برطانیہ کی حزب مخالف، اسرائیل کے خلاف سینہ سپر

325

گزشتہ پیر کو برطانیہ کی حزب مخالف لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے جس میں اسرائیل پر فلسطین میں نسل پرست تفریق کی پالیسی کی مذمت کی گئی ہے اور برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی اس قابل مذمت پالیسی کے پیش نظر اس کے ساتھ اسلحے کی تجارت بند کی جائے۔ یہ قرار داد تاریخی اس لحاظ سے تصور کی جاتی ہے کہ لیبر پارٹی ہمیشہ اسرائیل کے حامی رہی ہے خاص طور پر ایک سال پہلے پارٹی کے نئے قائد کے انتخاب تک۔ گزشتہ سال فلسطینیوں اور ان کے حقوق کے زبردست حامی جیریمی کوربن پارٹی کے قائد منتخب ہوئے تھے اور ان کو فلسطینیوں کی حمایت کی بنا پر پارٹی کی قیادت سے ہاتھ دھونا پڑا تھا کیونکہ اسرائیل کی حامی لابی نے ان پر یہ الزام عاید کیا وہ اینٹی سیمیٹک (یہودیوں کے خلاف) ہیں اور ان کے خلاف زبردست مہم چلائی تھی۔ یہ اسرائیل نواز لابی کی حکمت عملی رہی ہے کہ جو بھی اسرائیل کی پالیسی پر تنقید کرتا ہے اسے یہودیوں کا مخالف قرار دے دیا جاتا ہے جو نہ صرف برطانیہ کی سیاست میں بلکہ پورے یورپ میں ایک سنگین جرم ہے۔
اسرائیل نواز لابی نے جیریمی کوربن کے خلاف مہم ایسے وقت چلائی جب کہ عام انتخابات میں جیریمی کوربن کی قیادت میں لیبر پارٹی کی کامیابی یقینی تھی۔ اس مہم کا دوہرا مقصد تھا اول جیریمی کوربن کو بدنام کرنا تھا دوم عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو ہرانا۔ اور اسرائیل نواز لابی اس مہم میں کامیاب رہی۔ لیبر پارٹی عام انتخابات ہار گئی اور جیریمی کوربن کو اپنے فلسطین حامی موقف کی سزا ملی اور انہیں پارٹی کی قیادت سے سبک دوش ہونا پڑا۔ لیبر پارٹی کی کانفرنس میں اسرائیل کے خلاف قرارداد پارٹی کے نوجوانوں نے پیش کی تھی۔ یہ قرارداد پارٹی کے موجودہ قائد کیر اسٹارمر کے لیے سخت ندامت کی باعث ہے جو جیریمی کوربن کے جانشین منتخب ہوئے ہیں۔ قرار داد میں نہ صرف فلسطین میں اسرائیل کی نسل پرست پالیسی کی مذمت کی گئی ہے بلکہ برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی تجارت بند کرے۔ برطانوی حکومت کے لیے اس مطالبے پر عمل کرنا محال ہے کیونکہ اس وقت برطانیہ اسرائیل کو اڑتیس کروڑ ستر لاکھ ڈالر کی مالیت کا اسلحہ فروخت کرتا ہے جس پر کئی ہزار برطانوی شہریوں کے روزگار کا دارو مدار ہے۔ پھر ٹوری پارٹی کے لیے اسرائیل پر نکتہ چینی نا قابل فہم ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اسرائیل کی حمایت میں پیش پیش رہی ہے ویسے بھی برطانیہ میں اسرائیل کی حامی لابی بہت طاقت ور ہے خاص طور پر میڈیا اور معیشت کے شعبہ میں۔ یہ بات اہم ہے کہ حکومت کے وزرا بڑی باقاعدگی سے اسرائیل کا دورہ کرتے ہیں ان میں پیش پیش وزیر داخلہ پرتی پٹیل ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ وہ کابینہ کی منظوری کے بغیر اسرائیل گئی تھیں اور وہاں حکومت کے رہنمائوں سے ملاقات کی تھی۔ موجودہ وزیر صحت ساجد جاوید نے بھی اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔ ان کے اس دورہ کا کیا مقصد تھا یہ ابھی تک صیغہ راز میں ہے۔
حزب مخالف لیبر پارٹی کی کانفرنس کی یہ قرارداد برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے لیے پریشان کن ہے کیونکہ ان کو پہلے ہی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کا سامنا ہے۔ ان کے انداز حکومت کو ناکارہ قرار دیا جارہا ہے۔ ان کے خلاف تنقید میں سر فہرست کورونا وبا کی روک تھام کے سلسلے میں نااہلی قرار دی جارہی ہے۔ ان کی پالیسی کے نتیجے میں یورپ کے دوسرے ملکوں کے مقابلہ میں کورونا کی وبا سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس وقت بھی پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ساڑھے اٹھائیس ہزار سے زیادہ افراد کی ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک صرف پچاس فی صد افراد کو کورونا ویکسین لگائی گئی ہے اور بورس جانسن کورونا کے لاک ڈاون کے مکمل خاتمہ کے لیے بے قرار ہیں۔ اس وقت تیل کی قلت اور اسٹوروں میں اشیا کی قلت کے ذمے دار یورپ سے علٰیحدگی کی بریگزٹ پالیسی کو قرار دیا جارہا ہے اور بورس جانسن کو نکتہ چینی کا سامنا ہے کیوں کہ یورپ سے علٰیحدگی کی مہم میں وہی پیش پیش تھے۔