے فرائض انجام دے رہے ہیں ان کی تصانیف میں بھی عظیم خدمات ہیں آپ نے ضوء المسالک علی موطا امام مالک پر حاشیہ لکھا۔ التعلیق النجیح علی مشکوٰۃ المصابیح اس میں انہوں نے احادیث مشکوٰۃ کی تخریج بحوالہ متعلقہ کتاب، باب، جلد اور صفحہ کی ہے فصل ثانی اور فصل ثالث کی احادیث کی استنادی کی حیثیت کا تعین کیا ہے، مشکل الفاظ کا لغوی حل پیش فرمایا ہے، فقہی اختلاف مسائل میں بدلائل مسلک محدثین کو ترجیح دی ہے۔
جامعہ کے مہتم اعلیٰ مولانا سلطان محمود کی وفات کے بعد۔ مولانا اثری ذمے داریوں میں اضافے کے باعث تحریری سلسلہ موقوف بھی ہوا یہاں صرف ان کی چند کتابوں انتہائی مختصر ذکر کررہا ہوں ترجمہ وافادات۔ مشکوٰۃ المصابیح۔ اصول حدیث کی معروف کتاب الفقیتہ الحدیث للعراقی۔ کتاب اسبال المطر شرح نجبتہ المفکر۔ منہاج المسلم اردو ترجمہ ابوبکر الجزائری کی۔ تبیان الادلہ فی روایتہ الاھلہ۔ ھدایتہ الناسک اردوترجمہ کیا۔ شرح نخطب حجتہ الودع۔ جیسی کئی کتابوں کے مصنف ہیں اللہ کی رحمت سے مولانا محمد رفیق اثری نے تدریس کے ساتھ تصانیف وتالیف اور ترجمہ کا سلسلہ بھی جاری رکھا جبکہ یہ دنوں الگ الگ مستقل کام ہیں اور دنوں کو بیک وقت سر انجام دینا اللہ کا فضل تھا مولانا عمر کے لحاظ سے صحت ماشاء اللہ اچھی، مناسب جسم، سفید ڈاڑھی، بارعب شخصیت کے مالک تھے خوش مزاج، خوش کلام اور حلیم الطبع تھے تقویٰ کا عالم اللہ اکبر ایک شخص مدرسے میں کھجوریں لیکر آیا اور کہا طلبہ میں تقسیم کردیں کہتے ہیں کلاسیں لگی تھیں طلبہ و اساتذہ کو تقسیم کرنی شروع کیں تو مولانا اثری نے فرمایا جس نے یہ کھجوریں دی ہیں کیا اس نے اساتذہ کو بھی دینے کا کہا ہے معلوم کرنے پتا چلا کہ طلبہ میں تقسیم کرنے کا کہا ہے تو انہوں نے فرمایا اساتذہ سے کھجور لیکر صرف طلبہ میں تقسیم کردو اور ایسا ہی کیا گیا اللہ اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند مقام عطا کرے۔ آمین