پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے ، کراچی چیمبر

80

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیئرمین بزنس مین گروپ (بی ایم جی)، سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) زبیر موتی والا نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ کراچی کے مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ دیں جسے دونوں حکومتوں نے ہی بری طرح نظر انداز کیا ہے جس کی وجہ سے کراچی کا پہلے سے ہی انتہائی خستہ حال انفرااسٹرکچر مزید خراب ہو گیا ہے جہاں سڑکیں، سیوریج اور بارش کے پانی کی نکاسی کی لائنیں بہت ہی خراب حالت میں ہیں جبکہ شہرِ کراچی کو گیس، بجلی اور پانی کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے۔کے سی سی آئی کے 60 ویں سالانہ اجلاس عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بی ایم جی نے کہا کہ ایک بھی سہولت کراچی کو مناسب طریقے سے دستیاب نہیں جو عام طور پر دنیا کے کسی بھی کوسموپولیٹن شہر کو دستیاب ہوتی ہیں پھر بھی یہ شہر قومی خزانے کو 67 فیصد ریونیو دیتا ہے جبکہ مجموعی برآمدات کا 55 فیصد بھی کراچی سے جاری ہے۔ وائس چیئر مین بی ایم جی طاہر خالق، ہارون فاروقی، جاوید بلوانی، جنرل سیکرٹری اے کیو خلیل، نو منتخب صدر کے سی سی آئی محمد ادریس، سینئر نائب صدر عبدالرحمان نقی، نائب صدر قاضی زاہد حسین، سبکدوش صدر شارق وہرہ، سبکدوش سینئر نائب صدر ثاقب گڈ لک، سبکدوش نائب صدر شمس الاسلام خان، چیئرمین خصوصی کمیٹی برائے اسمال ٹریڈرز مجید میمن، سابق صدور، منیجنگ کمیٹی کے اراکین اور جنرل باڈی ممبران کی بڑی تعداد نے اجلاس میں شرکت کی۔ نو منتخب صدر کے سی سی آئی محمد ادریس نے اپنے خطاب میں سراج قاسم تیلی کے مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا جنہوں نے اپنی پوری زندگی بی ایم جی کی عوامی خدمت کی پالیسی کے تحت نہ صرف تاجروصنعتکار برادری بلکہ تمام کراچی والوں کی خدمت کے لیے وقف کی۔