!سید گیلانی، ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی

203

(5)
سید علی گیلانی زندگی کی آخری سانس تک خود کو پاکستانی سمجھتے رہے، وہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے سوچتے تھے اور جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان محاذ آرائی ہوتی تو ان کی ہمدردی ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہوا کرتی تھی اور وہ پاکستان کو حق پر سمجھتے تھے۔ مئی 1995ء میں معرکہ کارگل پیش آیا اور پاک فوج نے مجاہدین کے ساتھ مل کر کارگل میں ان بینکروں اور چوکیوں پر قبضہ کرلیا جو بھارتی فوج سردیوں میں خالی کرکے پہاڑوں سے نیچے چلی گئی تھی۔ بھارت کو جونہی اس قبضے کی اطلاع ملی تو وہ قبضہ چھڑانے کے لیے جنگ پر آمادہ ہوگیا اور اپنی فضائیہ اور زمینی افواج کو اس جنگ میں جھونک دیا۔ یہ جنگ کوئی دو ماہ تک چلی اور فریقین کا بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ سید گیلانی اس جنگ میں پاکستان کو حق پر سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ پاکستان کارگل پر اپنا قبضہ برقرار رکھ کر بھارت کو کشمیر کے معاملے میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتا تھا لیکن پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف نے امریکا کے دبائو میں آکر فوج واپس بلانے کا اعلان کردیا۔ سید علی گیلانی نے اس رائے اظہار کیا کہ اگر پاکستان حوصلے کا مظاہرہ کرتا اور امریکا کے دبائو میں آکر پسپائی اختیار نہ کرتا تو کارگل جنگ تنازع کشمیر کا فلیش پوائنٹ بن سکتی تھی اور عالمی طاقتیں اس تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات پر مجبور ہوجاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف کو جنگ کارگل کا ہیرو سمجھتے تھے۔ وہ جب نواز شریف کو برطرف کرکے برسر اقتدار آئے تو گیلانی صاحب کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں اور ان کا خیال تھا کہ جنرل پرویز مشرف کشمیر کی آزادی میں جرأت مندانہ کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنرل پرویز مشرف اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ بھارت کے دورے پر آئے تو پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی میں کشمیری قائدین کے ایک وفد نے سید علی گیلانی کی قیادت میں جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی اور انہیں مقبوضہ کشمیر کے حالات اور بھارتی فوج کے مظالم سے آگاہ کیا۔ سید علی گیلانی نے اس موقع پر جنرل پرویز مشرف سے کہا کہ ماضی میں پاکستانی حکمران مسئلہ کشمیر پر مصلحت پسندی اور بزدلی کا شکار رہے ہیں لیکن ہم آپ سے توقع کرسکتے ہیں کہ آپ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دلیرانہ فیصلے کریں گے اور جرأت مندانہ قدم اُٹھائیں گے۔
لیکن جب نائن الیون کے بعد جنرل پرویز مشرف نے امریکا کے آگے سرنڈر کردیا اور امریکا کے دبائو میں آکر مجاہدین کی نقل و حرکت اور جہاد کشمیر پر پابندی لگادی تو گیلانی صاحب کو بہت مایوسی ہوئی اور جنرل پرویز مشرف سے انہوں نے جو امیدیں وابستہ کی تھیں وہ دم توڑ گئیں۔ پھر جنرل پرویز مشرف نے جب اس سے بھی آگے بڑھ کر مسئلہ کشمیر کے ’’آئوٹ آف باکس‘‘ حل اور تقسیم کشمیر کی باتیں شروع کردیں تو گیلانی صاحب انتہائی رنج اور غصے کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے اور جنرل مشرف کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرنے لگے۔ اپریل 2005ء میں جنرل پرویز مشرف بھارتی حکومت کی دعوت پر دوسری بار نئی دہلی گئے۔ تو حسب روایت پاکستان ہائی کمیشن میں کشمیری قائدین کی جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ اُس وقت تک حریت کانفرنس دو دھڑوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ ایک دھڑے کی قیادت سید علی گیلانی اور دوسرے دھڑے کی میرواعظ عمر فاروق کررہے تھے۔ ملاقات میں دونوں دھڑوںکے قائدین کو بلایا گیا تھا ان کے علاوہ ملاقات میں یاسین ملک اور دیگر کشمیری رہنما بھی تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے سب کشمیری رہنمائوں سے فرداً فرداً ان کی خیریت دریافت کی اور مختصر بات چیت کی۔ سید علی گیلانی کی باری آئی تو پرویز مشرف نے گیلانی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کی کشمیر کاز کے لیے بڑی خدمات ہیں لیکن اب حالات بدل گئے ہیں، پرانے موقف پر اڑے رہنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔ عالمی طاقتیں حقیقت پسندی کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتی ہیں اب اقوام متحدہ کی قراردادیں اور حق خودارادی کی باتیں فرسودہ ہوچکی ہیں، آپ کو بھی زمینی حقائق تسلیم کرلینے چاہئیں۔ گیلانی صاحب نے جواب میں کہا ’’آپ یہ چاہتے ہیں کہ کشمیری ایک آزاد قوم کی حیثیت سے زندہ رہنے کے حق سے دستبردار ہوجائیں۔ یہ پسپائی آپ کو مبارک ہو، ہم یہ کام نہیں کرسکتے‘‘۔ گفتگو میں تلخی پیدا ہوگئی تو گیلانی صاحب اُٹھ کھڑے ہوئے اور دروازے کی طرف بڑھے۔ جنرل پرویز مشرف نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو گیلانی صاحب نے یہ کہہ کر ہاتھ ملانے سے انکار کردیا کہ میں غداروں سے ہاتھ نہیں ملایا کرتا۔ جنرل پرویز مشرف نے یہ سنا تو ان کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا اور وہ غصے کی حالت میں تلملا کر رہ گئے۔
