غیر حاضری کی وجوہات

186

گاڑی چلتے چلتے رک جائے تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے کالم لکھنے کے حوالے سے میرا شروع سے یہ مسئلہ رہا ہے کہ لکھتے لکھتے اچانک رک جاتا رہا ہوں جب ہمارے پڑھنے والے ٹوکتے ہیں تو پھر میں ان کو اس وقت کی وجوہات سے آگاہ کرتا ہوں۔ تقریباً پانچ ماہ سے ہم ادارتی صفحہ سے غائب ہیں اس کی تین وجوہ ہیں، پہلی تو یہ کہ رمضان سے دو ہفتے پہلے سے گھر میں رنگ روغن کا کام شروع ہو گیا تھا، اس میں پور اگھر الٹ پلٹ ہو جاتا ہے، اسی دوران ہمارا پی سی بھی در بدر ہوتا رہا۔ دوسری وجہ خود رمضان کی اپنی مصروفیات تھیں سوچا کہ لکھنے کا سلسلہ روک دیا جائے اور رمضان کو ذرا بہتر انداز میں گزار لیا جائے، پورے رمضان یہی سوچ غالب رہی اور ہم لکھنے لکھانے کا کوئی سلسلہ شروع نہ کر سکے۔ تیسری وجہ کیا رہی … یہی ہوتا ہے کہ بھول ہو جاتی ہے۔ ایک لطیفہ یاد آگیا ایک صاحب نے کہا میری دو چیزیں بہت اچھی ہیں پوچھا وہ کیا؟ انہوں نے جواب دیا ایک تو یادداشت۔ اور دوسری؟؟ دوسری بات ابھی ذہن میں آنہیں رہی ہے، لیجیے تیسری وجہ بھی یاد آگئی کہ وہ خرابی طبیعت کا مسئلہ ہے جو کئی مہینوں سے جاری ہے کبھی کم کبھی زیادہ، اس کی تفصیل میں جانا غیر ضروری ہے کہ ساٹھ سال کی عمر کے بعد ہر فرد کسی نہ کسی عارضے کا شکار ہو ہی جاتا ہے، بہر حال یہ بھی ایک اہم وجہ رہی ہے۔ اس کے بعد ایک چوتھی وجہ اور ہو گئی کہ ہمارا پی سی خراب ہو گیا ہمارے صاحبزادے عبید کو اسے ٹھیک کرنا تھا یا کسی سے کرانا تھا لیکن وہ خود اپنے مسائل میں ایسا الجھ گئے میں خود بھی دیکھ رہا تھا کہ اس کے اپنی اہلیہ کی بیماری کی وجہ سے اسپتالوں کے چکر لگ رہے ہیں اس لیے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے بہر حال اب صورتحال بہتر ہوگئی ہے۔
اس درمیان میں ہمارے کئی تحریکی ساتھی یا ان کے قریبی عزیز اس دنیا سے رخصت ہو گئے لہٰذا ان کو یاد کرلیا جائے اور ان کے لیے دعائے مغفرت بھی کرلی جائے اب سے تین ماہ قبل ہمارے معاون اور تحریکی ساتھی عبدالمجید بندھانی کے جواں سال صاحبزادے اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے انتقال کر گئے ہفتے کی شام وہ پارک میں ٹہل رہے تھے کہ اچانک گر پڑے انہیں فوری اسپتال لے جایا گیا معلوم ہوا کہ ان کا تو پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ اس کے دو چھوٹے بچے ہیں اللہ اس کی مغفرت فرمائے اور ہمارے ساتھی عبدالمجید اور دیگر لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین اس سے کچھ روز قبل یعنی عید کے بعد ایک دیرینہ تحریکی ساتھی زون ویسٹ کے سابق جنرل سیکرٹری اور مسجد جامعتہ الفلاح کے صدر رکن جماعت اشرف اللہ صاحب کا انتقال ہوا الفلاح مسجد بلاک اے نارتھ ناظم آباد میں نمازجنازہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اشرف اللہ صاحب تقسیم برصغیر کے وقت غازی پور ہندوستان سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان آ گئے