سچی گواہی کیوں نا پید ہوگئی

180

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے درست کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے کوئی کام کیا ہو یا نہ کیا ہو مگر تقاریر کے انبار لگادئے ہیں۔ موصوف نے تین سالہ دور حکومت میں کوئی قابل تحسین اور قابل ذکر کام تو نہیں کیا مگر دو تین ہزار تقاریر ضرور کر ڈالیں۔ وزارت عظمیٰ کے مسند پر براجمان ہونے سے قبل کہا کرتے تھے کہ پولیس سیاست دانوں اور طاقتور شخصیات کی خانہ زاد بنی ہوئی ہے جس کے باعث ملک میں طاقت ور مجرم دندناتے پھر رہے ہیں، مگر جب سے خان صاحب برسرا قتدار آئے ہیں جرائم کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے، کوئی بھی ایسا شہر نہیں جہاں دن دیہاڑے قتل و غارت نہ ہورہی ہو، اور حکومت بے بس ہے، کوئی بھی جرم ہو وزیر اعظم یہی تبصرہ فرماتے ہیں کہ مافیا بہت طاقت ور ہے، اور حکومت اس کے سامنے طفل ِ مکتب ہے، سو گھٹنے گھٹنے چلنا اس کی مجبوری ہے، سوال یہ ہے کہ پھر حکومت کیا کررہی ہے وہ کیوں مافیاز کے سامنے سرنگوں ہے، وزیر اعظم عمران خان کا ارشاد گرامی ہے کہ طاقتور افراد سے زمینوں کا قبضہ چھڑانا ناممکن حد تک مشکل اور دشوار ہے۔ خان صاحب آپ اپنی انفارمیشن ٹیم پر نظر ثانی فرمائیں، قبضہ گروپ طاقت ور ہو یا کمزور وہ جب کسی کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے تو عدالتیں اس کی پشت پناہی کرتی ہیں اسے اپنی گود میں لے کر لوریاں سناتی ہیں دنیا کی کسی بھی عدالت میں جعل سازی پر مبنی مقدمات کی سماعت نہیں ہوتی حتیٰ کہ بھارت میں بھی کسی مقدمہ کی سماعت سے قبل یہ فیصلہ کیا جانا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ مقدمہ جعلی ہے یا حقیقی اس لیے وہاں کی عدالت عظمیٰ نے تمام جج صاحبان کو ہدایت جاری کی ہے کہ سماعت سے قبل مقدمہ کی صداقت کی تحقیق کی جائے، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ وطن عزیز میں ایسا کوئی ادارہ ہی نہیں جو جج اور جسٹس صاحبان کے فیصلوں پر تجزیہ کرے اور جو جج یا جسٹس اپنے اختیارات سے تجاوز کرے اسے قانون کو نظر انداز کے ارتکاب پر قانونی تقاضے پورے کیے جائیں بہت سے ایسے مقدمات اخبارات کی زینت بن چکے ہیں کہ جب سزائے موت پانے والے عدالت عظمیٰ میں اپیل کرتے ہیں تو عدالت ِ عظمیٰ حیرت کدہ بن جاتی ہے، کیونکہ سزائے موت سنانے والے جج اور جسٹس صاحبان نے قانون کے تقاضے پورے کرنے کے بجائے اپنی مرضی کے احکامات صادر کیے ہیں، مگر اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ کسی بے گناہ کو سزائے موت سنانے کا احتساب نہیں ہوتا عدالت عظمیٰ کی اس کارکردگی نے حکمرانوں کو بھی سہولت کاری کا ایک ذریعہ فراہم کر دیا ہے ، اور وہ بھی احتساب کرنے کے لیے ایسے مقدمات سے چشم پوشی اور اغماض کا وتیرا اختیار کرتے رہتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے قابل احترام چیف جسٹس اطہر من اللہ کا فرمان ہے کہ جھوٹی گواہیاں انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جو عدالتوں کی رسوائی اور بے توقیری کا سبب بنتی رہتی ہیں، یہاں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ چشم دید گواہ گواہی کیوں نہیں دیتے یہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں کہ گواہی کے لیے گواہ کو عدالتوں میں دھکے کھانے پڑتے ہیں، اور کوئی بھی شخص مفت میں دھکے کھانا پسند نہیں کرتا اگر عدالتیں فوری طور پر گواہی لے لیں تو کوئی بھی گواہ گواہی سے خوفزدہ نہ ہو مگر وطن عزیز کا نظام عدل ایسا پیچیدہ ہے کہ گواہ کے اپنے پیچ ڈھیلے ہو جاتے ہیں۔ سو گواہ پیشی در پیشی کے عمل سے بچنے کے لیے گواہی دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
ہمارے ایک عزیز کے مقدمہ میں چار سال تک گواہ ہر ماہ دوتین بار گواہی کے لیے آتا رہا مگر ہر بار مخالف وکیل کسی نہ کسی بہانے پیشی لے لیتا تنگ آکر مدعا علیہ نے جج سے کہا کہ جناب والہ کیا آپ گواہی میرے مرنے کے بعد لیں گے جج صاحب نے مسکرا کر کہا کہ خدا آپ کی عمر دراز کرے مدعا علیہ نے کہا کہ جب تک آپ گواہی کے معاملے کو دراز کرتے رہیں گے میری عمر مختصر ہوتی رہے گی، چار سال ہو گئے مخالف وکیل کبھی آئوٹ آف اسٹیشن ہوتا ہے کبھی اس کے دانت میں درد ہوتا ہے کبھی اس کی بیوی بیماری ہو جاتی ہے تو کبھی اس کی بچی کے پیٹ میں درد ہوتا ہے، اور کبھی گھر کا کوئی فرد بیمار ہو جاتا ہے۔ اس پس منظر میں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ سلسلہ تو قیامت تک چلتا رہے گا جج صاحب نے کہا کہ تمہارے گواہ موجود ہیں۔ جواب اثبات میں دیا گیا تو فرمایا اپنے وکیل کو بلائو وکیل کو بلایا گیا اور گواہی کا عمل شروع ہوا تو مخالف وکیل فوراً حاضر ہو گیا اور کہا کہ آپ میری عدم موجودگی میں گواہی نہیں لے سکتے جج صاحب نے کہا کہ آپ چار سال سے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر گواہی کے عمل کو سبوتاژ کررہے ہو، میری پاس کوئی اور راستہ ہی نہ تھا سو میں نے گواہی لینے کا فیصلہ کر لیا، ایک گواہی کے بعد مخالف وکیل نے کہا کہ مجھے نماز جنازہ میں جانا ہے اس لیے دوسری گواہی پھر کبھی لینا، جج صاحب نے کہا دوسری گواہی تو کل ہی ہوگی تم نہ آئے تو پھر بھی گواہی ہوگی، وکیل کے جانے کے بعد ہمارے عزیز نے کہا کہ دیکھا جناب وکیل صاحب تو پھر بہانہ بنا کر چلے گئے کیا کرتا اس نے نماز جنازہ کا بہانہ بنایا تھا اور میں کسی کو نماز جنازہ سے نہیں روک سکتا، مگر کل گواہی ضرور ہو گی۔
ہم چیف جسٹس اسلام آباد سے گزارش کریں گے کہ وہ پیشی پیشی کے کھیل پر پابندی لگائیں۔ کیونکہ کوئی بھی گواہ برسوں تک پیشی کے لیے خود کو وقف نہیں کر سکتا، چیف صاحب کے اس فرمان سے انکار کی گنجائش ہی نہیں کہ آزادی بہت مشکل سے حاصل کی گئی ہے انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر جب سچی گواہی ناپید ہو جائے تو انصاف کی فراہمی مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتی ہے، ہمارے خیال میں یہ کہنا بہتر ہوگا کہ انصاف کی فراہمی میں عدم دلچسپی نے انصاف کو ناممکن بنا دیا ہے، کیونکہ سچی گواہی اس لیے ناپید ہوتی جارہی ہے کہ نظام عدل میں گواہی دینا اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ گواہ کو اپنی پیدائش پر افسوس ہونے لگتا ہے سوال یہ ہے کہ سماجی اور اخلاقی اقدار کی بالا دستی قائم کرنا کس کا کام ہے یہ ذمے داری سائلین پر ڈال کر جج اور جسٹس صاحبان اپنی ذمے داری سے بری نہیں ہو سکتے۔