‘چاکلیٹ ہر عمر کی پسندیدہ غذاؤں میں سے ایک ہے’

248

بابا  .. چاکلیٹ کھانی ہے  … چاکلیٹ ہر عمر کے فرد کی پسندیدہ غذاؤں میں سے ایک ہے، خوشی کے موقعوں پر بطور میٹھا کھائی جانے والی چاکلیٹ کا تعلق صرف خوشیوں اور تقریبات سے ہی نہیں بلکہ انسانی صحت کے ساتھ بھی جڑا ہے جسے متعدد بار سائنسی تحقیقات میں بھی ثابت کیا جا چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ناشتے میں چاکلیٹ کھانے سے اس کے فوائد میں اضافہ ہو جاتا ہے  اور ناشتے میں چاکلیٹ کے استعمال کے سبب انسان دن بھر چاک و چوبند اور خوشگوار موڈ میں رہتا ہے۔

طبی و غذائی ماہرین کے مطابق چاکلیٹ کھانے سے صحت پر بے شمار طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں جس میں خوشی کے ہارمونز کا ریلیز ہونا، موڈ کا قدرتی طور پر خوشگوار ہونا اور سر درد جیسی شکایت کا فوری علاج سر فہرست ہے جبکہ چاکلیٹ ذہنی دباؤ سے نجات دلانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

طبی و غذائی ماہرین کے مطابق چاکلیٹ کھانا صحت کے لیے نہایت مفید ہے جبکہ چاکلیٹ کے استعمال پر کی جانے والی متعدد سائنسی تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ خصوصاً ناشتے میں چاکلیٹ کھانے سے اس کے فوائد میں اضافہ ہو جاتا، ناشتے میں چاکلیٹ کے استعمال کے سبب انسان دن بھر چاک و چوبند اور خوشگوار موڈ میں رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق چاکلیٹ کی دو اقسام ہیں، بلیک اور ڈارک (براؤن)  چاکلیٹ، ماہرین کا کہنا ہے کہ براؤن چاکلیٹ دماغ میں سیروٹونین نامی مادہ پیدا کرتی ہے جس سے ذہنی دباؤ سے نجات ملتی ہے، چاکلیٹ بے چینی اور ذہنی تناؤ میں 70فیصد تک کمی لاتی ہے۔

براؤن چاکلیٹ دل کے امراض کی روک تھام کے لیے بھی نہایت مددگار ثابت ہوتی ہے، اس کے استعمال سے فالج کے حملے کے خدشات میں کمی واقع ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق 20 سے 80 عمر کے 968 رضاکاروں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ ناشتے میں چاکلیٹ کھانا دماغی صلاحیت، صحت اور کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے جبکہ تحقیق کے نتائج سے یہ تصدیق شدہ بات ہے کہ ناشتے میں چاکلیٹ کا استعمال اضافی وزن میں کمی لانے میں بھی بے حد معاون ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بلیک چاکلیٹ انسولین کی سطح کو متوازن بناتی ہے اور قلب کے نظام کو صحت مند اور متحرک رکھتی ہے اور بلیک چاکلیٹ صحت کو نقصان پہنچانے والے منفی کولیسٹرول میں کمی کا سبب بنتی ہے اور مثبت کولیسٹرول کو بڑھاتی ہے، بلیک چاکلیٹ کا استعمال بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق صبح 9 بجے سے قبل چاکلیٹ کھانے سے اس کا صحت پر کوئی نقصان نہیں ہوتا جبکہ دن کے درمیانے حصے میں چاکلیٹ کھانے کے سبب یہ فوائد اور  توانائی تو فراہم کرتی ہے مگر اضافی کیلوریز ہونے کے سبب جسم میں ذخیرہ ہوکر چربی پیدا کرنے کا بھی سبب بنتی ہے۔

اگرچہ چاکلیٹ کے متعدد طبی فوائد ہیں اور اسے کئی طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے مگر یہ مضر اثرات سے پاک بھی نہیں،  اس کی بہت زیادہ مقدار کا استعمال موٹاپے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے جبکہ کچھ شواہد ایسے بھی سامنے آئے ہیں کہ چاکلیٹ منشیات کی طرح لوگوں کو اپنا عادی بنادیتی ہے۔

چاکلیٹ میں کچھ ایسے ایسڈ شامل ہوتے ہیں جو طبی نقصانات کا باعث بن سکتے ہیں خاص طور پر گردوں میں پتھری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب بیشتر افراد کے لیے ہوسکتا ہے کہ یہ بری خبر ہو کہ دنیا میں چاکلیٹ ختم ہونے کے قریب ہوگئی ہے جی ہاں واقعی ایسا ہونے والا ہے اور بڑی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں چاکلیٹ کی پیداوار کم ہوتی جارہی ہے اور بہت زیادہ طلب کے باعث ہوسکتا ہے کہ یہ میٹھی سوغات ہماری پہنچ سے باہر ہوجائے۔