کراچی کا کوئی والی وارث ہے ؟

140

جب حکمران نااہل اور نالائق ہوں تو ان سے کسی طور خیر کی اُمید رکھنا شاید بڑی بے وقوفی ہے، ہم پچھلے کئی سال سے دیکھ رہے ہیں کہ عوامی مسائل کو جس طرح نظرانداز کیا جارہا ہے اور جس طرح غریب و متوسطہ طبقے کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے ایسا شاید کسی اور ملک میں نہیں۔ کامیاب ممالک ہمیشہ اُس جانب توجہ دیتے ہیں جہاں سے ملکی معیشت کو چلانے میں مدد مل سکے جہاں سے عوامی مسائل کو حل کرنے میں آسانیاں پیدا ہوسکیں۔ چین کی کامیابی کی ہم صبح و شام مثالیں پیش کرتے ہیں کیا آپ جانتے ہیں کہ چین اپنے اُن صوبوں کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے جن کی بنیاد پر آج چین سپر پاور بنے جارہا ہے، آج پوری دنیا میں چین کی معیشت پھیلی ہوئی ہے ہمارے ملک کے اہم ترین منصوبوں میں بھی چین کا ایک بڑا حصہ شامل ہے مگر افسوس کہ ہم آج بھی بے ساکھیوں کے منتظر ہیں۔
پاکستان کی معیشت میں اہم ترین کردار ادا کرنے والا صوبہ سندھ جس کا اہم ترین شہر کراچی جس کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھی پاکستان کا معاشی حب سمجھتی ہے پچھلے کئی برسوں سے ایک مذموم سازش کے تحت محرومیوں کی جانب دھکیلا جارہا ہے اقتدار پر براجمان ہونے والوں نے اس شہر کا سیاسی استیصال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ایک طویل عرصے اس شہر میں خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی ہے تو دوسری جانب اس شہر کی ترقی وخوشحالی کی بنیاد پر 80 کی دہائی سے بیرون ملک ناجائز اثاثے بنائے جاتے رہے۔ مگر کسی بھی ادارے نے اس شہر کی محرومیوں زیادتیوں پر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ گزشتہ پانچ سال سے ہم عدالت عظمیٰ کی جانب سے کراچی کے اہم ترین مسائل پر سماعتوں کا سلسلہ دیکھ رہے ہیں بینچ کی جانب سے فیصلے تو کیے جاتے ہیں مگر بڑی معذرت کے ساتھ کہ ان فیصلوں کی سر عام دھجیاں اُڑا دی جاتی ہیں جو عدالت کی کمزوری اور بے بسی کوظاہر کرتی ہے۔
پچھلے کئی برسوں سے سندھ پر پیپلزپارٹی کی آمرانہ حکومت قائم ہے اس وقت کم ازکم 23 سال سے پیپلزپارٹی سندھ پر حکومت کر رہی ہے، ایک طویل عرصہ یہ شہر پیپلزپارٹی کے مکمل اختیارات میں رہا مگر آج جو اس شہر کا بیڑا غرق کیا گیا اس کا ذمے دار کون ہے؟ گزشتہ دنوں ہونے والی چند گھنٹوںکی برسات نے اس شہر کو جس بری طرح متاثر کیا، نظام زندگی کو مفلوج بنایا، جس طرح پاکستان کی کفالت کرنے والا شہر جگہ جگہ دریائوں کا منظر پیش کرتا نظر آیا برساتی نالے ابلتے دکھائی دیے کچی آبادیاں ڈوبتی دکھائی دیں صرف اتنا ہی نہیں کراچی شہر کے پوش علاقے بھی ندی نالوں میں تبدیل ہوگئے مگر سندھ حکومت کو ہوش نہیں آیا۔ عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کے سندھ حکومت پر سخت ریمارکس بھی پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے ضمیر کو نہیں جگا سکے۔ اس تمام تر گمبھیر صورتحال کے دوران وہ دو اہم شخصیات جو صبح شام پریس کانفرنس کر کے لوگوں کو گھروں میں محصور رکھنے لوگوں کے کاروبار بند کرانے بچوں کی تعلیم کو تالے ڈالنے پر بضد رہتے تھے جی ہاں وہ دو شخصیات وزیر اعلیٰ سندھ اور چیئر مین پیپلزپارٹی بلاول کہیں دکھائی نہیں دیے کیوں کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ اس شہر اور اس میں بسنے والی تین کروڑ سے زائد آبادی کے مجرم ہیں۔
موجودہ وفاقی حکومت جو اس شہر کے مینڈیٹ سے اقتدار میں آئی ہے اور اگلے عام انتخابات میں سندھ میں بھی حکومت بنانے کا نجانے کس منہ سے دعویٰ کر رہی ہے تین سال گزر جانے کے بعد اس شہر کا وہ نوجوان جس کو تبدیلی، نئے پاکستان کا خواب دکھایا گیا تھا آج وہ نااُمید ہے۔ کامیاب جوان پروگرام، صحت کارڈ، روزگار کی بہتر فراہمی سمیت وفاقی حکومت کے تمام تر دعوے کراچی والوں کی اُمیدوں پر پانی پھیر گئے، صرف اتنا ہی نہیں آج اس شہر کے ساتھ جو ظلم وزیادتی صوبائی حکومت کی جانب سے کی جارہی ہے اس پر وفاقی حکومت کی مسلسل خاموشی شرم ناک ہے۔ اس شہر کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیوں کیا جارہا ہے؟ پیپلزپارٹی کی کراچی کے ساتھ مسلسل ناانصافی اور زیادتی پر وزیر اعظم کی مسلسل خاموشی لمحہ فکر ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری اس شہر کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا سلسلہ بند کرانے میں اپنا کردار ادا کریں اس شہر کی ترقی وخوشحالی کی کوئی ایسی مثال قائم کریں کہ اگلی باری پھر زرداری ہو، ایسا نہ ہو کہ اگلی باری میں آپ کی سیاست کا باب عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے ہمیشہ کے لیے بند کر دیں، دوسری جانب وفاقی حکومت جو سندھ میں حکومت کے خواب دیکھ رہی ہے پہلے اس شہر کے ساتھ تیس سال سے جو زیادتیاں ہورہی ہیں ان کا مکمل ازالہ کرے اور اس شہر کے نوجوانوں کی محرومیوں کو دور کرے اور اس شہر کی ترقی وخوشحالی میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالے اور پھر اس شہر پر اقتدار کا خواب دیکھے۔ یہ تین کروڑ سے زائد آبادی والا پاکستان کا معاشی حب شہر کراچی اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنے وزیر اعظم کا منتظر ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس شہر اور اس میں بسنے والوں کو ان کا وزیر اعظم مل پاتا ہے یا نہیں۔