پھر سقوط ڈھاکا کے بعد کراچی آگئے اس طرح انہوں نے دو بار ہجرت کی، اشرف اللہ صاحب میرے بھی ذاتی دوستوں میں تھے 1983 میں جب جماعت نے مجھے مخصوص نشستوں پر کونسلر بنانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت متین علی خان مرحوم زون ویسٹ کے ناظم اعلیٰ اور اشرف اللہ صاحب ان کے قیم تھے اشرف صاحب اپنے ساتھیوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ رکھتے تھے میں پرنٹنگ کا کام کرتا تھا اس حوالے انہوں نے میرے ساتھ غیر معمولی تعاون کیا۔ ان کے بڑے بیٹے نے نماز جنازہ پڑھائی تھی الفلاح مسجد کی بنیادیں رکھنے والوں میں سے تھے ساری زندگی اس کے صدر رہے اور اسی مسجد میں ان کی نماز جنازہ ہوئی ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اشرف اللہ صاحب کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے،آمین
ماہ رمضان میں دو قریبی ساتھیوں کی رحلت ہوئی ان میں شمس الدین خالد تحریک اسلامی کے مخلص ساتھیوں میں سے تھے 1979 میں جب ہم نے جماعت کی ہدایت پر نوجوانوں کی ایک تنظیم، تنظیم نوجوانان لیاقت آباد کی تشکیل کی تو اس وقت جماعت اسلامی کے دو نوجوان رہنمائوں شمس الدین خالد اور جنید فاروقی کو تنظیم کے پہلے اجلاس سے خطاب کے لیے بلایا انہوں نے اپنی تقاریر میں ہمیں کیا ہدایات دیں یہ تو اب یاد نہیں رہا لیکن وہ ایک کامیاب پروگرام تھا شمس الدین خالد کا رمضان میں انتقال ہوا۔ خالد صاحب جمعیت الفلاح کی مجلس عاملہ کے رکن تھے اور اس کے مرکزی ذمے داروں میں سے بھی رہے ہیں اس کے علاوہ خالد صاحب فاران کلب کے جنرل سیکرٹری بھی رہے چکے ہیں۔ ایک وقت جماعت اسلامی کے اندر ایسا بھی آیا کہ یہ فکری بحران کا شکار ہو گئی اور جماعت فکری حوالے سے دو حصوں میں تقسیم ہو گئی خالد صاحب کا سسرال بھی اس سے متاثر ہوا زبیر پبلک اسکول کی ام زبیر صاحبہ تحریک اسلامی میں شامل ہو گئیں لیکن شمس الدین خالد جماعت کی مجموعی مرکزی فکر سے وابستہ رہے اور کسی فکری گروپنگ کا شکار نہیں ہوئے اسی طرح فاران کلب کے معاملات میں خالد صاحب نے کسی شخصیت کا ساتھ دینے کے بجائے جماعت کے فیصلوں کا احترام کیا اور فاران کلب میں جماعت کے لوگوں کا ساتھ دیا۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑے با صلاحیت انسان تھے ساری زندگی اخلاص کے ساتھ جماعت اسلامی کا دم بھرتے رہے کئی برسوں سے صاحب فراش تھے ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین
ماہ رمضان کے آخری دنوں میں بندھانی کالونی ایک دیرینہ ساتھی عبدالرحمن سعود صاحب کا انتقال ہوگیا یہ جماعت کے پرانے ہمدردوں میں سے تھے 1970میں جب لیاقت آباد میں بندھانی برادری نئی نئی آباد ہو رہی تھی اس وقت انہوں نے برادری کا اجلاس بلا کر پروفیسر عبدالغفور کا برادری کی انجمن میں خطاب کروایا تھا اور اس وقت کے سارے ووٹ جماعت کو دلائے تھے، میری ان سے اچھی یاد اللہ تھی، آئی آئی چندریگر روڈ پر اسپنسر بلڈنگ تھی اور یہ اسپنسر آفس میں ملازم تھے قریب ہی جسارت کا دفتر تھا میں ہر ماہ ان سے اعانت لینے جاتا تھا یہ جماعت کی پالیسیوں کے ہمیشہ حامی رہے لیکن کبھی کبھی جماعت کے کچھ فیصلوں پر تنقید بھی کیا کرتے تھے بہر حال اچھے اور سنجیدہ فرد تھے۔ اللہ تبارک تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین
آخر میں ہم اپنے دوست قاسم آباد لیاقت آباد کے رکن جماعت عبدالحسیب کا ذکر کریں گے جن کا رمضان سے چند روز قبل انتقال ہو گیا وہ برسوں سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے، وہ بھی صبح پارک میں ٹہل رہے تھے کہ اچانک گر پڑے اور اسی وقت ان کی روح پرواز کر گئی، حسیب بھائی بہت عرصے تک قاسم آباد کے ناظم حلقہ بھی رہے وہ جرأت، ہمت بہادری اور شرافت کا پیکر تھے لیاقت آباد میں جب ایم کیو ایم کی دہشت گردی عروج پر تھی وہ اپنے علاقے میں بڑے دھڑلے سے کام کرتے تھے۔ ایک دفعہ جماعت کی روایتی عید ملن ہم نے ان کے گھر کے سامنے والے روڈ پر کی تھی۔ تھوڑے دن پہلے وہ عبید سے کہہ رہے تھے کہ یار اب کھالیں جمع کرنے میں مزا نہیں آتا ایم کیو ایم سے مقابلے میں مزا آتا تھا ایک دفعہ ایک صاحب نے جماعت کو کھال دینے کا وعدہ کیا عین وقت پر جماعت کے کارکن وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کے ایم کیو ایم والے بھی آئے ہوئے ہیں اور کھال پر جھگڑا ہو رہا ہے حسیب بھائی جو ناظم حلقہ تھے انہیں معلوم ہوا تو وہ وہاں گئے دیکھا کہ ایم کیو ایم کا لڑکا کھال پر پیر رکھے کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ یہ کھال تو ایم کیو ایم کو جائے گی حسیب بھائی نے قربانی کرنے والے سے پوچھا کہ آپ کس کو کھال دینا چاہتے ہیں اس نے کہا کہ ہم تو جماعت کو کھال دیں گے، یہ سن کر حسیب بھائی نے پیر کے ایک جھٹکے سے ایم کیو ایم کے کارکن کا کھال پر سے پیر ہٹایا اور جماعت کے کارکنوں سے کہا کہ وہ جھلی میں کھال ڈال کر لے جائیں ایم کیو ایم کا کارکن بہت جزبز ہوا اور کہا حسیب بھائی آپ نے یہ اچھا نہیں کیا ہم تمہیں دیکھ لیں گے حسیب بھائی نے کہا جا تجھ سے جو کچھ کرتے بنے کرلے میں بھی گھر نہیں جارہا اپنے مرکز پر بیٹھا ہوں کھال تو آگئی لیکن ایک ٹینشن پھیل گئی جماعت نے دیگر مراکز میں کارکنان کو کہا کہ وہ قاسم آباد کے مرکز پہنچیں ادھر ایم کیو ایم والے یہ کرتے رہے کہ بار بار ہمارے مرکز کے سامنے سے بغیر سائلنسر اپنی بائیکیں تیز تیز دوڑاتے رہے لیکن وہ کوئی اقدام نہیں کر سکے۔ ایک دفعہ میں نے ان سے کہا کہ حسیب بھائی آپ دل کے مریض ہیں اللہ آپ کی عمر لمبی کرے آپ اپنے چار بیٹوں میں سے کسی کو جماعت کے اندر فعال کردیں تاکہ آپ کے بعد بھی آپ کے گھر میں تحریک کا چراغ جلتا رہے انہوں نے کہا کہ میں یہی سوچ رہا ہوں آج ان کے ایک بیٹے فراز حسیب رکن جماعت اور حلقے کے ناظم ہیں دوسرے بیٹے لیاقت آباد یوتھ کے صدر ہیں ایک بیٹا جمعیت میں ہے، ہماری دعا ہے اللہ تعالی حسیب بھائی کی مغفرت فرمائے اور ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنادے۔ آمین