پاکستان گیس ،بجلی اور کھانے پینے کی اشیاء پر سبسڈی ختم کرے،آئی ایم ایف

174

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے کہا ہے کہ گیس ، بجلی اور کھانے پینے کی اشیاء پر سبسڈی ختم کرے۔ پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ کے لیے مذاکرات اگلے ماہ اکتوبر میں ہوں گے۔ایکسپریس نیوز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے آٹے، گھی، چینی، دالوں اور چاول کے ساتھ گیس اور بجلی پر بھی سبسڈی ختم کرنے کے ساتھ مالی نظم و ضبط قائم کرنے پر زور دیا جارہا ہے جب کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف سے اشیا ضروریہ پر سبسڈی سے متعلقہ شرائط پر چھوٹ حاصل کی جاسکے۔ذرائع کا کہناہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان پر زور دیا جارہا ہے کہ سبسڈی کو مزید محدود کیا جائے اور صرف احساس پروگرام میں شامل افراد ہی کوٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پاکستانی معیشت، اہداف کے حصول، سبسڈی، محصولات اور گردشی قرضہ کی صورتحال کا جائزہ لیاجائے گا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں حکومت کو نہ صرف آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر قرض کی قسط جاری کی جائے گی بلکہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے بھی فنانسنگ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ جس کے لیے پاکستان کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب کیا جائے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو گیس اور بجلی مزید مہنگی کرنی پڑے گی۔