ادھر ایک امریکی تھنک ٹینک نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلح تحریک مزاحمت کو سبوتاژ کرنے اور مسئلہ کشمیر کو سائیڈ لائن کرنے کے لیے سرینگر اور مظفر آباد کے درمیان دوستی بس چلانے اور کنٹرول لائن کے راستے دوطرفہ تجارت شروع کرنے کا منصوبہ بنایا اور اپنی حکومت سے کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے ذریعے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائے، واضح رہے کہ امریکا چوں کہ پوری دنیا کا ٹھیکیدار بنتا ہے اس لیے اس نے دنیا کو درپیش مختلف مسائل کو اپنی مرضی کے مطابق حل کرنے کے لیے متعدد تھنک ٹینکس بنا رکھے ہیں جو اپنی حکومت کو مشورے دیتے رہتے ہیں۔ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان دوستی بس اور دوطرفہ تجارت بھی اسی نوعیت کا مشورہ تھا جو امریکا سے آیا اور پاکستان اور بھارت اسے عملی جامہ پہنانے پر آمادہ ہوگئے۔
جب دوستی بس کا چرچا ہوا تو اگرچہ سید علی گیلانی اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان تلخ کلامی کے نتیجے میں فریقین کے درمیان خوشگوار تعلقات برقرار نہیں رہے تھے لیکن اس کے باوجود مشرف حکومت کی خواہش تھی کہ دوستی بس کے ذریعے سید علی گیلانی بھی پاکستان آئیں تاکہ دوستی بس کا وقار قائم ہو اور مسئلہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر تعلقات بحال کرنے کا عمل آگے بڑھ سکے۔ اِدھر جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے بعض اکابرین کبھی گیلانی صاحب کو پاکستان بلانے کے بارے میں بہت پُرجوش تھے اور اپنی مثبت سوچ کے تحت یہ سمجھتے تھے کہ گیلانی صاحب کے آنے سے پاکستان میں کشمیر کاز کو تقویت ملے گی۔ بہرکیف اِن حضرات نے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے گیلانی صاحب سے رابطہ کرکے پاکستان آنے کے لیے ان پر بہت زور ڈالا لیکن انہوں نے کوئی قطعی جواب نہ دیا۔ ایک دن راقم اور حزب میڈیا منیجر شیخ محمد امین کے درمیان دوستی بس کے پیچھے چھپی ہوئی بین الاقوامی سازش پر گفتگو ہورہی تھی کہ شیخ صاحب نے کہا ’’گیلانی صاحب آپ کی رائے کا احترام کرتے ہیں آپ انہیں ایک خط لکھ دیں۔ ہم یہ خط گیلانی صاحب کو فیکس کردیں گے فیصلہ کرنا ان کے اختیار میں ہے‘‘۔ چناں چہ ہم نے ایک خط گیلانی صاحب کی خدمات ارسال کردیا جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔
’’جب سے دوستی بس کا چرچا ہوا ہے پاکستان کے عوام آپ کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں وہ آپ کو اپنے درمیان دیکھنا اور آپ کو براہِ راست سننا چاہتے ہیں لیکن ان کی معصوم سی خواہش ہے کہ آپ آئیں تو آزادی کا پروانہ آپ کے ہاتھ میں ہو اور آپ بھارتی پاسپورٹ پر نہیں بلکہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے اپنے وطن میں قدم رکھیں۔ دوستی بس ایک امریکی منصوبہ ہے جس کا مقصد جدوجہد آزادی کو سبوتاژ کرنا اور مسئلہ کشمیر کو سائیڈ لائن کرنا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ آپ کی سیاسی دانش اس سازش کا حصہ نہیں بنے گی‘‘۔
گیلانی صاحب کو خط ملا تو انہوں نے فوراً حریت کانفرنس کی شوریٰ کا اجلاس طلب کرلیا جس میں خط پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کی حمایت اور مخالفت میں آرا دی گئیں اور بالآخر یہی فیصلہ ہوا کہ گیلانی صاحب دوستی بس کے ذریعے پاکستان نہیں جائیں گے۔ جب گیلانی صاحب نے اپنے پاکستانی دوستوں کو اس فیصلے سے آگاہ کیا تو ان میں شدید اضطراب پیدا ہوگیا اور انہوں نے آخری چارہ کار کے طور پر قاضی حسین احمد سے رجوع کیا جو اس معاملے سے بالکل الگ تھلگ تھے۔ قاضی صاحب نے ان حضرات سے پوچھا کہ ’’گیلانی صاحب نہ آنے کے حق میں کیا دلیل دیتے ہیں؟‘‘ تو انہیں بتایا گیا کہ گیلانی صاحب کے پاس بھی مضبوط دلائل موجود ہیں۔ اس پر قاضی صاحب نے کہا کہ پھر انہیں فیصلہ بدلنے پر مجبور نہ کریں، وہ صورت حال کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں‘‘۔ اس طرح قاضی صاحب نے اپنا وزن گیلانی صاحب کے پلڑے میں ڈال دیا۔
(جاری ہے)