سندھ اور وفاق کراچی کے خلاف ساتھ ہیں

188

وزیراعظم عمران خان کراچی آئے ایک منصوبے پر تختی لگائی اور چلے گئے۔ البتہ جاتے جاتے حکومت سندھ اور وفاق کو کراچی کے لیے ایک ساتھ چلنے کا مشورہ دے گئے۔ بعض اخبارات میں خبر اس طرح شائع کی گئی ہے جیسے دونوں نے کراچی کی خاطر مل کر چلنے کا عزم کرلیا ہے۔ کراچی کا معاملہ ہے کیا۔ حکومت سندھ اور وفاق کے رویوں سے تو محض یہ لگتا ہے کہ کراچی کے وسائل کے لیے یہ دونوں بے چین ہیں، انہیں یہاں سے ملک کو وسائل فراہم کرنے والے اداروں اور صنعتوں کی کوئی فکر نہیں۔ بس تختی لگانے اور تصویر کھنچوانے پر جھگڑے ہیں۔ کس کی تختی کہاں لگے گی، کس منصوبے کا سہرا کس کے سر بندھے گا۔ 2016ء کے ایک منصوبے کی تختی لگانے کے موقع پر دونوں فریق ساتھ کھڑے ہوگئے۔ لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ سندھ حکومت کراچی کے اہم اداروں کو براہِ راست اپنے ماتحت بنا چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان اداروں کا انتظام اور سارا بجٹ سندھ حکومت کے زیر استعمال آگیا ہے۔ بلدیہ کراچی کے مال دار ادارے یا یوں کہا جائے کہ سونے کا انڈا دینے والے اداروں کو سندھ حکومت نے اپنے پاس منتقل کرلیا۔ اس فیصلے کے وقت ایم کیو ایم کے کراچی کے ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد اسمبلی اور بلدیہ کراچی میں موجود تھی لیکن انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ شاید انہیں سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت کراچی کے درد میں مبتلا ہے۔ اس کی جانب سے کراچی کو پیکیج دینے کے اعلانات ہوتے رہتے ہیں لیکن اعلانات کے نتیجے میں کراچی کو ملا کیا ہے۔ اب بھی یہی ہورہا ہے۔ بظاہر سندھ اور وفاق تقریب میں ایک ساتھ کھڑے تھے لیکن جس وقت تقریب چل رہی تھی اور ایک جانب یہ خبر جاری کی جارہی تھی کہ وفاق اور سندھ ساتھ ہیں عین اسی وقت سندھ کے وزیر اطلاعات یہ اطلاع دے رہے تھے کہ کے سی آر کا منصوبہ 2004ء کا ہے۔ اسے مراد علی شاہ نے 2016ء میں اس وقت وزیراعظم سے مل کر بحال کرایا تھا اور اس بنیاد پر وہ وفاق پر تنقید کررہے تھے۔ ان سے بھی سوال کیا جاسکتا ہے کہ 2016ء سے اب تک منصوبہ کیوں معلق تھا۔ معاملہ یہ نہیں ہے کہ سندھ اور وفاق کی حکومتیں کراچی کے لیے کچھ کرنے کے معاملے پر متحد اور متفق ہیں بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ کراچی کے وسائل حاصل کرنے کے لیے دونوں بے چین ہیں اس اعتبار سے یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ کراچی کے خلاف دونوں ساتھ ہیں۔ اگر سندھ حکومت کی کارکردگی سامنے رکھیں تو اس کی کوئی کارکردگی ہی نہیں ہے۔ کراچی کے ساتھ تو ہر معاملے میں منفی رویہ ہے۔ ملازمتیں، ادارے، فنڈز، ٹیکس وغیرہ سب انہیں چاہئیں اور کام دھیلے کا نہیں ہوتا۔ شہر کی سڑکیں، گٹر لائنیں، لائٹس، پارک سب تباہ ہیں۔ صوبائی حکومت یہ بھی بتادے کہ اس نے کراچی کے لیے کون سا منصوبہ بنایا ہے۔ کراچی کے وسائل لوٹنے کے لیے تو اس کا ہر ادارہ متحرک ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف کورونا لاک ڈائون سے سندھ پولیس نے کراچی اور حیدر آباد سے اتنی رقم کمائی ہے جتنی کراچی کے ایک بجٹ میں ہوتی ہے۔ اور اس ساری رقم کا کوئی سرکاری حساب ہی نہیں ہے۔ اسی طرح وفاق اور سندھ کراچی کے خلاف اس طرح ایک ساتھ ہیں کہ وفاق نے بھی کراچی کے لیے کوئی نیا منصوبہ نہیں بنایا ہے۔ کے الیکٹرک کراچی پر مسلط ہے اسے مسلط رکھنے میں وفاق اور سندھ دونوں متفق ہیں۔ لیکن بجلی کا کوئی نیا منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ ٹرانسپورٹ کا جو منصوبہ 2004ء سے معلق ہے اس کا باضابطہ آغاز تو لگتا ہے 2022ء ہی میں ہوسکے گا۔ کراچی کی صنعتوں کے لیے وفاق اور سندھ نے کیا منصوبہ بنایا ہے۔ وفاق کو صرف ٹیکس سے دلچسپی ہے اور نت نئے ٹیکس لگا کر تاجروں کو پریشان کیا جارہا ہے۔ حکمران یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ جتنے ٹیکس لگائیں گے اس سے زیادہ چور دروازے کھلیں گے۔ ٹیکس حکومت کے خزانے میں برائے نام آئے گا، سرکاری اہلکاروں کی جیب میں زیادہ جائے گا۔ وفاق اور سندھ نے کراچی کی ٹرانسپورٹ کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ چنگچی کو فروغ دیا گیا وہ تو بھلا ہو عدالت عظمیٰ کا جس نے اس کو ختم کردیا لیکن وہ حکومت سندھ کی مہربانی سے پھر چل پڑی ہیں۔ کے ٹی سی کی بسیں ختم ہوچکی ہیں، ٹیکسی نہیں چلتی، رکشوں اور ویگنوں کی بھرمار ہے، انسانوں کو جانوروں سے بھی بدتر حالت میں سوار ہو کر پورا کرایہ ادا کرکے سفر کرنا پڑتا ہے۔ وفاق اور سندھ نے کراچی کے خلاف اتحاد کرکے یہاں کی مردم شماری میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کی گنتی ہی نہیں کی۔ اس بنیاد پر وسائل بھی کم دیے گئے۔ اب بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جارہے، کوئی چیز تو ایسی نظر آئے جس سے یہ پتا چل سکے کہ وفاق یا سندھ کراچی کے ساتھ مخلص ہیں، یہ تو کراچی کے خلاف ساتھ دے رہے ہیں اور ایک دوسرے کو برداشت بھی اسی لیے کررہے ہیں کہ لوٹ مار کے مال میں ایمانداری سے ساجھے داری ہوتی ہے۔ وفاق اور سندھ اگر کراچی کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں اور مل کر چلنا چاہتے ہیں تو صرف یہی دو قوتیں کراچی میں نہیں ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دونوں ہی کراچی میں نہیں ہیں۔ اگر کراچی کے مسائل حل کرنے ہیں یا ان پر کوئی سنجیدہ پیش رفت کرنی ہے تو انہیں جماعت اسلامی کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ اس جماعت نے کراچی کی نہ صرف خدمت کی ہے بلکہ اس کے شہریوں کو بلاتخصیص زبان اور علاقہ ان کا حق دلوایا ہے۔ جماعت اسلامی اب بھی شہر کو پانی دلوانے، صفائی، بجلی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ وفاق اور سندھ کی سنجیدگی کا اظہار اسی سے ہوگا کہ وہ کراچی کے لیے جماعت اسلامی کو بھی مشاورت میں شریک کرے اور اس کے مشوروں سے شہر کو ترقی دی جائے۔