قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

100

 

الف لام میم۔ یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہدایت ہے اْن پرہیز گار لوگوں کے لیے۔ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اْن کو دیا ہے، اْس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔ جن لوگوں نے (اِن باتوں کو تسلیم کرنے سے) انکار کر دیا، اْن کے لیے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ (سورۃ البقرۃ:1تا6)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل پر فرمانروائی اور ان کی سیاست انبیاء علیہم السلام کیا کرتے تھے، جب بھی کوئی نبی فوت ہو جاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوجاتا تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ضرور ہوں گے، اور بکثرت ہوںگے۔ (یعنی پھر آپ کے خلفاء امت کی سیاست و قیادت کے منصب پر فائز رہیں گے۔) (بخاری، مسلم)
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: جب تم کو اپنے نیک عمل سے خوشی ہو اور تمہارا برا فعل تم کو رنجیدہ کر دے تو تم مؤمن ہو۔ (مستدرک حاکم)