امریکی سینیٹ نے بجٹ مسترد کردیا ، بندش کا خطرہ

86

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں کاروبارِ حکومت کے جزوی طور پر مفلوج ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ریپبلکن ارکان نے سینیٹ میں اس بل کی منظوری کا راستہ روک لیا ہے، جس کا مقصد موجودہ مالی سال کے خاتمے سے قبل ہی حکومت کے لیے مزید فنڈز حاصل کرنا تھا۔ امریکا میں نیا مالی سال یکم اکتوبر سے شروع ہونا ہے۔ اگر اس وقت تک بجٹ سے متعلق معاملات طے نہیں پاتے تو حکومتی معاملات مفلوج ہو جائیں گے جس کے لیے امریکا میں ’شٹ ڈاؤن‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بہت سے ریاستی ملازمین کو جبری چھٹی پر بھیج دیا جائے گا یا انہیں بغیر تنخواہ کے کام کرنا ہو گا۔ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے پر امید ہے۔ سینیٹ نے پیر کے روز حکومت کی جانب سے ہنگامی اخراجات اور قرضوں کی حد بڑھانے سے متعلق دو بلوں کو روکا۔ بائیڈن حکومت متوقع طور پر اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں قرضوں کے معاملے پر ڈیفالٹ کر جائے گی۔ ایسے میں ڈیموکریٹ ارکان نے سینیٹ میں قرضوں کی حد بڑھانے اور ہنگامی اخراجات سے متعلق بلوں کو منظوری کے لیے پیش کیا۔ ری پبلکن ارکان کانگریس نے دونوں بلوں کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ پارٹی بنیادوں پر ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 48 کے مقابلے میں 50 رہی۔ ڈیموکریٹس کو اگرچہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی برتری حاصل ہے، لیکن سینٹ کے قوانین کے مطابق چیمبر میں قوانین کی منظوری کے لیے 100 میں سے 60 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ ری پبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ڈیموکریٹ خود سے قرضوں کی حد میں اضافہ کریں، کیوں کہ وہ ڈیموکریٹ حکومت کے کئی کھرب ڈالر کے اخراجاتی منصوبوں کی حمایت نہیں کرتے۔